Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2-  "نیند" روایات اسلامی کی روسے

										
																									
								

Ayat No : 41-44

: الزمر

إِنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ ۴۱اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۴۲أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ شُفَعَاءَ ۚ قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا وَلَا يَعْقِلُونَ ۴۳قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا ۖ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۴۴

Translation

ہم نے اس کتاب کو آپ کے پاس لوگوں کی ہدایت کے لئے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اب جو ہدایت حاصل کرلے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو گمراہ ہوجائے گا وہ بھی اپنا ہی نقصان کرے گا اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں. اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلالیتا ہے اور جو نہیں مرتے ہیں ان کی روحوں کو بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ہے اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتا ہے اس کی روح کو روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدّت کے لئے آزاد کردیتا ہے - اس بات میں صاحبان هفکر و نظر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. کیا ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر سفارش کرنے والے اختیار کرلئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ایسا کیوں ہے چاہے یہ لوگ کوئی اختیار نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح کی بھی عقل نہ رکھتے ہوں. کہہ دیجئے کہ شفاعت کا تمام تراختیار اللہ کے ہاتھوں میں ہے اسی کے پاس زمین و آسمان کا سارا اقتدار ہے اور اس کے بعد تم بھی اسی کی بارگاہ میں پلٹائے جاؤ گے.

Tafseer

									 2-  "نیند" روایات اسلامی کی روسے:-
         جو روایات مفسرين نے زیربحث آیات کے ذیل میں ذکر کی ہیں ان سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام میں "نیند" روح کی عالم ارواح کی طرف حرکت کو کہا گیا ہے اور "بیداری" روح کی بدن کی طرف واپس اور ایک قسم کی حیات مجدد ہے۔ 
 ایک حدیث میں امیرالمومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپؑ اپنے اصحاب کو اس طرح تعلیم دیتے تھے: 
  لا ينام المسلم وهوجنب ، لا ينام الا على طهور ، فان لم يجد الماء 
  فليتيم بالصعيد، فان روح المؤمن ترفع الی الله تعالى فيقبلها ویبارك 
  عليها، فان كان اجلها قد حضر جعلها في كنوزرحمته وان لم یکن 
  اجلها قدحضربعث بها مع أمنائه من ملائكته، فيردونها في جسده  
  مسلمان کو چاہیے کہ وہ حالت جنابت میں نہ سوئے، وضوکی طہارت کے بغیر بستر پر نہ جائے ، اور اگر پانی نہ ہو
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------    ؎1      مجمع البیان زیربحث آیہ کے ذیل میں اور تفسیر صافی 
  ؎2     اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اس روایت میں "روح" سے مراد روح حیوانی اور بدن کی اصلی مشینری کا کام کرنا ہے اور "نفس" انسانی کے معنی میں ہے۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 تو ترمیم کرلے کیونکہ مومن کی روح خداوند تعالٰی کی طرف اوپرکو جاتی ہے وہ اسے قبول کرتا اور برکت ہے ، 
 اگر اس کی اجل آخرکو پہنچ گئی ہو تو اسے اپنی رحمت کے خزانوں میں قرار دیا ہے اور اگراجل آخر کو نہ پہنچی ہو تو اپنے امین فرشتوں کے ساتھ اس کے بدن کی طرف پلٹادیتاہے۔ ؎1
         ایک اور حدیث میں امام باقرؑ سے اس طرح منقول ہے: 
  اذا قمت بالليل من منامك فقل ، الحمد لله الذي رد على روحي 
  الاحمده واعبده 
  جس وقت رات کو نیند سے بیدار ہو تو اس طرح کہہ: الحمد لله الذي رد على روحي لاحمدی 
  و اعبد ه. (یعنی حمد خاص اٹھا کے لیے ہے جس نے میری روح کو میری طرف لوٹایا تاکہ میں اس کی حمد و ثناء اس کی عبادت کروں)۔ ؎2
 اس سلسلےمیں اور بھی بہت سی احادیث بیان ہوئی ہیں ۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      خصال صدوق (نوالثقلین جلد 4 ص  488 کے مطابق)
  ؎2     اصول کافي  (والثقلین جلد 4 ص  488 کے مطابق )