1- نبیند کا اسرار آمیز عالم
إِنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ ۴۱اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۴۲أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ شُفَعَاءَ ۚ قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا وَلَا يَعْقِلُونَ ۴۳قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا ۖ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۴۴
ہم نے اس کتاب کو آپ کے پاس لوگوں کی ہدایت کے لئے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اب جو ہدایت حاصل کرلے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو گمراہ ہوجائے گا وہ بھی اپنا ہی نقصان کرے گا اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں. اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلالیتا ہے اور جو نہیں مرتے ہیں ان کی روحوں کو بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ہے اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتا ہے اس کی روح کو روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدّت کے لئے آزاد کردیتا ہے - اس بات میں صاحبان هفکر و نظر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. کیا ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر سفارش کرنے والے اختیار کرلئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ایسا کیوں ہے چاہے یہ لوگ کوئی اختیار نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح کی بھی عقل نہ رکھتے ہوں. کہہ دیجئے کہ شفاعت کا تمام تراختیار اللہ کے ہاتھوں میں ہے اسی کے پاس زمین و آسمان کا سارا اقتدار ہے اور اس کے بعد تم بھی اسی کی بارگاہ میں پلٹائے جاؤ گے.
چند نکات
1- نبیند کا اسرار آمیز عالم :-
نیند کی حقیقت کیا ہے اور کیا ہوجاتا ہے کہ انسان سوجاتا ہے ؟ اس سلسلہ میں ماہرین نے بہت بحث کی ہے :
بعض اس کو خون کے اہم حصے کے دماغ سے نکل کر بدن کے دوسرے حصوں میں انتقال کا نتیجہ سمجھتے ہیں اوراسی طرح سے وہ اس کے لیے طبیعیاتی عامل کے قائل ہیں۔
بعض دوسروں کا نظریہ یہ ہے کہ جسم کی زیادہ کارکردگی کی وجہ سے ایک خاص زہریلا مواد بدن میں جمع ہوجاتا ہے اور یہی چیز نظام اعصاب پر اثرانداز ہوتی ہے اور انسان پر نیند کی حالت طاری ہوجاتی ہے اور جب تک وہ زہر تحلیل ہوکر بدن میں جذب نہیں ہوجاتا یہ حالت برقرار رہتی ہے ۔ اس طرح سے وہ اس کے لیے کیمیائی عامل کے قائل ہیں۔
ایک اور گروہ نیند کے لیے ایک قسم کے اعصابی عامل کا قائل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اعصاب کی خاص فعال مشین جو انسان کے دماغ کے اندار ہے اور جو اعضاء کی حرکات کا مبدء ہے، وہ زیادہ تھکان کے زیر اثر بے کار اور معطل ہوجاتا اور خاموش ہو جاتا ہے ۔
لیکن ان میں سے کوئی نظریہ بھی نیند کے مسئلے تسلی بخش جواب نہیں دے سکا، اگرچہ ان عوامل کی اجمالی طور پر تاثیر کا انکار نہیں کیاجاسکتا۔
ہمارا خیال یہ ہے کہ جو چیز اس بات کا سبب بنی ہے کہ موجودہ ماہرین نیند کی واضح تفسیر بیان کرنے عاجزرہ گئے ہیں وہ ان کا ویی مادی تفکرہے ، وہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کی روح کے استقلال اوراصالت کو قبول کیے بغیر تفسیرکریں . حالانکه ننید اس سے پہلے کہ وہ ایک جسمانی پیدا ہونے والی چیز ہوا کی روحانی چیز ہے جس کی روح کی صحیح شناخت کے بغیر تفسیر کرنا ناممکن ہے۔
قرآن مجید نے مذکورہ بالا آیات میں نیند کے مسئلے کی ایک دقیق ترین تفسیر بیان کی ہے ، کیونکہ وہ کہتا ہے کہ نیند ایک قسم کاقبض روح اورروح کی جسم سے جدائی ہے لیکن مکمل جدائی نہیں۔
اس طرح سے میں وقت حکم خدا سے انسان کے بدن سے روح کا پر تو ختم ہوجاتا ہے اور اس جسم کے اوپر اس میں سے ایک ہلکی سی شعاع کے سوا کچھ نہیں رہتا تو ادراک و شور کی مشینری معطل ہوجاتی ہے اور انسان کی حس وحرکت رک جاتی ہے۔ اگرچہ کچھ عمل جو اس کی حیات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، مثلاً دل کا دھڑکنا اور خون کی گردش اورعمل تنفس و تغدیر برقرار رہتا ہے۔
کی حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے قول ہے:-
ما من احد ينام الاعرجت نفسه الى السماء و بقيت روحه في بدنه، و
صار بينهما سبب کشعاع الشمس ، فان أذن الله في قبض الروح اجابت
روح النفس ، وان اذن الله في رد الروج اجابت النفس الروح
فهو قوله سبحانہ الله يتوفي الا نفس حین موتھا.....
جو شخص سوجاتا ہے، اس کا نفس آسمان کی طرف صعود کرجاتا ہے اور روح اس کے بدن میں رہ جاتی
ہے اور ان دونوں کے درمیان سورج کی شعاعوں کی طرح ربط قائم رہتا ہے ۔ جس وقت خدا انسان کی
روح کے قبض کرنے کا حکم صادر فرماتا ہے تو روح نفس کی دعوت قبول کرلیتی ہے اوراس کی طرف پرواز
کے جاتی ہے لیکن جب خداروح کو واپسی کی اجازت دیتا ہے تو پھر نفس روح کی دعوت قبول کرلیتا ہے اور
بدن کی طرف لوٹا آتا ہے اور یہی معنی ہے اور خداند سبحان کے ارشاد کا جوفرماتاہے: الله يتو فى الانفس حین موتها۔ ؎1 ۔؎2
یہاں ضمنی طور سے خواب کے بار ے میں ایک اور اہم مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے کیونکہ بہت سے ایسے خواب میں جو بعینہ یاتھوڑے سے
تغیرکے ساتھ خارج میں واقع ہو جاتے ہیں۔
بادی تفسیریں اس قسم کے خوابوں کی توجیہ کرنے سے عاجز ہیں، جبکہ روحانی تفسیریں اس مسئلے کو اچھی طرح سے راضح کرسکتی ہیں، کیونکہ انسان کی روح بدن سے جدا ہونے اور عالم ارواح سے ارتباط کے وقت بہت سے گزشتہ اور آئندہ سے مربوط حقائق جان لیتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو سچے خوابوں کی بنیاد ہے۔ (مزید وضاحت کےلیے تفسیر نومونہ کی جلد 9 سورة یوسف کی آیہ 4 کے ذیل میں رجوع فرمائیں جہاں اس سلسلے میں تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے) ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ