Tafseer e Namoona

Topic

											

									  موت اور نیند کے وقت ارواح قبض ہو جاتی ہیں

										
																									
								

Ayat No : 41-44

: الزمر

إِنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ ۴۱اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۴۲أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ شُفَعَاءَ ۚ قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا وَلَا يَعْقِلُونَ ۴۳قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا ۖ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۴۴

Translation

ہم نے اس کتاب کو آپ کے پاس لوگوں کی ہدایت کے لئے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اب جو ہدایت حاصل کرلے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو گمراہ ہوجائے گا وہ بھی اپنا ہی نقصان کرے گا اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں. اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلالیتا ہے اور جو نہیں مرتے ہیں ان کی روحوں کو بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ہے اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتا ہے اس کی روح کو روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدّت کے لئے آزاد کردیتا ہے - اس بات میں صاحبان هفکر و نظر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. کیا ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر سفارش کرنے والے اختیار کرلئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ایسا کیوں ہے چاہے یہ لوگ کوئی اختیار نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح کی بھی عقل نہ رکھتے ہوں. کہہ دیجئے کہ شفاعت کا تمام تراختیار اللہ کے ہاتھوں میں ہے اسی کے پاس زمین و آسمان کا سارا اقتدار ہے اور اس کے بعد تم بھی اسی کی بارگاہ میں پلٹائے جاؤ گے.

Tafseer

									  تفسیر
               موت اور نیند کے وقت ارواح قبض ہو جاتی ہیں 
 دلائل توحید کے ذکراورمشرکین و موحدین کا انجام بیان کرنے کے بعد زیر بحث پہلی آیت میں اس طرح حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے کہ حق کو قبول کرنے اور نہ کرنے کا سود و زیاں خود تمھارے ہی لئے ہے ، اگر اللہ کا نبی ا س سلسلے میں اصرار کرتا ہے تویہ اس بنا پر نہیں ہے کہ اسے اس سے کوئی فائدہ ہوگا بلکہ یہ توصرف فریضۂ الہی کی انجام دی ہے ۔ فرمایا گیا ہے: تم نے اس آسمانی کتاب کوحق کے ساتھ تم لوگوں کے لیے نازل کیا ہے  (انا انزلنا عليك الكتاب للناس بالحق)۔ ؎1 
 جوشخص ہدایت قبول کرے گا خوداسی کے فائدے میں ہے اور جوشخص گمراہی اختیار کرے گا تو ا س کا نقصان بھی اسی کوہوگا۔ (فمن اهتدى فلنفسه ومن ضل فانمايضل علیها)۔ 
 بہرحال "توحق کو ان کے دلوں میں جبرًا داخل کرنے پر مامور نہیں ہے"، تیری ذمہ داری توصرف ابلاغ و انذار ہے (وما كانت عليهم بوكيل)۔ 
 جوشخص راہ حق اختیار کرے گا اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا اور جوشخص بے راہ روی اختیار کرے گا اس کا نقصان بھی خود اسی کو ہوگا ۔ یہ امر آیات قرآنی میں بارہابیان ہوا ہے اور یہ اس حقیقت پر ایک تاکید ہے کہ خدا کو نہ تو بندوں کے ایمان کی احتیاج ہے اور نہ ہی ان کے کفرسے اسے کوئی وحشت ہے اور نہ ہی اس کے پیغمبر کو اس سے کوئی وحشت ہے اس نے یہ پروگرام اس لیے مرتب نہیں کیا ہے کہ اس سے اسے کوئی فائدہ ہو ، بلکہ اس لیے ہے تاکہ اپنے بندوں پر مہربانی اور کرم کرے۔ 
 "وماانت عليهم بوكيل"  کی تعبیر (اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وکیل یہاں اس شخص کے معنی میں ہے 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 
تکرانات 
  ؎1  "بالحق" ممکن ہے کہ "کتاب"  کے لیے حال  (انزلنا) میں فاعل کے لئے حال هو - اگرچہ پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے
            اس بنا پر آیت کا مفهوم اسی طرح ہے کہ 
 ہم نے قرآن کو اسی حالت میں تجھ پر نازل کیا ہے کہ وہ حق کے ہمراہ اور ہمگام ہے۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جوگمراہوں کے ایمان لانے کی ذمرواری رکھتا ہو) قرآنی آیات میں اسی عبارت کے ساتھ یا اس کے مشابہ عبارت سے بارہا تکرار ہوئی ہے اور یہ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ لوگوں کے ایمان لانے کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ اصولاً ایمان جبر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں ۔ نبی تو صرف اس بات کا زمہ دار ہے کہ خدا کا فرمان لوگوں تک پہنچانے میں لمحہ بھر بھی کوتاہی اور سستی نہ کرے ، چاہے وہ اسے قبول کریں یا اس  سےروگرداں ہوجائیں۔ 
 اس کے بعد یہ واضح کرنے کے لیے کہ انسانوں کی ہر چیز، جن میں ان کی موت وحیات بھی ہے ، خدابی کے ہاتھ میں ہے فرمایاگیا ہے : خدا ارواح کو موت کے وقت قبض کرلیتا ہے۔  (اللہ يتو في الانفس حین موتها )۔ ؎1 
 اوران ارواح کو جن کی موت نہیں آئی ہوتی نیندیں میں کرلیتا ہے ( والتي لم تمت في منامها)۔ ؎2 
 اس طرح سے "نیند"  "موت" کی بہن ہے اور اس کی ایک کمزورشکل ہے ، کیونکہ نیند کے وقت روح کا جسم سے رابطہ بہت ہی کم رہ جاتا ہے اور ان دونوں کے بہت سے رشتے منقتلع ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : کہ ان کی ارواح کوجن کی موت کا حکم صادر کرچکا ہے روک لیتا ہے (اس طرح سے کہ وہ ہرگز نیند سے بیدار نہیں ہوتے) اور جن کی حیات کے برقرار رہنے کا فرمان دے چکا ہے ان کی ارواح انھیں بدنوں کی طرف لوٹا دیتا ہے جوایک معین مدت تک رہیں گی (فيعسك التي قضٰى عليها الموت ويرسل الاخرٰي الٰى اجل مسمًی)۔ 
 ہاں اس مسئلے میں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں واضح آیات اور نشانیاں ہیں  (ان في ذالك لآيات القوم يتفكرون). 
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس آیت سے درج ذیل امور کا بخوبی علم ہوجاتاہے۔ 
 1- انسان روح اور جسم سے مرکب ہے ، روح ایک غیر مادی جوہر ہے جس کا جسم کے ساتھ ارتباط اس کے لیے نور اور حیات کا سبب ہے۔ 
 2- موت کے وقت خدا اس رابط کو منقطع کر دیتا ہے اور روح کو عالم ارواح کی طرف لے جاتا ہے اور نیند کے وقت بھی اس روح کو قبض کر لیتا ہے۔ لیکن اس طرح سے نہیں کہ بالکل ہی رابطہ منقطع ہوجائے۔ اس بنا پر روح بدن کے لیے تین حالتیں رکھتی ہے۔ (ارتباط تام (حیات و بیداری کی حالت)، ارتباط ناقص (نیند کی حالت) اور کامل طور پر ارتباط کا منقطع ہونا (موت کی حالت) 

 3- نیند، موت کی کمزورحالت ہے اور موت نیند کامکمل نمونہ ہے۔ 
 4- نیند روح کے استقلال اور اصلت کی دلیل ہے، خصوصًاجب کو خواب اور وہ بھی سچے خواب کے ساتھ ہو تو پھریہ معنی زیادہ واضع ہوجاتاہے۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کے قریہ سے۔  
  ؎1      "توفي"  کا معنی قبض کرنا اور پورے طور پر پکڑ لینا ہے اور "انفسی" یہاں اوراح کے معنی میں ہے۔ "يتوفی " کے قرینہ سے 
  ؎2      "منام" مصدری معنی رکھتا ہے اور "نوم " نیند کے معنی میں ہے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 5- بعض ارواح کا جب نیند کی حالت میں ان کا جسم کے ساتھ رابطہ کمزور ہوجاتا ہے توکبھی تو یہ ارتباط ممکل انقطاع کی صورت اختیار کر لیتا ہے ، اس طرح سے کہ وہ سونے والے پھرکبھی بیدار نہیں ہوتے ، لیکن دوسری روحیں نیند اور بیداری کی حالت میں متحرک رہتی ہیں یہاں تک کہ حکم الٰہی نہ آپہنچے۔ 
 6- اس بات کی طرف توجہ کہ انسان ساری رات نیند کے وقت موت کے آستانہ پر ہوتا ہے ایک درس عبرت ہے کہ اگروه اس میں غوروفکر کرے تو اس کی بیداری کے لیے کافی ہے۔ 
 7- یہ تمام امور خدا کی قدرت کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں اور اگر دوسری آیات میں "ملک الموت" اور موت کے فرشتوں کے ہاتھوں قبض روح کی بات آئی ہے تو وہ ا س لحاظ سے ہے کہ وہ حق تعالٰی کے فرمان کی تعمیل کرنے والے اور اس کے اوامر کو جاری کرنے والے ہیں اور ان دونوں مفاہیم کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ 
 بہرحال یہ جو آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ "اس میں ایسے لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں، واضح نشانیاں ہیں"۔ اس سےمراد خدا کی قدرت کی نشانیاں ، مبدء ومعاد کامسئلہ اور خدا کے ارادے کے سامنے انسان کی کمزوری و ناتوانی ہے۔ 
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
گزشتہ آیت میں انسان کے وجود پراللہ کی حاکمیت اور موت و حیات اور خواب و بیداری کے نظام کے ذریعے اس کی تدبیر مسلم ہوچکی ہے ۔ لہذا بعدوالی آیت میں مسئلہ شفاعت میں مشرکین کے انحراف کا ذکر کیاگیا ہے تاکہ ان پر ثابت کیا جائے گا شفاعت کا مالک وہی ہے جو موت و حیات کا مالک ہے نہ کہ بے شعوربت - فرمایا گیا ہے: انھوں نے خدا کے علا وہ شفیع بنالیے ہیں (ام اتخذوا من دون الله شفیاء)۔ ؎1 
 ہم جانتے ہیں کہ بتوں کی عبادت کے بارے میں بت پرستوں کے مشہور بہانوں میں سے ایک یہ تھا کہ وہ یہ کہتے تھے :- 
  ہم توان کی اس لیے پرستش کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع ہوں ۔ 
 جیسا کہ اسی سورہ کے شروع میں بیان ہواہے :- 
  مانعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفي (زمر ـــــــــــ 3)
 چاہے اس بنا پر کہ وہ بتوں کوفرشتوں اور ارواح مقدسہ کی تمثال اور مظاہر سمجتے تھے اور چاہے اس لیے کہ وہ ان بے جان پتھروں اور لکڑیوں کے لیے کسی پراسرار قدرت کے قائل تھے۔ 
 بہرحال شفاعت اولاً فہم وشعور کے ادراک کی فرع ہے اور ثانیًا قدرت ، مالکیت اور حاکمیت کی فرع ہے لہذا آیت کے آخرمیں ان کے جواب میں فرمایا گیا: ان سے کہہ دے کہ کیا ان سے شفاعت طلب کرتے ہوا چاہے وہ کسی بھی چیز کے مالک نہ ہوں، یہانتک کہ کچھ ادراک و شعوربھی نہ رکھتے ہوں ( قل ولو كانوا لا يملكون شيئا ولا يعقلون)۔ 2 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1       "ام" یہاں منقطعہ ہے اور "بل" کے معنی میں ہے اور اگر متصل ہوتواس کے مقابلے میں دوسرا "اما" مقدر ماننا پڑے گا جو خلاف ظاہر ہے۔ 
  ؎2       "اولو كانوا لا يملكون شيئا" کا جملہ کچھ مقدار رکھتا ہے اورمعنی کے لحاظ سے اس طرح ہے :- 
 ایشفعون لكم ولو كانوا لا يملكون شيئا