2- لطف خدا کا ذکر
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ۳۶وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انْتِقَامٍ ۳۷
کیا خدا اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے اور یہ لوگ آپ کو اس کے علاوہ دوسروں سے ڈراتے ہیں حالانکہ جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے. اور جس کو وہ ہدایت دیدے اس کا کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے کیا خدا سب سے زیادہ زبردست انتقام لینے والا نہیں ہے.
2- لطف خدا کا ذکر :
انسان حوادث کی تندو تیز ہوا کے سامنے گھاس کے ایک تنکے کے مانند ہے اور ہروقت کسی بھی طرف پھینکا جاسکتا ہے ممکن ہے کہ گھاس کا یہ تنکاکسی پتے یا ٹوٹی ہوئی شاخ کے ساتھ جا ملے لیکں تیز ہوا ان دونوں کو ہی اڑالے جائے، یہاں کہ اگر وہ کسی درخت کے ساتھ جاچپکے توممکن ہے کبھی طوفان درخت کوبھی اکھاڑلے جائے لیکن اگر وہ کسی بہت بڑے پہاڑ کے ساتھ جڑ جائے تو کوئی بھی طوفان اسے اس کی جگہ سے نہیں ہلاسکتا۔
یہ پہاڑ توخدا پرایمان کا دوسرا نام ہے اور باقی جو کچھ بیان ہوا وہ اس کے غیر پربھروسہ کرنے کی طرح ہے اور اسی بنا پرمذکررہ بالا آیات میں قرآن کہتا ہے:
اليس الله بكاف عبده
کیا خدا اپنے بندے کی حمایت کے لیے کافی نہیں ہے؟
اس آیت کے مضمون و مطالب پر توجہ اورایمان انسان کو بہت زیادہ شجاعت اور اعتماد ذات بخشتا ہے ، اس کے دل کو آرام و سکون دیتا ہے تاکہ سخت حوادث کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح ڈٹ جائے ، دشمنوں کی کثرت سے نہ ڈرے اور ساتھیوں کی کمی سے نہ گبھرائے اور شدید بحران اس کا روحانی سکون درہم برہم نہ کرے جیسا حدیث میں آیا ہے:
المؤمن الجبل الراسخ لا تحركه العواصف
مومن مضبوط پہاڑ کی طرح ہے اسے تندوتیز آندھیاں اپنی جگہ سے نہیں ہلاسکتیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ