Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ایک وضاحت 

										
																									
								

Ayat No : 36-37

: الزمر

أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ۳۶وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انْتِقَامٍ ۳۷

Translation

کیا خدا اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے اور یہ لوگ آپ کو اس کے علاوہ دوسروں سے ڈراتے ہیں حالانکہ جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے. اور جس کو وہ ہدایت دیدے اس کا کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے کیا خدا سب سے زیادہ زبردست انتقام لینے والا نہیں ہے.

Tafseer

									  ایک وضاحت 
             قرآن مجید ایک بار کہتاہے: 
  يضل به كثيرًا ويهدي به كثيرًا ومايضل به الاالفاسقين 
  وه ان ضرب الامثال کے ذریعے بہت سوں کو گمراہ اور بہت سوں کو ہدایت کرتا ہے لیکن فاسقوں کے
  علاوہ اور کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ (بقره ــــــــــ 26) 
  یہاں ضلالت کا سرچشمہ فسق اور اطاعت و فرمان الٰہی سے خروج کوشمار کیا گیا ہے 
 ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے: 
  و الله لا يهدي القوم الظالمين 
  خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔ (بقره ـــــــــ258 )۔ 
 یہاں ظلم کا ذکر ہے اور اسی ضلالت کے لیے میدان ہموار کرنے والے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ 
 دوسری جگہ ہے :
  والله لا يهدي القوم الكافرين 
  اللہ کا فرقوم کو ہدایت نہیں کرتا۔  (بقره ــــــــــ264 )
 یہاں کفرکا گمراہی کے لیے زمین ہموارکرنے والے کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے۔ 
 ایک اور آیت بیان ہوا ہے۔ 
  ان الله لا يهدي من ھوکاذب کفار 
  خدا جھوٹے اور کفران کرنے والے کو ہدایت نہیں کرتا۔  (زمر ـــــــــــ 3)۔ 
  ایک دوسری جگہ آیا ہے:- 
  أن الله لايهدي من هو مسرف كذاب 
  خدا بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے اوراسراف کرنے والے کو ہدایت نہیں کرتا ۔ 
      (مؤمن ــــــــ 28)
 یعنی اسراف اور دروغ گوئی گمراہی کے عامل ہیں۔ 
 البتہ ہم نے جو کچھ یہاں پر بیان کیا ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیات کا ایک حصہ ہے ، ان آیات میں سے بعض انھیں مفاہیم کے ساتھ مختلف سورتوں میں بار بار آئی ہیں ۔ 
 نتیجہ کلام یہ ہے کہ قرآن خدائی ضلالت کو ایسے افراد کے ساتھ مخصوص شمار کرتا ہے جو ان اوصاف کے حامل ہیں ؛ کفر، ظلم ،فسق ، دروغ ، اسراف کفران - 
 کیا وہ لوگ جوان اوصاف کے حامل ہیں وہ ضلالت و گمراہی کے لائق نہیں ہیں ؟ 
 دوسرے لفظوں میں جو شخص ان امور کا مرتکب ہوتا ہے کیا اس کے دل پر تاریکی کے پردے نہیں پڑجاتے؟ 
 زیادہ واضح عبارت میں ان اعمال و صفات کے کچھ آثار میں خواہ مخواہ انسان کو دامن گیر ہوجاتے ہیں، اس کی آنکھ ، کان اورعقل پر، پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے ضلالت و گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ 
 چونکہ سب چیزوں کی خاصیت اور تمام اسباب کی تاثیر حکم خدا سے ہے، اسی بنا پران تمام مراحل میں گمراہ کرنے کی نسبت خداکی طرف دی جاسکتی ہے لیکن یہ نسبت بندوں کاعین اختیار اورارادے کی آزادی ہے۔ 
 یہ بات تو ہوئی ضلالت و گمراہی کے سلسلے میں، باقی رہا ہدایت کے سلسلے میں تو اس کے لیے بھی قرآن میں کئی شرائط و اوصاف بیان ہوئے ہیں ، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ بھی علت و سبب کے بغیر نہیں ہے اور حکمت الٰہی کے برخلاف نہیں ہے۔ 
 اوصاف کا ایک حصہ جو استحقاق ہدایت پیداکرتا ہے اور لطف الٰہی کھینچتا ہے۔ ذیل کی آیات میں آیا ہے، ایک جگہ بیان ہوا ہے۔ 
  يهدی به الله من اتبع رضوانه سبل السلام ويخرجهم من الظلمات الى 
  النور باذنه ويهديهم الى صراط مستقیم 
  خدا قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا وخوشنودی کی پیروی کرتے ہیں ، سلامتی 
  کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے اور اپنے حکم سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف سے جاتا ہے 
  اورانھیں راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے۔
     (مائدہ ــــــــــــــــــ 16)۔
  یہاں فرمان خدا کی پیروی اوراس کی خوشنودی کے حصول کو ہدایت الٰہی کے لیے راہ ہموار کرنے والا شمار کیاگیا ہے۔ 
  دوسری جگہ بیان ہوا ہے : 
  ان الله يضل من يشاء ويهدي اليه من اناب 
  خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو شحص اس کی طرف رجوع اور بازگشت کرےاس کی ہدایت کرتا ہے،( رعد ــــــــ 27)۔ 
 یہاں توبہ وانا بت کو استحقاق ہدایت کاعامل شمارکیا گیا ہے : 
 ایک دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے :
  والذین جاهدوا فينا لنهد ینهم سبلنا 
  جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کریں کہ انھیں اپنے راستوں کی طرف ہدایت کرتے ہیں ۔ (عنکبوت ــــــــــــ 69)۔
 یہاں پر "جہاد" وہ بھی مخلصانہ جہاد، جوخدا کی راہ میں ہو ، ہدایت کی اصلی شرط کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ 
 ایک دوسری آیت میں بھی بیان ہوا ہے :
  والذين اهـتدوا زادهم هدی 
  جنھوں نے ہدایت کے لیے پہلے قدم اٹھالیے ہیں ، خدا ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے۔ ( محمد ــــــــــ 17)۔
  یہاں راہ ہدایت کی کچھ مقدار کو طے کرلینا ، لطف خدا سے اس راستے سے جاری رہنے کی ایک شرط کے عنوان سے ذکرہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب تک بندوں کی طرف سے توبہ وانا بت نہ ہو، جب تک وہ اس کے فرمان کے پیرونہ بنیں، جب تک جہاد اور سعی و کوشش نہ کریں اور جب تک راہ حق میں پہلا قدم اٹھائیں لطف الہی ان کے شامل حال نہیں ہوتا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں مطلوب تک نہیں پہنچاتا۔ 
 جو ان اوصاف کے حامل ہیں کیا ایسے افراد کے لیے ہدایت کا حصول بے سبب ہے یا کیا یہ ہدایت کے جبری ہونے کی دلیل شمار ہوگی ؟ 
 آپ دیکھ رہے ہیں کہ قرآن کی آیات اس سلسلے میں بہت واضح اورمنہ بولتی ہیں ۔ البتہ وہ لوگ جو آیات ہدایت و ضلالت کی صحیح طورسے جمع بندی نہ کرسکے یا انھوں نے جمع کرنا نہ چاہا ہے وہ اس قسم کی خطرناک غلطی میں گرفتار ہو گئے ہیں اور بقولے: 
   چوں ندیدند حقیقت، ره افسانہ زدند 
  (چونکہ حقیقت کو نہ دیکھ پائے لہذا افسانے کی راہ اختیار کرلی) 
 یہ کہنا چاہیے کہ اس "ضلالت" کے لیے زمین انھوں نے خود ہموار کی ہے۔ 
 بہرحال مشیت الٰہی کی ہدایت و ضلالت کی مذکورہ آیات ہرگزبے دلیل اور حکمت و مصلحت سے خالی مشیت کے معنی میں نہیں ہیں، بلکہ ہر موقع و محل پر اس کی خاص شرائط ہیں جو اسے خدا کے حکیم ہونے کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہیں۔