Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- ہدایت اورضلالت خدا کی طرف سے ہے

										
																									
								

Ayat No : 36-37

: الزمر

أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ۳۶وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انْتِقَامٍ ۳۷

Translation

کیا خدا اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے اور یہ لوگ آپ کو اس کے علاوہ دوسروں سے ڈراتے ہیں حالانکہ جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے. اور جس کو وہ ہدایت دیدے اس کا کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے کیا خدا سب سے زیادہ زبردست انتقام لینے والا نہیں ہے.

Tafseer

									  چند نکات 
 1- ہدایت اورضلالت خدا کی طرف سے ہے: 
        لغت میں ہدایت کا معنی دلالت و رہنمائی ہے جو دقیق طور پر اور اس کے ساتھ ہو۔ ؎1 
 اسے دو حصوں تقسیم کیا گیا ہے ایک "ارائه طريق" (راستہ دکھانا) اور "ایصال به مطلوب" دوسرے لفظوں "ہدایت تشریعی" اور" ہدایت تکوینی"۔ ؎2 
 اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ بعض اوقات انسان ایسے شخص کو پوری وقت اورلطف و عنایت کے ساتھ راستہ دکھاتا ہے۔ 
جواس کا طالب ہے، لیکن راستہ طے کرنا اور مقصود تک پہنچنا خود اس کے ذمہ ہوتا ہے۔ 
 لیکن کبھی طالبان مقصد کاہاتھ پکڑ کےکرراستہ دکھانے کے علاوہ اسے مقصد تک بھی پہنچا دیا جاتا ہے۔ 
 دوسرے لفظوں میں پہلے مرحلے میں صرف قوانین واحکام بیان کر کے راستہ طے کرنے کی شرائط وحالات اور مقصد تک پہنچنے کو بیان کر دیا جاتا ہے ، لیکن دوسرے مرحلے میں اس کے علاوہ سفر کے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں ، رکاوٹوں کو دور کیا جاتا ہے مشکلات حل کی جاتی ہیں اور اس راستے کے مسافروں کی مقصد تک ہمراہی ، حفاظت اور حمایت کی جاتی ہے۔ 
 البتہ اس کا متضاد "اضلال" ہے۔ 
 آیات قرآنی پر ایک اجمالی نگاه ہی اچھی طرح سے واضح کر دیتی ہے کہ قرآن ہدایت و ضلالت کو خدا کافعل شمارکرتا ہے اور دونوں کی اپنی طرف نسبت دیتا ہے ۔ اگر ہم اس سلسلے کی تمام آیات شمار کریں تو بات لمبی ہوجائے گی بس اتنا ہی کافی ہے کہ سورة بقرہ کی آیہ 213 میں یہ بیان ہوا ہے: 
  والله يهدي من يشاء الٰى صراط مستقیم 
  خدا جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔ 
 نیز سورۂ نحل کی آیہ 93 میں یہ بیان ہواہے: 
  ولكن يضل من يشاء ويهدي من يشاء 
  لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ 
 ہدایت و ضلالت دونوں کے بارے میں یا ان دونوں میں سے ایک کے متعلق ایسی ہی تعیبر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں نظر آتی ہے۔ ؎3 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      مفرادت مادہ "ھدی"
  ؎2     غور کیجیے کہ یہاں ہدایت تکونی ایک وسیع معنی میں لی گئی ہے اس میں قوانین کو بیان کرنے اور راستہ دکھانے کے علاوہ ہر طرح کی ہدایت  شامل ہے۔ 
  ؎3     مثال کے طور پر دیکھے، فاطر-8  ، زمر-33 ، مدثر - 31 ، بقرہ - 272 ، انعام - 88 ، یونس - 25 ، رعد-27 ، اور ابراہیم ۔ 4
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 اس سے بڑھ کریہ کہ بعض آیات میں صراحت کے ساتھ پیغمبراسلامؐ سے نفی کی ہے اور کی طرف نسبت دی ہے، چنانچہ سورہ قصص کی آیہ 56 میں ہے۔ 
  انك لاتهدى من احببت ولكن الله يهدي من يشاء 
   تو جسے چاہے ہدایت نہیں کر سکتا لیکن خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ 
 سورة بقرہ کی آیہ 272 میں ہے: 
  ليس علياك هداهم ولكن الله يهدي من يشاء 
  انھیں ہدایت کرنا تیرے ذمہ نہیں ہے لیکن خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ 
 ان آیات کے سطحی مطالعے اور ان کے عمیق اور گہرے معنی کا ادراک نہ کرنے کے باعث ایک گروہ ان کی تفسیر کرنے میں گمراہ ہوگیا اور راہ ہدایت سے انحراف کر بیٹھا اور اس نے مکتب جبر کو اختیارکرلیا۔ یہاں تک کہ بعض مشہور مفسربھی اس آفت سے محفوظ نہ رہ سکے اوراسی ہولناک گڑھے میں جاگرے ، یہاں تک کہ انھوں نے ہدایت وضلالت کو تمام مراحل میں جبری سمجھ لیا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ چونکہ اس عقیدہ مسئلہ عدالت الٰہی اورحکمت خداوندی سے تضاد واضح تھا لہذا اسے ترجیح دیتے ہوئے اصل عدالت کے ہم منکر ہوگئے تاکہ اپنی غلطی کی اصلاح کرلیں، اصولاً اگر ہم اصول جبر کے قائل ہوں تو پھر شرعی ذمہ داری رسولوں کے بھیجنے اور آسمانی کتابوں کے نازل کرنے کا کوئی مفہوم ہی باقی نہیں رہ جاتا ۔ 
 لیکن وہ لوگ جو مکتب اختیار کے طرف دار ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی عقل سلیم اس بات کو قبول نہیں کرسکتی کہ خدا کسی گروہ کو و ضلالت و گمراہی کا راستہ طے کرنے پرمجبور کرے اور پھراس جبری کام کی وجہ سے اسے سزابھی دے یاکسی گروہ کو ہدایت پرمجبور کرے اوراس کے بعد بغیرکسی وجہ سے انھیں جزابھی دے اور ایسے کام کی وجہ سے جسے انھوں نے خود سے انجام نہیں دیا ہے انھیں دوسروں پرامتیاز بھی دے، ان لوگوں نے ان آیات کی تفسیر کے لیے دوسرے راستے اختیار کیے ہیں، جن میں سے زیاده اہم حسب ذیل ہیں۔ 
 1- ہدایت الٰہی سے مراد بات تشریعي ہے ، جووحی ، آسمانی کتابوں اور پیغمبروں اور ان کے اوصیاء کے ذریعے اور اسی طرح عقل وجدان کے ادراک سے صورت پذیر ہوتی ہے۔ لیکن تمام مراحل میں راستہ طے کرنا خود انسان کے اپنے ذمہ ہے۔ 
 البتہ یہ تفسیر ہدایت والی بعض آیات کے ساتھ ہم آنگ ہے لیکن دوسری بعض آیات کی یہ تفسیرنہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ صراحت کے ساتھ "ہدایت تکوینی" اور "ایصال به مطلوب" کے بارے میں ہیں ۔ مثل سورہ قصص کی آیہ 56 میں ہے کہ : 
  تو جس شخص کو پسند کرے ہدایت نہیں کرسکتا لیکن خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ 
 کیونکہ ہم جا نتے ہیں کہ ہدایت شریعی اور راستہ دکھانا پیغمبروں کی اصلی ذمہ داری ہے۔ 
 2- مفسرین کی ایک اور جمآعت نے ہدایت وگمراہی کی اس مقام پر جہاں وہ تکوینی پہلورکھتی ہے، جزا وسزا اور بہشت و دوزخ کے راستے تک پہنچانے کے معنی میں تفسیرکی ہے ، انھوں نے یہ کہا ہے کہ خدا نیکوکاروں کو بہشت کے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے اور بدکاروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے۔  
  البتہ یہ معنی بھی صرف بعض آیات کے بارے میں صحیح ہے لیکن دوسری آیات کے بارے میں لفظ ہدایت وضلالت کے مطلق ہونے اور ان میں کسی قسم کی قیدوشرط نہ ہونے کی وجہ سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ 
 3- ایک اور جماعت نے یہ کہا ہے کہ ہدایت سے مراد مقصود تک پہنچنے کے اسباب و مقدمات فراہم کرنا ہے اور ضلالت سے مردان کو مہیانہ کرنا یا انھیں حذف کرنا ہے بعض نے اسے "توفیق" اور "سلب توفیق" سے تعبیر کیا ہے ۔ کیونکہ  توفیق سے مراد مقصود تک پہنچنے کے لیے مقدمات کا فراہم ہونا اور سلبِ توفیق انہیں اٹھالینا ہے۔ 
 اس بنا پر خدا کی بات اس طرح نہیں ہے کا خدا جبری طور پر انسانوں کو مقصد تک پہنچا دے بلکہ اس طرح ہے کہ ا س کے وسائل انھیں مہیا کردے۔ مثلا اچھے مربی کا ہونا تربیت کے ماحول کا صحیح ہونا، دوستوں اور ساتھ دینے والوں کا صالح و نیک ہونا اور اسی قسم کی دوسری چیزیں سب کی سب مقدمات ہیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود انسان کو ہدایت کا راستہ طے کرنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ وہ ان سب کو پس پشت ڈال کر راہ ضلالت کو اختیار سکتے ہیں ۔ 
 لیکن اس تفسیر میں اس سوال کی گنجائش رہ جاتی ہے کہ یہ تو فیقات ایک گروہ کے شامل حال کیوں ہوتی ہیں ، جبکہ دوسراگرده ان سے محروم رہتا ہے۔ 
 اس تفسیر کے طرفداروں کو خدا کے افعال کے حکیمانہ ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس فرق کے دلائل ذکر کرنا پڑیں گے۔ مثلاً یہ کہیں کہ عمل خیر انجام دینا توفیق الٰہی کا سبب بنتا ہے اور اعمال شرانجام دینا انسان سے توفیق سلب کرلیتا ہے۔ 
بہرحال یہ ایک اچھی تفسیر ہے لیکن مطلب پھربھی اس سے زیادہ گہرا ہے۔ 
 4- دقیق ترین تفسیر جو ہدایت و ضلالت کی تمام آیات سے ہم آہنگ ہے اوران سب کا مفہوم اچھی طرح سے واضح کرتی ہے بغیر اس کے کہ اس میں کوئی معمولی سا بھی خلاف ظاہر پایا جائے یہ ہے کہ ہم کہیں کہ : 
 ہدایت تشریعی راستہ دکھانے کے معنی میں جنبہ عمومی رکھتی ہے اورکسی قسم کی قید و شرط اس میں نہیں ہے۔ جیسا کہ سورہ دہر کی آیہ 3 میں بیان ہواہے کہ :
  انا هديناه السبل أماشاکرًا و اماکفورًا 
  ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا ہے اب چاہے وہ شکر گزاری کرے یا کفران ناشکری کرے۔ 
 
 نیزسورة الشورٰی کی آیہ52 میں یہ بیان ہوا کہ :
  وانك لتهدي الٰى صراط مستقیم 
  تو تمام انسانوں کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے۔  
 یہ بات واضح ہے کہ نبی کی دعوت خدا کی دعوت کی مظہر ہے کیونکہ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے۔ 
 اور منحرفین اور مشرکین کی ایک جماعت کے بارے میں سورہ نجم کی آیہ 23 میں 
  ولقد جاءهم من ربهم الهدٰی 
  خدائی ہدایت پروردگار کی طرف سے ان کے پاس آئی ۔  
 لیکن ہدایت تکوینی جس کا معنی ہے ایصال بہ مطلوب اور بندوں کا ہاتھ پکڑ کر راستے کے تمام پیچ وخم سے گزار کرلے جانا اور ان کی حفاظت کرنا ، ساحل نجات تک پہنچانے تک یہ 
بہت سی دوسری آیات کا موضوع بحث ہے ۔ یہ ہدایت ہرگزغیرمشروط نہیں ہے یہ ہدایت ایسے گروہ کے ساتھ مخصوص ہے جس کے اوصاف قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور گمراہ کرنا جو اس کا الٹ ہے وہ بھی ایک ایسے گروہ کے ساتھ مخصوص ہے جس کے اوصاف قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور گمراہ کرنا جو اس کا الٹ ہے بھی ایک ایسے گروہ کے ساتھ مخصوص ہے کہ جن کے اوصاف بیان ہوچکے ہیں۔ 
 اگربعض آیات مطلق ہیں، لیکن بہت سی دوسری آیات نے ان کی قیدوشرط کووقت کے ساتھ بیان کردیا ہے اور جس وقت ان مطلق اور مقید آیات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاکر رکھیں توپھر مطلب پورے طور پر واضح ہوجاتا ہے اور آیات کے معنی میں کسی قسم کا ابہام اورترد و باقی نہیں رہتا اور وہ نہ صرف یہ کہ انسان کے اختیار اور ارادے کی آزادی کے خلاف نہیں ہے بلکہ پوری طرح اس کی تاکید کرتا ہے۔ 

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ