پہلا صدیق کون تھا؟
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ ۳۲وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ۳۳لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ ۳۴لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ ۳۵
تو اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر بہتان باندھے اور صداقت کے آجانے کے بعد اس کی تکذیب کرے تو کیاجہّنم میں کافرین کا ٹھکانا نہیں ہے. اور جو شخص صداقت کا پیغام لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ درحقیقت صاحبانِ تقویٰ اور پرہیزگار ہیں. ان کے لئے پروردگار کے یہاں وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہتے ہیں اور یہی نیک عمل والوں کی جزا ہے. تاکہ خدا ان برائیوں کو دور کردے جو ان سے سرزد ہوئی ہیں اور ان کا اجر ان کے اعمال سے بہتر طور پر عطا کرے.
پہلا صدیق کون تھا؟
بہت سے مفسرین اسلام نے ، خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت " والذي جاء بالصدق وصدق به" کی آیت کی تفسیرمیں یہ نقل کیا ہے کہ " الذي جاء بالصدق" سے مراد پیغمبراکرمؐ ہیں اور "صدق به" سے مراد علیؑ ہیں۔
اسلام کے بزرگ مفسرطبری نے مجمع البیان میں اور ابو الفتوح رازی نے روح الجنان میں اس چیز کو آئمہ اہل بیت سےنقل کیا ہے۔
ا ہل سنت کے علماء اور مفسرین کی ایک جماعت نے اسے پیغمبر اسلامؐ سے ابوہریرہ کی وساطت سے یا دوسرے طرق سے روایت کیا ہے ۔ مثلًا:
علامہ ابن مغازلی نے مناقب میں، غلامہ گنجی نے کفاۃ الطالب میں بمشهور مفسرقرطبی نے اپنی تفسیرمیں، علامہ سیوطی نے درالمنشورميں اوراسی طرح سے آلوسی نے روح المعانی میں۔ ؎1
جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ اس قسم کی تفاسیر روشن ترین اور زیادہ واضح مصادیق بیان کے لیے ہوتی ہیں اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ علیؑ ، پیغمبر اسلامؐ کے پیروکاروں اور آپ کی تصدیق کرنے والوں میں سب سے مقدم تھے اور پہلے "صديق" آپؑ ہی ہیں۔
علماء اسلام میں سے کوئی بھی اس حقیقت کا منکر نہیں ہے علیؑ مردوں میں سے شخص ہیں جنھوں نے پیغمبر اسلامؐ کی تصدیق کی ہے
بعض کی طرف سے تنقید کی گئی ہے وہ صرف اس بات پر ہے کہ آپؐ ایمان لانے کے وقت 10 یا 12 سال کے تھے اور آپؑ کا اسلام اس عمر میں قانونی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔
لیکن یہ بات ہی عجیب نظرآتی ہے کیونکہ یہ بات کس طرح سے صحیح ہے جبکہ پیغمبراسلامؐ نے اسے قبول کرلیا ہے اورانھیں اپنا"وزیر" و "وصی" کہہ کر خطاب کیا اور پیغمبراسلام کے ارشادات میں انھیں بارہا "اول المؤمنين" یا "اولكم اسلامًا" (مومنین میں سے پہلا یا تم میں سے جو سب سے پہلے اسلام لایا ) کے نام کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے کہ جس کے مدارک ہم اہل سنت کے علماء کی کتب سے اسی تفسیرکی آٹھویں حبہ سورہ توبہ کی آیہ 10 کے ذیل تفصیل سے بیان کر چکے ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مزید واضاحت کے لیے احقاق الحق جلد سوم ص 177 اور المراجعات ص 64 مرجعہ 12 کي طرف رجوع کریں ۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------