جوکلام خدا کی تصدیق کرتے ہیں
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ ۳۲وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ۳۳لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ ۳۴لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ ۳۵
تو اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر بہتان باندھے اور صداقت کے آجانے کے بعد اس کی تکذیب کرے تو کیاجہّنم میں کافرین کا ٹھکانا نہیں ہے. اور جو شخص صداقت کا پیغام لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ درحقیقت صاحبانِ تقویٰ اور پرہیزگار ہیں. ان کے لئے پروردگار کے یہاں وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہتے ہیں اور یہی نیک عمل والوں کی جزا ہے. تاکہ خدا ان برائیوں کو دور کردے جو ان سے سرزد ہوئی ہیں اور ان کا اجر ان کے اعمال سے بہتر طور پر عطا کرے.
تفسیر
جوکلام خدا کی تصدیق کرتے ہیں
گزشتہ آیات میں میدان قیامت میں لوگوں کے حاضر ہونے اور اس عظیم عدالت میں ان کے جھگڑے کے بارے میں گفتگوتھی۔
ان آیات میں بھی وہی بحث جاری ہے اور لوگوں کو دوگروہوں"مکذبین اور "مصدقین" میں تقسیم کر رہی ہیں۔
پہلا گروہ دو صفات کا حامل ہے ، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:
اس سے زیادہ ستم گر اور کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے اور سچی اور حق بات جو اس کے پاس آئے اس کی تکذیب کرے۔ (فمن اظلم ممن کذب على الله وكذب بالصدق اذ جاءه)۔
بےایمان اور مشرک اور خدا پر بہت ہی زیادہ جھوٹ باندھا کرتے تھے ۔ کبھی فرشتوں کو خدا کی بٹیاں کہتے تھے کبھی عیسٰیؑ کواس کا بیٹا کہتے تھے۔ کبھی بتوں کو اس کی بارگاہ میں شفیع قراردیتے تھے اورکبھی حلال وحرام کے سلسے میں جھوٹے احکام گھڑلیا کرتے تھے اوراس کی طرف منسوب کردیاکرتے تھے اور اسی قسم کی دوسری باتیں ۔
باقی رہی وه سچی بات جو ان کے پاس آئی اور انھوں نے اس کی تکذیب کی وہ وہی آسمانی وحی قرآن مجید ہے۔
آیت کے آخر میں ایک مختصرسے جملہ میں اس قسم کے افراد کی سزا اس طرح بیان کی گئی ہے : کیا ان کافروں کے رہنے کی کا نہیں ہے؟ (اليس في جهنم مثوى للکافرين)۔
جب "جہنم" کا نام لیا جاتا ہے توباقی درد ناک عذاب کا بھی اس میں خلاصہ بیان ہو جاتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوسرے گروہ کے بارے میں بھی دواوصاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اور جو شخص سچی اور حق بات لے کر آئے اور وہ شخص جو اس کی تصدیق کرے، وہی توواقعی پرہیزگار ہیں (والذي جاء بالصدق وصدق به او لئك هم المتقون)۔
اہل بیت کی بعض روایات میں "والذي جاء بالصدق " کی پیغمبراکرمؐ سے تفسیر بیان ہوئی ہے۔ ان میں "وصدق بہ" سے علی عیہ السلام مرادلیے گئے ہیں۔ ؎2 لیکن اس سے مراد واضح مصداق کا بیان ہے کیونکہ" اولئك هم المتتون" (وہی تو متقی ہیں) کا جملہ آیت کی عمومیت کی دلیل ہے۔
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس آیت سے ذات پیغمبر مراد لینا جو وحی کے لانے والے بھی ہیں اوراس کے تصدیق کرنے والے بھی، بیان مصداق ہی ہوناچاہیے نہ کہ آیت کے تمام مفہوم کا بیان۔
اسی لیے بعض مفسرين نے "والذي جاء بالصدق" سے تمام پیغمبر مراد لیے ہیں اور "صدق به" سے ان کے سچے پیروکار مراد لیے ہیں جن میں دنیا کے تمام پرہیزگارشامل ہیں۔
اس آیت کی ایک اورعمده تفسیر موجود ہے جو سب سے زیادہ وسیع اور جامع تر ہے، اگرچہ مفسرین نے بہت کم اس کی طرف تکہ کی ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "مثوی" "ٹواء" کے مادہ سے ہے اوراس کامعنی ہے ایساقیام جو دائمی ہو اس بنا پر "مثویٰ یہاں ہمیشگی کی اوردائمی جگہ کے معنی میں ہے۔
؎2 مجمع البیان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
لیکن وہ آیات کے ظاہر کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے اور وہ یہ ہے کہ "الذي جاء بالصدق" وحی کا پیغام لانے والوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ تمام ایسے افراد جوان کے مکتب کے مبلغ تھے اورحق و صداقت کی باتوں کے مروج رہے ہیں اس صف میں شامل ہیں اور اس صورت میں کوئی امرمانع نہیں ہے کہ دونوں جملے ایک ہی گروہ منطبق ہوں (جیساکہ آیت کی تعبیر کا ظاہر ہے، کیونکہ "والذي" صرف ایک مرتبہ ذکر ہوا ہے )۔
گویا یہ گفتگو ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جوصدق اور سچائی کے لانے والے بھی ہیں اوراس پرعمل کرنے والے بھی ۔ یہ ان لوگوں کی بات ہے جنہوں نے مکتت وحی اور پروردگار کی حق بات کو سارے عالم میں نشر کیا ہے اور خود اس پر ایمان رکھتے ہیں، چاہے وہ انبیاء و مرسلین ہوں یا کے مکتب کو بیان کرنے والے۔
" تو یہ بات قابل توجہ ہے کہ وحی کے بجائے "صدق" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صرف وہ بات جس میں جھوٹ اور غلطی کا احتمال نہیں ہے، وہی ہے جو وحی کے ذریعے پروردگار کی طرف سے نازل ہوتی ہے اور تقوٰی و پرہیزگاری صف مکتب انبیاء کی تعلیمات کے سائے میں اور اس کی دل وجان سے تصدیق کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
بعد والی آیات میں ایسے لوگوں کیلئے تین عظیم اجر بیان کیے گئے ہیں، پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ جو کچھ بھی چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے موجود ہے اور نیکو کاروں کی یہی تو جزا ہے۔( لهم ما يشاءون عند ربهم ذالك جزاء المحسنين)۔
اس آیت کے مفہوم کی وسعت اس قدر ہے کہ تمام روحانی اور مادی نعمتیں اس میں شامل ہیں وہ سب کچھ ہمارے تصور اور وہم و گمان میں سما سکے یانہ سما سکے۔
بعض نے یہاں ایک سوال پیش کیا ہے کیا اگروہ انبیاء و اولیاء کے مقامات کاتقاضا کریں جو خودان سے برترہیں تو وہ بھی ان دیا جائے گا؟
یہ سوال کرنے والے اس حقیقت سے غافل ہیں کہ بہشتی لوگ چونکہ حقیقت بین آنکھ رکھتے ہیں اس لیے وہ ہرگزایسی چیز کی فکرمیں نہیں پڑیں گے جوحق و عدالت کے برخلاف اوراہليت وجزا کے قانون کے برخلاف ہے۔
دوسرے لفظوں میں اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ وہ افراد جو ایمان و عمل کے مختلف درجات میں ہیں۔ ان کی ایک جیسی جزاہو، بہشتی ایک محال چیزکی آرزو کیسے کریں گے؟ اس کے باوجود وہ روحانی طور پراس طرح ہیں کہ جو کچھ ان کے پاس ہے اچی پرراضی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی حسد پایا ہی نہیں جاتا۔
ہم جانتے ہیں کہ آخرت کے اجزا، یہاں تک تفضلات الہی تھی ان اہلیتوں کی بنیاد پر ہیں جو انسان اس دنیامیں حاصل کرتا ہے، جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا ایمان وعمل اس دنیامیں دوسرے کے ایمان وعمل کے برابر نہیں تھا وہ کبھی بھی ان کے مقام کی آرزونہیں
کرے گا کیونکہ یہ ایک غیر منطقی آرزو ہے۔
"عند ربهم" (ان کے پروردگار کے نزدیک) کی تعبیر ان کے بارے میں انتہائی لطف الہی کا بیان ہے گویا وہ ہمیشہ کے لیے اس کے مہمان ہیں اور وہ جوکچھ چائیں گے اس کے پاس موجود پائیں گے۔
" ذالك جزاء المحسنين (یہ ہے نیکوکاروں کی جزا) اس میں ضمیر کے بجائے اسم ظاہر سے استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان جزاؤں کی علت اصلی ان کی نیکی ہی ہے۔
ان کی دوسری اور تیسری جزا اس صورت میں بیان کی گئی ہے : وہ چاہتے ہیں کہ خدا ان کے ان بدترین اعمال کو جوانھوں نے انجام دیئے ہیں بخش دے اوران کی تلافی کر دے، انھیں ان کے ان بہترین اعمال کا جوانھوں نے انجام دیئے ہیں اجر عطا کرے۔ (لیكفرالله عنهم اسوء الذين عملوا ويجزيهم اجرهم باحسن الذي كانوا يعملون)۔
کتنی عمدہ تعبیر ہے؟ ایک طرف تو وہ یہ تقاضا رکھتے ہیں کہ ان کے بدترین اعمال لطف الٰہی کے سایے میں چھپادیئے جائیں اورتوبہ کے پانی سے یہ داغ ان کے دامن سے دھل جائیں اور دوسری طرف سے ان کا یہ تقاضا ہے کہ خدا ان کے بہترین اعمال کو اجرو پاداش کا معیار قرار دے اور ان کے تمام اعمال کو اسی حساب سے قبول کرلے۔
خداوند تعالٰی نے بھی ان کی درخواست کو اسی تعبیر کے ساتھ قبول کر لیا ہے جیساکہ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے یعنی وہ بدترین کو بخش دے گا اور بہترین کو اجرو پاداش کا معیار قرار دے گا۔
یہ بات ظاہر ہے کہ وقت بڑی بڑی لغزشیں عفوالٰہی کی مشمول ہوجائیں ، تو باقی تو بطریق اولٰی مشمول ہوجائیں گی۔ عمدہ بات یہ ہے کہ انسان کی سب سے زیادہ پریشانی بڑی بڑی لغزشوں کے بارے میں ہی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے مومنین کو زیادہ تر اسی کی فکر ہے۔
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کیا گزشتہ آیات میں گفتگو کو پیغمبروں اور ان کے پیروکاروں کے بارے میں ہی نہیں تھی ؟ وہ بڑی بڑی لغزشیں اس طرح کرتے ہیں ؟
اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب کسی فعل کی کسی گروہ کی طرف نسبت دی جاتی ہے تواس کا مفہوم یہ نہیں ہوتا کہ وہ سب کے سب اس فعل کے مرتکب ہوئے تھے بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ ان میں سے کچھ نے اسے انجام دیا ہو مثلاً ہم کہتے ہیں کہ بنی عباس نے رسول اللہؐ کی مسند خلافت پرناحق قبضہ کیا تھا، تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ سب کے سب خلافت تک پہنچے تھے بلکہ کافی ہے کہ ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو۔
زیر بحث آیت میں بھی پیغام وحی لانے والوں اور ان کے مکتب کے پیروکاروں میں سے بعض کی کچھ لغزشیں تھیں جن سے خدا ان کے نیک اعمال کی وجہ سے درگزر کرے گا۔
بہرحال غفران و بخشش کاذکراجرو ثواب سے پہلے اس بنا پر ہے کہ پہلے انہیں اپنے آپ کو پاک و صاف کرناچاہیے اس ے بعد قرب خدا کی بساط پر قدم رکھیں۔ پہلے عذاب الہی سے آسوده خاطر ہولیں کہ جنت کی نعمتیں انھیں نصیب ہوں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اس بارے میں "لیکفرالله عنهم" کسی سے متعلق ہے مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر کیے ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے جو کچھ زیادہ مناسب نظرآتا
ہے یہ ہے "احسنوا" متعلق فعل ہے جو "المحسنين" سے سمجھ میں آتا ہے اور وہ تقدیر میں اس طرح ہے۔
(ذالك جزاء المحسنين احسنوا لیکفر الله عنه ....)
ہاں انھوں نے نیکیاں کیں تاکہ خدا ان کی لغزشوں کو بخش دے اور انھیں بہترین اجر دے ۔
-۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------