شان نزول
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ۲۳أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَقِيلَ لِلظَّالِمِينَ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ ۲۴كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ ۲۵فَأَذَاقَهُمُ اللَّهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ۲۶
اللہ نے بہترین کلام اس کتاب کی شکل میں نازل کیا ہے جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں کہ ان سے خوف خدا رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس کے بعد ان کے جسم اور دل یاد خدا کے لئے نرم ہوجاتے ہیں یہی اللہ کی واقعی ہدایت ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرمادیتا ہے اور جس کو وہ گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے. کیا وہ شخص جو روز هقیامت بدترین عذاب کا بچاؤ اپنے چہرہ سے کرنے والا ہے نجات پانے والے کے برابر ہوسکتا ہے اور ظالمین سے تو یہی کہا جائے گا کہ اپنے کرتوت کا مزہ چکھو. اور ان کّفار سے پہلے والوں نے بھی رسولوں علیھ السّلام کو جھٹلایا تو ان پر اس طرح سے عذاب وارد ہوگیا کہ انہیں اس کا شعور بھی نہیں تھا. پھر خدا نے انہیں زندگی دنیا میں ذلّت کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہرحال بہت بڑا ہے اگر انہیں معلوم ہوسکے.
شان نزول
بعض مفسرین نے عبدالله بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ ایک دن پیغمبراکرمؐ کے اصحاب کی ایک جماعت نے جو ملالتِ قلبی پیدا کرچکی تھی ۔ عرض کیا : اے رسول خداؐ!
کیا ہی اچھا ہوتاکہ آپ کوئی ایسی ہدایت کی بات ہمارے لیے بیان کرتے جس سے ہمارے دلوں سے ملالت و رنجیدگی کا زنگ اترجاتا؟اس موقع پر ان آیات میں سے پہلی آیت نازل ہوئی اور
اس میں قرآن کا "احسن الحدیث کے عنوان سے تعارف کروایا گیا ؎1