Tafseer e Namoona

Topic

											

									  تفسیر

										
																									
								

Ayat No : 23-26

: الزمر

اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ۲۳أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَقِيلَ لِلظَّالِمِينَ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ ۲۴كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ ۲۵فَأَذَاقَهُمُ اللَّهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ۲۶

Translation

اللہ نے بہترین کلام اس کتاب کی شکل میں نازل کیا ہے جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں کہ ان سے خوف خدا رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس کے بعد ان کے جسم اور دل یاد خدا کے لئے نرم ہوجاتے ہیں یہی اللہ کی واقعی ہدایت ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرمادیتا ہے اور جس کو وہ گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے. کیا وہ شخص جو روز هقیامت بدترین عذاب کا بچاؤ اپنے چہرہ سے کرنے والا ہے نجات پانے والے کے برابر ہوسکتا ہے اور ظالمین سے تو یہی کہا جائے گا کہ اپنے کرتوت کا مزہ چکھو. اور ان کّفار سے پہلے والوں نے بھی رسولوں علیھ السّلام کو جھٹلایا تو ان پر اس طرح سے عذاب وارد ہوگیا کہ انہیں اس کا شعور بھی نہیں تھا. پھر خدا نے انہیں زندگی دنیا میں ذلّت کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہرحال بہت بڑا ہے اگر انہیں معلوم ہوسکے.

Tafseer

									  تفسیر
  گزشتہ آیات میں ان بندگان خدا کے بارے میں گفتگوتھی جو تمام باتیں سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں اور ایسے کشادہ سنیوں اور شرح صدر کے بارے میں گفتگو ہوئی تھی جو کلام حق قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔ 
 اب زیر بحث آیات میں اسی مناسبت سے قرآن کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے تاکہ گزشتہ مباحث کی تکمیل کرتے ہوئے و توحید و معاد کے حلقوں کے ساتھ نبوت کے دلائل کے حلقے کا بھی اضافہ ہوجائے۔ ارشاد ہوتا ہے : خدانے بہترین حدیث اور بہت اچھی گفتگو بھیجی ہے (الله نزل احسن الحديث )۔ 
 اس کے بعد قرآن کے تین امتیازات بیان کرتے ہوئے اس آسمانی کتاب کی یوں توصیف کی گئی ہے: 
 یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات ہم آہنگ اور ہم صدا ہیں اور لطافت و زیبائی اور بیان کی گہرائی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ (کتابًا متشابهًا)۔ 
 " متشابها" سے یہاں ایسا کلام مراد ہے جس کے مختلف حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم رنگ ہم آہنگ ہیں ، ان کے درمیان کسی قسم کا تضاد اور اختلاف نہیں ہے ایسا نہیں کہ اس کی آیتیں کچھ اچھی اور کچھ بری ہوں، بلکہ ایک سے ایک بہترہے ۔
 یہ انسانی باتوں کی طرح نہیں ہے کہ جن میں جس قدر بھی غور کیا جائے اور جوں جوں وہ وسیع ہوتی جاتی ہیں ان میں خواہ نہ خواہ اختلافات حامل ہوجاتا ہے۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    یہ شان نزول کچھ مختلف الفاظ میں تفسیر کشاف (جلد  4 ص 123 و تفسیر قرطبی ، تفسیر الوسی اورتفسیرابوالفتح رازی وغیرہ میں زیربحث آیات کے ذیل میں بیان ہوئی ہے 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------  
 اب دونوں حالتیں جو "سلوک الی اللہ" کی منزلوں اور مختلف مرحلوں کی نشاندہی کرتی ہیں، پورے طور پرقابل ادراک ہیں ، آیات غضب اور پیغمبر کا مقام انزار دلوں کو لرزادیتا ہے اس کے بعد رحمت والی آیتیں انھیں سکون بخشتی ہیں ۔
 حق تعالی کی ذات کے بارے میں غورفکراوراس ذات پاک کی ابدیت وازلیت اور لامتناہی ہونے کا مسئلہ انسان کو وحشت زدہ کردیتا ہے کہ اسے کس طرح پہچانا جاسکتا ہے لیکن انفس و آفاق میں اس ذات پاک کے آثار و شواہد کا مطالعہ اسے سکون و آرام بخشتا ہے۔ ؎1 
 تاریخ اسلام مومنین کے دلوں پر بلکہ غیرمومن افراد کے دلوں پر بھی کہ جن کے دل میں اہل تھے قران کی عجیب و غریب تاثیر کی نشانیوں سےبھری پڑی ہے، اور تاثیر اورانتہائی زیادہ کشش اس بات کی واضح و روشن دلیل ہے کہ کتاب وحی کی صورت میں نازل ہوئی ہے۔ 
 ایک حدیث میں حضرت اسماء سے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: 
  كان اصحاب النبي حق اذا قرء عليهم القران كما نعتهم الله ــ تدمع 
  اعينهم و تقشعر جلودهم 
  اصحاب پیغمبر کے سامنے جس وقت قرآن کی تلاوت ہوتی تھی ـــــ جیساکہ قرآن نے ان کی تعریف 
  توصیف کی ہے ــــــــ ان کی آنکھیں اشکبار ہوجاتی تھیں اور وہ لرزہ براندام ہوجاتے تھے ۔2 ؎3
 امیرالمومنین علیؑ نے پرہیزگاروں کے بارے میں یہ حقیقت اعلٰی ترین طریقے سے بیان فروائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں :۔ 
  اما الليل فصافون اقدامهم تالين لاجزاء القرأن يرتلونها 
  ترتیلا یحزنون به انفسهم  و يستثيرون به دواء دائهم ، 
  فاذامروابايةفيهاتشویق رکنوااليهاطمعًاوتطلعت نفوسهم 
  اليها شوقًا ، وظنوا انها نصب اعينهم، واذامروا باية فيها
  تخویف اصغوا اليها مسامع قلوبهم وظنواان زفير جهنم و
  شهيقها في اصول أذانهم 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   "تقشعر"  " قشعريره"  کے مادہ سے بے جس کے لیے ارباب لغت اور مفسرین نے مختلف معانی بیان کیے ہیں ۔ یہ معانی ایک دوسرے سے کچھ زیاده مختلف نہیں ہیں۔ بعض نے اسے بدن کی جلد کے جمع ہوجانے کے معنی میں (وہ حالت جو انسان کو خوف کے وقت عارض ہوجاتی ہے )۔ بعض اسے اس لرزش کے معنی میں سمجھا ہے۔ جو ایسے موقعوں پر جسم میں پیدا ہو تی ہے اور بعض اسے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجانے کے معنی میں سمجھتے ہیں اور حقیقت میں یہ سب کے سب معانی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم . (مفردات راغب، لسان العرب ، تفسیر کشاف ، تفسیرروح المعانی اور قرطبی کی طرف رجوع کریں)۔ 
  ؎2    تفسیر قرطبی جلد 8 ص 5693 
  ؎3    آیات قرآن کی انتهای تاثیر کے سلسلےمیں متعدد روایات ہم تفسیر نمونہ کی تیسری جلد میں بیان کر چکے ہیں۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  وہ رات کو صف بستہ ہوتے ہیں، ٹھہرٹھہر کر غوروفکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اپنی 
  روح کو اس کے ساتھ دل پذیر غم مستغرق کرلیتے ہیں اور اپنے درد کی دوا اس سے طلب کرتے ہیں جس 
  وقت ایسی آیت سامنے آتی ہے ہیں جس میں تشویق ہو تو ا س کے ساتھ دل بستگی پیدا کرتے ہیں ، ان کی 
  ورح کی آنکھیں کمال شوق سے چمک اٹھتی ہیں اور وہ اسے اپنانصب العین بنالیتے ہیں اور وقت وہ کسی 
  ایسی آیت پر پہنچتے ہیں جس میں انداز و تخویف ہوتی ہے تو اسے دل کے کانوں کے ساتھ سنتے ہیں، گویا
  نالہ وفریاد کی صدائیں اور جہنم کے مہیب شعلوں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی آوازیں ان کے کانوں 
  میں گونج رہی ہوں ۔ 
 یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد آیت کے آخرمیں فرمایاگیا ہے : "اس کتاب میں خداکی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ساتھ ہدایت کرتا ہے  (ذالك هدي الله يهدی به من يشاء). 
 یہ درست ہے کہ قرآن سب کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے لیکن صرف حق طلب ، حقیقت کے جویا اور پرہیزگار اس کے نور ہدایت سے فائدہ اٹھائیں گے اور جنہوں نے اپنے دل کے دریچے جان بوجھ کر اس کے سامنے بند کر لیے ہیں اورتعصب اور ہٹ دھرمی کی تاریکی ان کی روح پرچھائی ہوئی ہے ، وہ نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ عناد اور دشمنی کی وجہ سے ان کی ضلالت و گمراہی میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس گفتگو کے بعد فرمایا گیا ہے: اور ہر شخص کوخدا گمراہ کرد ے اس کے لیے کوئی ہادی و راہنما نہیں ہوگا۔ (و من يضلل الله فما له من هاد)۔ 
 وہ گمراہی جس کی بنیادیں خود اس کے اپنے ہاتھ کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں اور اس کی بنیادیں ا س کے غلط اعمال کی وجہ سے مضبوط ہوئی ہیں اوراسی بنا پریہ بات انسانوں کے اصول اختیار اور آزادی ارادہ کے ہرگز منافی نہیں ہے۔ 
   ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  
 بعد والی آیت میں ظالموں اور مجرموں کا مومنین کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے، جن کی کیفیت پہلے بیان ہوچکی ہے تاکہ اس سے حقائق بہترطور سے واضح ہوجائیں ۔ فرمایا گیا ہے: کیا وہ شخص جو اپنے چہرے سے خدا کے دردناک عذاب کو دور کرلیتا ہے، اس شخض کی طرح ہے جواس دن انتهائی امن و امان کے ساتھ بسر کرے گا اور ہرگز جہنم کی آگ اس تک نہ پہنچے گی (افمن بتقي بوجهه سوء العذاب يوم القيامة )۔ ؎1 
 وہ نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا ضروری ہے ، یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے: 
  وہ اپنے چہرے کے ساتھ عذاب کو اپنے سے دور کرلے گا۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   اس جملے میں ایک محذوف ہے اور یہ تقدیرمیں اس طرح ہے :
 فمن يتقي بوجهه سوء العذاب يوم القيامة كمن هو امن لا تمسه النار 
 کیا وہ شخص جو اپنے چہرے سے دردناک عذاب دور کرلیتا ہے اس شخص کے مانند ہے جو امن میں ہے اورآگ اس تک  نہیں پہنچتی ۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
 یہ تعبیر اس بنا پر ہے کیونہ "وجهه" (چہرہ) انسان کے اشرف اعضاء میں سے ہے اور انسان کے اہم حواس (آنکھ ، کان ،ناک اور زبان) اس میں موجودہیں اوراصولی طور پر انسان کی پہچان بھی چہرے کے ذریعے ہی ہوتی ہے اور ان ہی وجوہات کی بنا جس وقت اسے کوئی خطرہ ہوتا ہے تو اپنے ہاتھ، بازو اور جسم کے دوسرے اعضا کو اس کے سامنے ڈھال بنالیتا ہے تاکہ خطرہ دورکر ے۔ 
 لیکن دوزخی ظالموں کی حالت اس دن کچھ اس طرح کی ہوگی کہ انھیں اپنے چہرے کے ساتھ ہی اپنا دفاع کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے ہاتھ پاؤں توزنجیر  میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ  سورہ یٰس کی آیہ 8 میں ہے: 
  ہم نے ان کی گردن میں طوق ڈال رکھے ہیں (اوران کے ہاتھوں کو ان کے ساتھ جکڑا ہوا ہے) ان کے 
  طوق اہڑیوں تک پہنچے ہوئے ہوں گے ، لہذا ان کے سر اوپر کی طرف ہوں گے۔ 
 بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ تعبیر اس بنا پر ہے کہ انہیں منہ کے بل آگ میں ڈالا جائے گا۔ لہذا ان کا پہلا عضو جواگ میں پہنچے گا وہ ان کا چہرہ ہے، جیسا کہ سورہ نمل کی آیہ 90 میں ہے :
  ومن جاء بالسيئة فكبت وجوههم في النار 
  اورجولوگ برا  کام انجام دیں کے وہ منہ کے بل آگ میں ڈالے جائیں گے۔ 
 کبھی یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تعبیر صرف جہنم کی آگ کے مقابلے میں ان کا اپنا دفاع نہ کرسکنے کے لیے کنایہ ہے۔ 
 یہ تینوں تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اورممکن ہے کہ یہ سب آیت کے مفهوم میں جمع ہوں۔ 
 اس کے بعدایت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے : اس دن ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کیاکرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو (وقيل للظالمين ذوقوا ماکنتم تكسبون ) 
 ہاں! عذاب کے فرشتے ان سے یہ درد ناک حقیقت بیان کریں گے کہ یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جو تمھارے سامنے آۓ ہیں اور تمہیں تکلیف دے رہے ہیں اور یہ بیان خود ان کے لیے ایک اور روحانی اذیت ہوگی ۔ 
قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ اپنے اعمال کی سزا اور عذاب بھگتو بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ اپنے اعمال کو چکھو اور بات "تجسم اعمال" پر بھی ایک اور شاہد ہے۔ 
   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 اب تک جو کچھ بیان ہوا ہے وہ قیامت میں ان کے لیے دردناک عذاب کی طرف ایک اشارہ تھا۔بعد والی آیت ان کے لیے دنیاوی عذاب کی بات کرتی ہے تاکہ کہیں وہ یہ تصور نہ کرنے لگیں کہ وہ اس دنیاوی زندگی میں تو امان میں ہی رہیں گے۔ 
 ارشاد ہوتا ہے : وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے بھی ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ، تو عذاب الٰہی ایسی جگہ سے ان پرنازل ہوا جہاں کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔ (كب الذين من قبلهم فآتاهم العذاب من حيثو لا يشعرون) ۔ 
 اگر انسان کو کسی ایسی جگہ سے ضرب گئے جہاں سے اسے توقع ہوتو وہ زیادہ دردناک نہیں ہوتی لیکن اگر اسے کسی ایسی جگہ ضرب لگے جہاں سے اسے ہرگز توقع نہ ہو تو وہ اس کے لیے کہیں زیادہ درناک ہوتی ہے مگر اس کے نزدیک ترین دوستوں اس کی زندگی کی محبوب ترین چیزوں سے ،اس پانی سے جو اس کی زندگی کا سبب ہے ،اس باد نسیم سے اس کی نشاط وخوشی کا موجب ہے، اس سکون وراحت والی زمین سے جو اس کی استراحت اور امن وامان کا مقام سمجھی جاتی ہے۔ 
 ہاں! عذاب الٰہی کا ان طریقوں سے نزول بہت ہی دردناک ہے اور یہ وہی چیز ہے جو قوم نوح ، عادوثمود، قوم لوط ، قوم  فرعون و قاروان وغیرہ کے بارے میں بیان ہوئی ہیں۔ ان میں سے ہرایک قوم انھی میں سے کسی ایک طریقے سے گرفتارعذاب بوئی اور جس کے بارے میں اسے ہرگز توقع نہ تھی۔ 
   ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 آخری زیربحث آیت میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان کے لیے دنیاوی عذاب صرف جسمانی پہلوہی نہیں رکھتاتھا بلکہ نفسیاتی وروحانی عذاب بھی تھا، فرمایا گیا ہے : خدا نے انھیں اس دنیاوی زندگی میں بھی ذلت وخواری کا مزہ چکھایا (فاذاقم الله الخزي في الحيوة الدنيا)۔ ؎1 
 ہاں! اگر انسان کو مصیبت میں گرفتار ہوجائے لیکن وہ آبرومندانہ اور سربلندی کے ساتھ جان د ے دے تویہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ذلت وخواری کے مساتھ جان دے اور بے آبروئی اور رسوائی کے ساتھ عذاب کے چنگل میں گرفتارہو جا ئے ۔ 
 لیکن ان تمام چیزوں کے با وجود آخرت کا عذاب زیادہ سخت زیادہ شدید اور زیادہ دردناک ہے ، اگر وہ جانتے (ولعذاب الأخرة اکبرلو كانوايعلمون)۔ 
 لفظ "اکبر" (زیاده بڑا)  عذاب کی شدت اور سختی کے لیے کنا یہ ے۔ 

   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ