3- حریت فکر اور اسلامی روایات
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ ۱۷الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ۱۸أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ ۱۹لَٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ ۲۰
اور جن لوگوں نے ظالموں سے علیحدگی اختیار کی کہ ان کی عبادت کریں اور خدا کی طرف متوجہ ہوگئے ان کے لئے ہماری طرف سے بشارت ہے لہذا پیغمبر آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے. جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو صاحبانِ عقل ہیں. کیا جس شخص پر کلمہ عذاب ثابت ہوجائے اور کیا جو شخص جہنمّ میں چلا ہی جائے آپ اسے نکال سکتے ہیں. البتہ جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا خوف پیدا کیا ان کے لئے جنّت کے غرفے ہیں اور ان کے غرفوں پر مزید غرفے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی - یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے.
3- حریت فکر اور اسلامی روایات :-
احادیث اسلامی میں جوزیر بحث آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں یامستقل طورپر منقول ہوئی ہیں اس امر پر بہت زور دیا گیا ہے۔
ان میں سے ایک حدیث امام موسٰی بن جعفرعلیهما السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے اپنے ایک دانش مند صحابی ہشام بن حکم سے فرمایا:-
ياهشام أن الله تبارك وتعالى بشراهل العقل والفهم في كتابه، فقال
فبشر عبادالذین یستمعون القول فيتبعون أحسنه
اے ہشام خداوند تعالی نےاہل عقل و فہم کو اپنی کتاب میں بشارت دی ہے اور فرمایا ہے: میرے ان بندوں کو بشارت دے دو جو باتوں کو (غور سے) سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔
وہ ایسے لوگ ہیں جن کی خدانے ہدایت کی ہے اور وہ صاحبان عقل وفکرہیں۔ ؎1
ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نےزیربحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں فرمایا :
هوالرجل يسمع الحديث فيحدث به کماسمعه، لايزيد فيه ولاینقص
یہ آیت ایسے لوگوں کے بارے میں جوحدیث سنتے ہیں اور بے کم و کاست اوربغیر کمی و بیشی کے
دوسروں کے لیے نقل کرتے ہیں۔ ؎2
البتہ اس حدیث سے مراد" فيتبعون أحسنه" کی تفسیر ہے کیونکہ بہترین باتوں کی پیروی کرنے کی ایک نشانی یہ ہے کہ انسان اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہ کرے اور بعنیہ دوسروں تک پہنچادے۔ نہج البلاغہ میں امیرومنین حضرت علیؑ کے کلمات فضار میں ہے کہ آپؑ نے فرمایا :
الحكمة ضالة المؤمن فخذالحكمة ولو من اهل النفاق
حکمت آمیز باتیں مومن کی گم شدہ چیز ہے، پس وہ حکمت کولے لے چاہے وہ منافق کے پاس سے ملے۔ ؎3
،----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 کافي ، جلد1 ، کتاب العقل ، حدیث 12
؎2 نورالثقلين، جلد 4 ، ص 482 ، حدیث 34
؎3 نہج البلاغہ ، کلمات قصاء، کالمہ 80
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------