Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- چند سوالوں کا جواب

										
																									
								

Ayat No : 17-20

: الزمر

وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ ۱۷الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ۱۸أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ ۱۹لَٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ ۲۰

Translation

اور جن لوگوں نے ظالموں سے علیحدگی اختیار کی کہ ان کی عبادت کریں اور خدا کی طرف متوجہ ہوگئے ان کے لئے ہماری طرف سے بشارت ہے لہذا پیغمبر آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے. جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو صاحبانِ عقل ہیں. کیا جس شخص پر کلمہ عذاب ثابت ہوجائے اور کیا جو شخص جہنمّ میں چلا ہی جائے آپ اسے نکال سکتے ہیں. البتہ جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا خوف پیدا کیا ان کے لئے جنّت کے غرفے ہیں اور ان کے غرفوں پر مزید غرفے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی - یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے.

Tafseer

									 2- چند سوالوں کا جواب:- 
 1- ممکن ہے یہاں یہ سوال پیش کیا جائے کہ اسلام میں کتب ضلال کی خریدوفروش کیوں منع ہے؟ ۔
 2- قرآن کو کفار کے ہاتھوں میں دنیا کیوں حرام قرار دیا گیا ہے؟ 
 3- جو شخص کسی مطلب کوجانتا ہی نہیں وہ اس میں سے انتخاب کیسے کرے گا اور اچھے کو برے سے کسی طرح ادا کرے گا؟ کیا اس بات سے دور لازم نہیں آتا؟ 
 پہلے سوال کا جواب واضح ہے، کیونکہ زیر بحث آیات میں ایسی باتوں کے متعلق بحث ہے جن میں ہدایت کی امید ہو، جب غورو فکر اور تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہو کہ اور فلاں کتاب گمراہ کرنے والی ہے تو پھر وہ اس حکم کے موضوع سے خارج ہو جائے گی ۔ اسلام کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیا کہ لوگ ایسے راستے میں قدم رکھیں جس کا نا درست اور غلط ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ 
 البتہ جب تک یہ امرکسی پر ثابت نہ ہوا ہو اور وہ صحیح دین قبول کرنے لیے، مختلف مذاہب کے بارے میں تحقیق کررہاہو اس وقت تک ان تمام کتابوں کا مطالعہ اور تحقیق کرسکتا ہے لیکن مطلب ثابت ہوجانے کےبعد اس کو ایک زہریلے مادہ کی طرح ہرکسی کی دسترس سے باہر رکھنا چاہیے۔ 
 باقی رہا دوسرے سوال کے بارے میں تو اس صورت میں قران غیر مسلم کے ہاتھ میں دینا جائز نہیں ہے جب کہ یہ اس کی ہتک اور بے حرمتی کا باعث ہو ورنہ اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ غیر مسلم واقعًا اسلام کے بارے میں تحقیق کی فکر میں ہے اور وہ یہ جاہتا ہے کہ قرآن کا اس مقصد کے لیے مطالعہ کرتے تو نہ صرف یہ کہ قران اسے دینے میں کوئی حرج اور رکاوٹ نہیں ہے بلکہ شاید اسے دینا واجب ہوا اور جنھوں نے اسے حرام قرار دیا ہے ان کی مراد اس صورت کے علاوہ دوسری صورت ہے۔ 
 اسی لیے عظیم اسلامی معاشرے اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ قران کا دنیا کی زندہ زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے اور دعوت اسلامی کی نشرواشاعت کےلیے اسے حق طلبی اور حقائق کے پیاسوں تک پہنچانا چاہیے۔ 
 تیرے سوال کے سلسلے میں اس نکتے پر توجہ کرنا چاہیے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ذاتی طور پر کسی کام سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا. البتہ جب کوئی دوسرا اسے انجام دے لیتا ہے تو پھروہ بھی اچھے اور برے میں تشخیص کرسکتا ہے اورعقل وخرد کی قوت اور وجدان کے سرماۓ سے ان میں سے بہترین کا انتخاب کرسکتا ہے۔ 
 مثلًا ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوں جوفن معماری اور تعمیر کے کام سے آگاہ نہ ہوں ، یہاں تک کہ وہ انیٹیں بھی صحیح طریقے پرایک دوسرے پرنہ رکھ سکیں لیکن اس کے باوجود وہ ایک اچھی عمارت کی اعلٰی کیفیت میں اور ایک قبیح بے ڈھنگی اور ناموزوں عمارت میں تمیز کرسکیں۔  
 بہت سے افراد کو ہم جانتے ہیں جو خود تو شاعرنہیں ہیں لیکن بزرگ شعراء کے اشعار کے وزن میں تمیزکر سکتے ہیں اور انھیں بے وقعت تکلفًا کہنے والے شعراء کے اشعار سے جدا سکتے ہیں، کچھ لوگ خود توکشتی نہیں لڑتے لیکن کشتی لڑنے والوں کے درمیان فیصلہ اور ان میں سےاچھے کا انتخاب کر سکے ۔