Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- اسلام اورحریت فکر

										
																									
								

Ayat No : 17-20

: الزمر

وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ ۱۷الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ۱۸أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ ۱۹لَٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ ۲۰

Translation

اور جن لوگوں نے ظالموں سے علیحدگی اختیار کی کہ ان کی عبادت کریں اور خدا کی طرف متوجہ ہوگئے ان کے لئے ہماری طرف سے بشارت ہے لہذا پیغمبر آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے. جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو صاحبانِ عقل ہیں. کیا جس شخص پر کلمہ عذاب ثابت ہوجائے اور کیا جو شخص جہنمّ میں چلا ہی جائے آپ اسے نکال سکتے ہیں. البتہ جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا خوف پیدا کیا ان کے لئے جنّت کے غرفے ہیں اور ان کے غرفوں پر مزید غرفے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی - یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے.

Tafseer

									   چند اہم نکات 
 1- اسلام اورحریت فکر: 
             بہت سے مذاہب اپنے پیروکاروں کو دوسروں کی باتوں کے مطالعے اوتحقیق سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی منطق کی کمزوری کی وجہ سے اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں پڑھنے والا دوسروں کی منطلق قبول نہ کرلے اور اس طرح ان پیر کار ان کے ہاتھ سے نکل جائیں ۔ 
 لیکن جیسا کہ زیر بحث آیات میں بیان ہوا ہے، اسلام نے اس بارے میں "کھلے دروازوں" کی تدبیر اپنائی  ہے اوراننی لوگوں کو خدا کے سچے بندے قرار دیتا ہے جواہل تحقیق ہیں، ایسے کہ جونہ تو دوسروں کی باتوں کو سننے سے گھبراتے ہیں اورنہ ہی کسی قید و شرط کے بغیسر تسیلم خم کرتے ہیں اورنہ ہی کسی وسوسے کو قبول کرتے ہیں ۔ 
 اسلام ایسے ہی لوگوں کو بشارت دیتا ہے جو باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے جو بہت اچھی ہیں انھیں انتخاب کر لیتے ہیں ،نہ صرف یہ کہ اچھی باتوں کو بری باتوں پر ترجیح دیتے ہیں بلکہ پھولوں میں سے بھی جو پھول بہتر ہوتاہےاسے انتخاب کرتے ہیں۔ 
 قرآن ان بے خبرجاہلوں کی شدید مذمت کرتا ہے جو پیام حق سنتے وقت کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور سر پرکپڑا ڈال لیتے 
ہیں جیسا حضرت نوحؑ کے ارشادات میں ایسے لوگوں کی بارگاہ پروردگار میں شکایت ان الفاظ میں کی گئی ہے: 
  واني كلما دعوتهم لتغفرلهم جعلوا اصابعهم في أذانهم و 
  استغشوا ثيابهم واصروا واستكبروا استکبارًا 
  خداوندا! جب بھی میں نے انھیں بلایا تاکہ تو انھیں بخش دے تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھوسن لیں 
  اور اپنےاوپر کپڑا ڈال لیا، اپنی گمراہی پراصرار کیا اور بہت تکبر کیا۔ (نوح ـــــــــــــ 7) 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1     زمخشری کشاف میں کہتے ہیں: 
 "وعد الله"  مفعول مطلق کے طور پرمنصوب تاکید ہے کیونکہ" لهم غرف " وعد هم الله غرفا" کے معنی میں ہے۔ 
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 اصولی طور پر وہ مکتب جو قوی منطق رکھتا ہے ، اس کے لیے دوسروں کی باتوں سے گبھرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے مسائل کے پیش ہونے پراسے خوف کھانے کی ضرورت ہے۔ ڈرنا توانھیں چاہیے جو کمزوراور بے منطق ہیں۔ 
 آیت ایسے لوگوں کو جو ہربات کو بغیرکسی قید شرط کے قبول کر لیتے ہیں" اولواالالباب" اور "ہدایت یافتہ افراد"  شمار نہیں کرتی، ان کی مثال ان بھیڑوں کی سی ہے جوکسی سبزہ زارمیں چرتے وقت کوئی تحقیق نہیں کرتیں ۔ آیت ان دو اوصاف ان کو ایسے لوگوں کے ساتھ مخصوص کرتی 
ہے جو تو بے قید و شرط تسلیم کے افراط میں گرفتار ہیں اور نہ ہی خشک اور جاہلانہ  تعصبات کی تفریط میں۔ 


    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ