خدا کے حقیقی بندے
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ ۱۷الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ۱۸أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ ۱۹لَٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ ۲۰
اور جن لوگوں نے ظالموں سے علیحدگی اختیار کی کہ ان کی عبادت کریں اور خدا کی طرف متوجہ ہوگئے ان کے لئے ہماری طرف سے بشارت ہے لہذا پیغمبر آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے. جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو صاحبانِ عقل ہیں. کیا جس شخص پر کلمہ عذاب ثابت ہوجائے اور کیا جو شخص جہنمّ میں چلا ہی جائے آپ اسے نکال سکتے ہیں. البتہ جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا خوف پیدا کیا ان کے لئے جنّت کے غرفے ہیں اور ان کے غرفوں پر مزید غرفے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی - یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے.
تفسیر
خدا کے حقیقی بندے
قران نے پھر ان آیات میں موازنے کی روش سے فائدہ اٹھایا ہے اوران متعصب اور ہٹ دھرم مشرکین کے مقابلے میں جن کی سرنوشت جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پروردگار کے خاص اور حقیقت کے متلاشی بندوں کے معتلق گفتگو شروع کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : ان لوگوں کے لیے جنھوں نے "طاغوت" کی عبادت سے اجتناب کیا ہے اور خدا کی طرف بازگشت کی بشارت اور خوشخبری ہے ( والذين اجتنبوالطاغوت ان يعبدوها وانا بوا الى الله لهم البشرٰی)۔
اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "بشری" یہاں مطلق ہے لہذا ہر قسم کی خدائی نمتوں پر مشتمل ہے چاہے وہ مادی ہوں یا معنوی، لیکن یہ عظیم بشارت ایسے لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو طاغوت کی پرستش سے اجتناب کریں اور خدا کی طرف لوٹ آئیں۔ سارا یمان و عمل اسی جملے میں جمع ہے ہے۔
کیونکہ " طاغوت" اصل میں "طغیان " کے مادہ سے حد سے تجاوز کرنے والے معنی میں ہے۔ اس لیے یہ لفظ ہر تجاوز کرنے والے اور
خدا کے سوا ہر معبود ، جیسے شیطان اور ظالم حکمران پربولا جاتا ہے (یہ لفط واحد وجمع دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے)۔ ؎1
اس بنا پر "طاغوت" سے اجتناب" اس وسیع وعریض معنی کا حامل ہے یعنی ہر قسم کے شرک، بت پرستی، ہوس پرستی اور شيطان پرستی سے دوری نیز حکام جوراورظلم کے ذریعے اقتدار پرقبضہ کرنے والوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور "آنابوا الى الله" تقوی پرہیزگاری اور ایمان کا جامع ہے۔ یقینًا اس کے افراد ہی بشارت کے اہل ہیں ۔
یہ نکته بھی قابل توجہ ہے کہ طاغوت کی عبادت صرف رکوع و سجود کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ ہر قسم کی اطاعت کے مفہوم ہے جیساکہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے سے منقول ہے
من اطاع جبارا فقد عبده
جس شخص نے کسی ستم گر حکمران کی اطاعت کی اس نے اس کی عبادت کی۔ ؎2
پھران خاص بندوں کے تعارف کے لیے قرآن کہتا ہے : میرے خاص بندوں کو بشارت دے دے (فبشر عباد)۔ ؎3۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بعض مفسرین مثلاً زمحشری کا کشاف میں یہ نظریہ ہے کہ "طاغوت" اصل میں طغووت (بروزن "فعلوت") مثل "ملکوت تھا پرروہ مقلوب ہوگیا اور لام الفعل عین الفعل سے مقدم ہو گئی اور "طوغوت" ہوگیا اور واؤ کے الف سے مل جانے کے بدل جانے کے بعد طاغوت ہوگیا اور کئی لحاظ سے تاکید کے معنی دنیا ہے۔ صیغہ مبالغہ معنی منصداری اور قلب کی وجہ سے (تفسیر کشاف جلد 4 ص 120)
؎2 مجمع البیان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں جلد 7 ص 493
؎3 "عباد" اصل میں "عبادی" تھا۔ یا حزف ہوگئی اور زیر اس کا قائم مقام ہے۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
وہ لوگ جو بات (غور سے) سنتے ہیں اور اس میں سے جوبات زیادہ اچھی ہوتی ہے، اس کی پیروی کرتے ہیں (الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه).
وہ ایسے لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور وہ عقل و خرد رکھنے والے ہیں (اولئك الذين هداهم الله وأولئک هواولوا الألباب)۔
یہ دو آیات جو اسلامی شعار کی صورت میں سامنے آئی ہیں مسلمانوں کی حریت فکر اور مختلف مسائل میں (اچھی سے اچھی بات کو) انتخاب کرنے کی خوب نشاندہی کرتی ہیں۔
پہلے فرمایا گیا ہے میرے بندوں کو بشارت دے دے اوراس کے بعد ان خاص بندوں کا اس صورت میں تعارف کروایا گیا ہے : وہ ہری کسی بات کو غور سے سنتے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ کہنے والا کون ہے اور کیا نظریہ رکھتا ہے اورعقل وخرد کی قوت کے ساتھ ان میں سے بہترین کا انتخاب کر لیتے ہیں ۔ وہ کسی قسم کا تعصب اور ہٹ دھرمی نہیں کرتے اور کسی قسم کی تنگ نظری ان کی فکرونظرمیں نہیں ہے۔ وہ حق کے متلاشی اور حقیقت کے پیاسے ہیں وہ جہاں کہیں بھی انھیں ملے ، لپک کراس کا استقبال کرتے ہیں اوراس کے صاف چشمے سے بغیرروک ٹوک کے پیتے ہیں اور سیراب ہوتے ہیں وہ نہ صرف حق کے طالب اور اچھی گفتگو کے پیاسے ہیں بلکہ "خوب" اور "خوب تر" میں سے اور " نیک" اور "نیک تر" میں سے دوسرے کا انتخاب کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ بہترین اور برترین کے خواہاں ہیں۔
ہاں! یہی ہے نشانی ایک سچے مسلمان اور حق طلب مومن کی۔
"يستمعون القول" (بات کو سنتے ہیں) میں " قول" سے کیا مراد ہے۔ اس ضمن میں مفسرین نے گوناگوں
تفسیریں کی ہیں۔
بعض نے اس سے قرآن مراد لیا ہے اور جو کچھ اس میں احکام اور مباحات کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے وہ ان میں سے احکام کی پیروی کو احسن کی پیروی سمجھتے ہیں۔
بعض دوسروں نے اس کی مطلق اوامرالٰہی سے تفسیر کی ہے، چاہے وہ قرآن میں ہوں یا غیرقران میں ۔
لیکن ان محدود تفسیروں کے لیے کسی قسم کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ آیت کا ظاہری مفهوم ہر قسم کے قول اور ہربات پرمحیط ہے۔ خدا کے باایمان بندے تمام باتوں میں سے اس بات کو انتخاب کر لیتے ہیں جو "احسن" ہے اور ا س کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے عمل میں اسی پر کاربندہیں۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے مذکورہ بالا آیت میں صاحبان ہدایت الہی کو اسی گروہ میں منحصر کر دیا ہے، جیسا کہ عقل مندوں کو بھی انہیں منحصر قرار دیا ہے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گروہ ظاہری و باطنی ہدایت کا حامل ہے۔ ظاہری ہدایت عقل وخرد کے طریق سے اور باطنی ہدایت نورالٰہی اور امدادی غیبی کے راستے سے، اور یہ دونوں افتخار اس قسم کے حقیقت کے متلاشی حریت فکر کے حامل لوگوں کے لیے ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
چونکہ پیغمبر خداؐ گمراہوں اور مشرکین کو ہدایت کرنے سے بہت لگاؤ رکھے تھے اوران لوگوں کے احراف سے انھیں بہت تکليف اور زیادہ دلپذیر ہوتا ہے۔
"غرف" جمع ہے "غرفہ" کی "غرف" (بروزن "حرف") کے مادہ سے۔ ایسی چیز کو اوپر اٹھانے کے معنی میں ہے۔ اسی لیے اس پانی کو جو چلو کے ساتھ چشمے سے اٹھا کر پیتے ہیں "غرفه" کہتے ہیں ۔ یہ لفظ بعدازاں کسی عمارت کے اوپر والے حصے اور منازل کے بالائی طبقات کے معنی میں بولا جانے لگا۔
بہشت کے یہ حیسن خوبصورت بالاخانے، ان نہروں کے ساتھ ، جو ان کے نیچے بہہ رہی ہیں، سجائے گئے ہیں، اسی لیے آیت کے آخر میں ہے ان کے نیچے دوامی نہریں جاری ہیں (امبنية تجري من تحتها الأنهار)۔
ہاں یہ خدائی وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا (وعد الله لا يخلف الله الميعاد)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ