Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- " فاعبدواماشئتم " کا مفہوم 

										
																									
								

Ayat No : 10-16

: الزمر

قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۱۰قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ ۱۱وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ۱۲قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۱۳قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي ۱۴فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ ۗ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ۱۵لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ ۚ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ ۱۶

Translation

کہہ دیجئے کہ اے میرے ایماندار بندو! اپنے پروردگار سے ڈرو . جو لوگ اس دار دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیکی ہے اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے بس صبر کرنے والے ہی وہ ہیں جن کو بے حساب اجر دیا جاتا ہے. کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاص عبادت کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں. اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا اطاعت گزار بن جاؤں. کہہ دیجئے کہ میں گناہ کروں تو مجھے بڑے سخت دن کے عذاب کا خوف ہے. کہہ دیجئے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اپنی عبادت میں مخلص ہوں. اب تم جس کی چاہو عبادت کرو کہہ دیجئے کہ حقیقی خسارہ والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے نفس اور اپنے اہل کو قیامت کے دن گھاٹے میں رکھا - آگاہ ہوجاؤ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے. ان کے لئے اوپر سے جہنمّ کی آگ کے اوڑھنے ہوں گے اور نیچے سے بچھونے - یہی وہ بات ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو اے میرے بندو مجھ سے ڈرو.

Tafseer

									 2- " فاعبدواماشئتم " کا مفہوم : 
         اس کا معنی ہے جس کی چاہوتم عبادت کرو۔ اصطلاح کے مطابق یہ ایک ایسا امر ہے جو تہدید کے لیے ہے اور یہ ایسے مقام پر کہا جاتا ہے جہاں مجرم اور گنہ گارشخص پر پند نصحیت اثرنہ کرتی ہو تو آخری بات جو اس سے کہی جاتی ہے یہ ہے کہ جو چاہو کرو لیکن سزا اور عذاب کے منتظر رہو۔ یعنی تم اسی منزل پر پہنچ گئے ہے کہ اب ذمہ داری سوپنے جانے اور پندونصیت کے لائق نہیں رہے ہو اور دردناک عذاب کے سوا تمھارے لیے کوئی دوسرا انجام اور علاج نہیں ہے۔
   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ