1- خُسران وزیاں کی حقیقت
قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۱۰قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ ۱۱وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ۱۲قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۱۳قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي ۱۴فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ ۗ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ۱۵لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ ۚ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ ۱۶
کہہ دیجئے کہ اے میرے ایماندار بندو! اپنے پروردگار سے ڈرو . جو لوگ اس دار دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیکی ہے اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے بس صبر کرنے والے ہی وہ ہیں جن کو بے حساب اجر دیا جاتا ہے. کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاص عبادت کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں. اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا اطاعت گزار بن جاؤں. کہہ دیجئے کہ میں گناہ کروں تو مجھے بڑے سخت دن کے عذاب کا خوف ہے. کہہ دیجئے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اپنی عبادت میں مخلص ہوں. اب تم جس کی چاہو عبادت کرو کہہ دیجئے کہ حقیقی خسارہ والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے نفس اور اپنے اہل کو قیامت کے دن گھاٹے میں رکھا - آگاہ ہوجاؤ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے. ان کے لئے اوپر سے جہنمّ کی آگ کے اوڑھنے ہوں گے اور نیچے سے بچھونے - یہی وہ بات ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو اے میرے بندو مجھ سے ڈرو.
چند اہم نکات
1- خُسران وزیاں کی حقیقت:
خسران ــــــ جیسا کہ "راغب" " مفردات" میں کہتا ہے:
اصل میں سرمایہ ہاتھ سے دے بیٹھنا اور اس کا کم ہوجانا ہے۔ کبھی تو اس کی انسان کی طرف نسبت دی جاتی ہے اورکہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے زیاں کیا اور ا س نے نقصان اٹھایا اورکبھی عمل کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور کہتے ہیں : اس کی تجارت میں نقصان ہوا ہے۔
دوسری طرف "خسران" بھی تو ظاہری سرمایوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے، جیسے مال اور دنیاوی مقام ، اور معنوی سرمایوں کے بارے میں جیسے صحت وسلامتی ،عقل وایمان اور ثواب اور یہی وہ چیز ہے جس کا خدانے "خسران مبین" نام رکھا ہے اور جس جس خسران کو خدا نے قرآن میں بیان کیا ہے وہ دوسرے ہی معنی کی طرف اشارہ ہے نہ کہ وہ جو دنیاوی سرمایوں اورعام تجارتوں سے مربوط ہے ۔ ؎1
قرآن نے حقیقت میں انسانوں کو ان تجارت پیشہ افراد تشبیہ دی ہے جو بہت زیادہ سرمایے کے ساتھ اس جہان کے تجارت خانہ میں قدم رکھتے ہیں، بعض کو تو بہت زیادہ نفع ہوتا ہے اور بعض کو سخت نقصان ۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مفردات ، مادہ "خسر"
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں تعبیرتشبیہ بیان ہوئی ہے اور درحقیقت اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ قیامت میں نجات حاصل کرنے کے لیے اس کی اور اس کی کسی کی انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اس کا واحد راستہ موجود سرمایوں اور وسائل سے فائدہ اٹھانا ہے اور اس عظیم تجارت میں سعی و کوشش کرنا ہے کیونکہ وہاں تو "همه چیز رابه بهامی دهند، به بهانه نمی دهنده یعنی ہر چیز قیمت کے ساتھ دیتے ہیں بہانے سے نہیں دیتے۔
لیکن اس نے مشرکین اور گنہگاروں نے زیاں و نقصان کو "خسران مبین" کے ساتھ توصیف کیوں کی ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً انھوں نے افضل ترین سرمایہ یعنی عمر ،عقل وخردواحسانات اور زندگانی کا سرمایہ ہاتھ سے گنوادیا ہے جبکہ اس کے بدلے میں کوئی چیزحاصل نہیں کی۔
ثانیًا اگر انہوں نے صرف سرمایہ کی کھویا ہوتا اور کوئی عذاب وسزانہ خریدی ہوتی تو پھر بھی کوئی بات تھی - بدبختی کی بات تویہ کہ انھوں نے یہ عظیم سرمائے گنوا کر سخت ترین اور دردناک ترین عذاب اپنے لیے فراہم کرلیا ہے۔
ثالثًا یہ ایسا نقصان ہے جو قابل تلافی نہیں ہے اور یہ بات سب سے زیادہ بڑھ کر درد ناک ہے۔ ہاں! یہ ہے "خسران مبین"۔