3- اهل سے مراد کون لوگ ہیں ؟
قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۱۰قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ ۱۱وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ۱۲قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۱۳قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي ۱۴فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ ۗ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ۱۵لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ ۚ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ ۱۶
کہہ دیجئے کہ اے میرے ایماندار بندو! اپنے پروردگار سے ڈرو . جو لوگ اس دار دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیکی ہے اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے بس صبر کرنے والے ہی وہ ہیں جن کو بے حساب اجر دیا جاتا ہے. کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاص عبادت کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں. اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا اطاعت گزار بن جاؤں. کہہ دیجئے کہ میں گناہ کروں تو مجھے بڑے سخت دن کے عذاب کا خوف ہے. کہہ دیجئے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اپنی عبادت میں مخلص ہوں. اب تم جس کی چاہو عبادت کرو کہہ دیجئے کہ حقیقی خسارہ والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے نفس اور اپنے اہل کو قیامت کے دن گھاٹے میں رکھا - آگاہ ہوجاؤ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے. ان کے لئے اوپر سے جہنمّ کی آگ کے اوڑھنے ہوں گے اور نیچے سے بچھونے - یہی وہ بات ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو اے میرے بندو مجھ سے ڈرو.
3- اهل سے مراد کون لوگ ہیں ؟
ان آیات میں بیان ہوا ہے کہ زیاں کارنہ صرف اپنی ہستی اور وجود کا سرمایا ہاتھ کھو بیٹھے ہیں بلکہ یہ تو اپنے "اہل" کے وجود کا سرمایہ بھی گنوا دیتے ہیں۔
ا بعض مفسرین نے تویہ کہا ہے کہ یہاں "اہل" سے مردانسان کے پیروکار اور وہ لوگ ہیں جو اس کے مکتب اور پروگراموں پرچلتے ہیں۔
بعض نے اس کی بہشتی بیویوں کے مفہوم میں تفسیر کی ہے یعنی مشرکین اور مجرمین انھیں کھوبیٹھیں گے۔
بعض اس سے دنیامیں گھروالے اور نزدیکی مراد لیتے ہیں اوریہی آخری معنی اس لفظ کے اصلی مفهوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے سب زیادہ مناسب نظرآتا ہے۔ کیونکہ بےایمان افراد آخرت میں انھیں کھو بیٹھیں گے اگر وہ مومن ہوئے تو ان سے جدا ہو جائیں گے اور خودانھیں کی طرح سے کافر ہوئے تو پھرنہ صرف یہ کہ ان سے انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ وہ زیادہ دردناک عذاب کا بھی سبب بنیں گے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ