Tafseer e Namoona

Topic

											

									  مخلص بندوں کا طرزِحیات

										
																									
								

Ayat No : 10-16

: الزمر

قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۱۰قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ ۱۱وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ۱۲قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۱۳قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي ۱۴فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ ۗ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ۱۵لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ ۚ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ ۱۶

Translation

کہہ دیجئے کہ اے میرے ایماندار بندو! اپنے پروردگار سے ڈرو . جو لوگ اس دار دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیکی ہے اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے بس صبر کرنے والے ہی وہ ہیں جن کو بے حساب اجر دیا جاتا ہے. کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاص عبادت کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں. اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا اطاعت گزار بن جاؤں. کہہ دیجئے کہ میں گناہ کروں تو مجھے بڑے سخت دن کے عذاب کا خوف ہے. کہہ دیجئے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اپنی عبادت میں مخلص ہوں. اب تم جس کی چاہو عبادت کرو کہہ دیجئے کہ حقیقی خسارہ والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے نفس اور اپنے اہل کو قیامت کے دن گھاٹے میں رکھا - آگاہ ہوجاؤ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے. ان کے لئے اوپر سے جہنمّ کی آگ کے اوڑھنے ہوں گے اور نیچے سے بچھونے - یہی وہ بات ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو اے میرے بندو مجھ سے ڈرو.

Tafseer

									  تفسیر 
                  مخلص بندوں کا طرزِحیات 
 گزشتہ آیات میں مغرورمشرکین اور فرمان خدا کے مطیع مومنین کا فرق نیز علماء وجہلاء کے درمیان موازنہ کیا گیا تھا۔ اب زیربحث آیات میں سچے اور مخلص بندوں کے طرز حیات میں سے سات دستوروں کا ذکر چند آیات میں سمودیا گیا ہے اور ان میں سے برایہ  "قل" سے شروع ہوتی ہے۔ 
 پہلے تقوی کا ذکر ہے ۔ پیغمبر اکرمؐ کوحکم دیا گیا ہے : کہہ دے: اے میرے مومن بندو! اپنے پروردگار سے ڈرو اور تقوی اختیار کرو۔ (قل ياعبادالذين آمنوااتقواربکم)۔ ؎1 
ہاں تقوٰی یعنی خود کو گناہ سے بچانا اور حق تعالی کی بارگاہ میں مسئولیت اور ذمہ داری کا احساس ہے۔ یہ خدا کے مومن بندوں کا پہلا کام ہے۔ تقوٰی جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے ایک ڈھال ہے اورانحراف سے باز رکھنے کا ایک عامل ہے۔ تقوی بازارِ قیامت کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور پروردگار کی بارگاہ میں انسان کے مرتبہ ومقام کا معیار ہے۔ 
 دوسرے حکم میں اس دنیامیں احسان اورنیکو کاری کا ذکر ہے، کیونکہ یہ دنیا دارِعمل ہے۔ اس کے بیلے احسان کا نتیجہ بیان کر  لوگوں کو 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    یہ بات واضع ہے کہ "ياعباد" کا خطاب خدا کی طرف سے ہے اور اگر اللہ پیغمبراکرمؐ سے کہتا ہے کہ یہ بات کرو اس سے مراد یہ ہے کہ میری طرف سے انھیں خطاب کرو۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 اس کی تشویق دلائی گئی ہے فرمایا گیا ہے: ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں کوئی نیکی کی ہے، بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔ (للذين احسنوا في هذه الدنيا حسنة)۔ ؎1 
 ہاں اس دنیا میں دوستوں اور بیگانوں کے ساتھ گفتارمیں، عمل میں ، طرز فکر نظرمیں نیکو کاری کا نتیجہ دونوں جہان میں مطلق طور پراجر کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ، کیونکہ نیکی کا نتیجہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ 
 حقیقت میں تقوٰی تو کی باز رکھنے والا عامل ہے اور احسان و نیکی حرکت پیداکرنے والا عامل ہے جو مجموعی طور سے ترک گناہ اور فرائض ومستحبات کی انجام دہی دونوں پر مشتمل ہے۔ 
 تیسراحکم شرک و کفر اور گناہ سے آلودہ مراکزو مقامات سے "ہجرت" کرنے کی تشویق ہے فرمایا گیا ہے: خدا کی زمین وسیع ہے۔ (وارض الله واسعة)۔ 
 درحقیقت یہ ان کمزور ارادے والے بہانہ جو افراد کے لیے جواب ہے جو کہتے تھے کہ ہم مشرکین کی حکومت کے تسلط کی وجہ سے اپنے خدا کی طرف 
سے عائد کردہ فرائض کی انجام دہی پرقادرنہیں ہیں۔ قرآن کہتا ہے : خدا کی سرزمین مکہ میں ہی محدود نہیں ہے ، مکہ نہ ہوا تو مدینہ سہی، دنیاوسیع ہے، اپنے آپ کو حرکت دو اور شرک و کفر وخفقان والے مراکز سے نقل مکانی کر جاؤ کہ جو تمہیں آزادی اور انجام فرائض سے مانع ہیں۔ نقل مکانی کرجاؤ۔ 
 مسئلہ ہجرت اہم ترین مسائل میں سے ہے، اس نے آغاز اسلام میں حکومت اسلامی کی کا میابی کی تکمیل کی ۔ اسی بنا پر تاریخ اسلام کی بنیاد اور سرآغاز بنا۔ دوسرے زمانوں میں بھی یہ مسئلہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ یہ طریقہ ایک طرف تومومنین کو دباؤ اوگھٹن کے سامنے جھکنے اور گٹھنے ٹیکنے سے باز رکھتا ہے اور دوسری طرف سے عالم کے مختلف حصوں میں اسلام کے صدور کامل بھی ہے۔ 
 قران مجید کہتا ہے؛ 
  ات الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم قالوا فيم كنتم قالواكنا 
  مستضعفين في الارض قالوا لم تكن أرض الله واسعة فتها
  جروا فيها فاولئك مأواهم جهنم وساءت مصيرًا  (نساء ــــــ 97) 
 ظالموں اور مشرکوں کی روح قبض کرتے وقت قبض روح کرنے والے فرشتے پوچھتے ہیں کہ تم کسی حالت
  میں تھے ؟ وہ جواب میں کہتے ہیں: مستضعف تھے اور اپنی سرزمین میں دباؤ اورسختی میں تھے لیکن 
 فرشتے انھیں جواب دیتے ہیں: کیا خدا کی زمین وسیع نہیں تھی ، تم نے ہجرت کیوں نہ اختیار کی ، ان کی
 جگہ جہنم ہے اور کتنی بری جگہ ہے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   اکثرمفسرين نے " في هذه الدنيا " کو "احسنوا" سے متعلق قرار دیا ہے ۔ اس بنا پر "حسنة" مطلق ہوگئی اور ہرقسم کے اجر پرمشتمل ہوگی ۔ خواہ وہ اس جہان میں ہو یا دوسرے جہان میں ۔ نیز اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایسے مقام پر تنوین عظمت کی دلیل ہے ، اس اجر کی عظمت کی واضح ہو جاتی ہے۔ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 یہ چیز اس بات کی اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ ماحول کا دباؤ اور گھٹن ، ایسے مقام پر جہاں سے ہجرت کرناممکن ہو۔ بارگاه خداوندی میں عذر نہیں بن سکتا۔ 
 (اسلام میں ہجرت کی اہمیت اور اس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد 4 سورة نساء کی آیہ 100  کے ذیل میں اور جلد 7 سوره انفال کی آیہ 72 کے ذیل میں بحث کی جا چکی ہے)۔ 
 چونکہ ہجرت سے عام طور پر زندگی کے مختلف پہلوؤں میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں، اس لیے چوتھا حکم صبر و استقامت کا اس صورت میں بیان کیا گیا ہے : صبرکرنے والے اور استقامت دکھانے والے اپنا اجر وثواب بے حساب حاصل کریں گے۔  (انمايو في الصابرون أجرهم بغير حساب)۔ ؎1 
   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 "يوفي"  کی تعبيرجو"و فی"  سے اور اعطاء کامل کے معنی میں ہے اور "بغیر حساب" کی تعبیراس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ استقامت دکھانے والے صابر لوگ بارگاہ خداوندی سے برترین اور افضل ترین اجر پائیں گے اورکسی بھی عمل کی صبرواستقامت کے برابر اہمیت نہیں ہے۔ 
 اس بات کی شاہد وہ حدیث ہے جو امام صادق نے رسول اللہؐ سے بیان فرمائی ہے۔ 
  اذا نشرت الدواوين ونصبت الموازين ،لم ينصب لاهل البلاء ميزان ، 
  ولم ينشر لهم ديوان ثم تلا هذه الآية : انما يوفى الصابرون أجرهم بغير 
  حساب 
  جس وقت اعمال نامے کھولے جائیں گے اور پروردگار کی عدالت کے ترازونصب ہوں گے تو ایسے اشخاص 
  کے لیے جو مصائب اورسخت حوادث میں گرفتار رہے ہیں اور انھوں نے استقامت سے کام لیا ہے، نہ تو 
  وزن کے لیے میزان نصب ہوگی اور نہ ہی ان کا اعمال نامہ کھولا جائے گا۔ 
 اس کے بعد ہیغمبراکرمؐ نے اپنی گفتگو کے شاہد کے عنوان سے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کی کہ خدا صابروں کو بے حساب اجر دے گا۔ ؎2  
 بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کی پہلی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس میں جعفر بن ابی طالب کی سرکردگی میں ایک بڑے گروہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ہم نےیہ بارہا بیان کیا ہے کہ باوجود اس کے کہ شان نزول آیات کے مفایہم کو واضح کرتی ہیں لیکن انھیں محدود نہیں کرتیںصصص ۔ 
 پانچویں حکم میں اخلاص کے بارے میں شرک کے ہرشائبہ سے پاک اور خالص توحید کے متعلق گفتگو ہے ،لیکن یہاں گفتگو کا لب و لہجہ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    "بغيرحساب"  ممکن ہے"يوفی"  سے متعلق ہو یا "اجرهم "سے حال ہولیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے۔ 
  ؎2    "تفسیرمجمع البیان" زیربحث آیات کے ذیل میں اوریہی معنی مختصر سے فرق کے ساتھ تفسیر قرطبی میں حسین بن علیؑ سے ان کے جز رسول اللہ سے نقل ہوا ہے۔  
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
بدل جاتا ہے اور پیغمبرخداؐ اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: میں تو اس بات پر مامور ہوں کہ خدا ہی کی عبادت کروں ، اس حال میں کہ میں اپنے دین کو ا س کے لیے خالص رکھوں (قل اني امرت ان اعبد الله مخلصًا له الدين )۔ 
 اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے ، اور میں اس بات پر مامور ہوں کہ میں ہہلامسلمان بنوں ( وامرت لأن اكون اول المسلمين)۔ 
 یہاں پر چھٹا حکم یعنی اسلام اور فرمان خدا کے سامنے پوری طرح سرتسلیم خم کرنے میں سبقت کرنے کے بارے میں ہے۔ 
 ساتواں اور آخری حکم قیامت کے دن خدا کی سزا سے متعلق ہے۔ یہ بھی اسی لب ولجہ میں بیان ہواہے ۔ فرمایا گیا ہے ، کہہ دے : اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو قیامت کے عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ( قل اني اخاف ان عصيت ربی عذاب يوم عظيم )۔ 
 یہ اس لیے ہے تاکہ حقیقت واضح ہو جائے کہ پیغمبر بھی بندگان خدا میں سے ہیں ، وہ بھی خالص طور سے عبادت کرنے پر مامور ہیں، وہ بھی خدا کے عذاب وسزا سے ڈرتے ہیں اور وہ فرمان حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مامورہیں ، بلکہ وہ دوسروں کی نسبت سنگین تر ذمہ داری رکھتے ہیں کہ وہ سب سے آگے بڑھ کر رہیں ۔ 
 وہ کبھی بھی مقام الوہیت کے مدعی اور عبادت کے راستے سے باہرقدم رکھنے کے دعویدار نہیں تھے بلکہ وہ تو اپنے مقام عبودیت پر فخرومباہات کرتے تھے اوراسی بنا پر وہ ہر چیز میں نمونہ اوراسوہ ہیں۔ 
 وہ ان جہات میں اپنے لیے دوسروں سے امتیاز کے قائل نہیں ہیں اور یہ بات خود ان کی عظمت اور حقانیت کی ایک واضح و روشن نشانی ہے۔ جھوٹے مدعیوں کی طرح نہیں جو دوسروں کو تو اپنی پرستش کی دعوت دیتے تھے اور اپنے آپ کو مافوق البشر اور والاتر گوہر کی حیثیت سے متعارف کرواتے تھے۔ ایسے لوگ بعض اوقات اپنے پیروکاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ انھیں ہرسال ان کے و وزن کے برابر سونا اور جواہرات دی۔ 
 رسول تو درحقیقت یہ فرماتے ہیں: ۔ 
 "میں ایسے سلاطین جابر کی طرح نہیں ہوں جو لوگوں کو تو کچھ ذمہ داریوں کی انجام دہی کا ذمہ دار ٹھراتے ہیں۔ لیکن خود اپنے آپ کو ذمہ داری سے مافوق سمجھتے ہیں"۔ 
 اور یہ حقیقت میں ایک اہم تربیتی مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ ہر مربی ورہبر کو اپنے مکتب کے احکام کی انجام دہی میں سب سےآگے قدم بڑھانا چاہیے ۔ وہ اپنے آئین کا سب سے پہلا مومن ، سب سے زیادہ کوشش کرنے والا اور سب سے زیادہ فداکاری کرنے والا ہوناچآہیے تاکہ لوگ اس کی صداقت پرایمان اس لائیں اوراس کو ہر چیز میں اپنے لیے راہنما اور اسوہ سمجھیں۔ 
 اور یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا مسلمان ہونا نہ صرف زمانے کے لحاظ سے ہے۔ بلکہ تمام جہات میں آپ پہلے مسلمان تھے کہ ایمان کے لحاظ سے، اخلاص وعمل اور فداکاری کے اعتبارسے اور جہاد واستقامت کی جہت سے ۔  
 پیغمبراکرم کی ساری زندگی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ 
   ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  زیر بحث آیات میں سات احکام (تقوی، احسان، ہجرت ، صبر، اخلاص، تسلیم اورخوف) کے ذکر کے بعد مسئلہ اخلاص چونکہ خصوصیت کے ساتھ شرک کے مختلف اسباب وعوامل کے مقابلے میں ایک خصوصیت رکھتا ہے ، لہذا تاکید کے لیے اسے دوبارہ بیان کیاگیا ہے اور اسی لب ولہجہ میں فرمایا گیا ہے کہہ دے: میں تو خدا ہی کی عبادت کرتا ہوں اس حال میں کہ اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھتا ہوں۔  (وقل الله اعبد مخلصًاله دینی) ۔ ؎1 
 لیکن تم اس کے علاوہ جس کی چاہوپرستش کرتے رہو (فاعبدوا ما شئتم من دونه) - 
 اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : کہہ دے ! نقصان اٹھانے والوں کا راستہ ہے۔ کیونکہ حقیقی زیاں کار وہی تو ہیں جو اپنی عمر اور وجود کا سرمایہ یہان تک کہ اپنے وابستگان کو بھی قیامت کے دن ہاتھ سے گنوابیٹھیں کے۔ ( قل أن الخاسرين الذين خسروا انفسهم واهليهم يوم القيامة)۔ 
 نہ تو انھوں نے اپنے وجود سے ہی کچھ فائدہ اٹھایا ہے اور نہ ہی سرمایہ عمر سے کچھ حاصل کیا ہے ، نہ ان کا خاندان اور اولاد ان کی نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ہی بارگاہ حق میں ان کی آبرو اور شفاعت کا سبب ہوۓ ہیں ۔ 
 آگاہ رہو کہ واضح خسارہ یہی ہے  (الا ذالك هو الخسران المبـــین )۔ 
   ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 آخری زیر بحث آیت میں ان کے ایک اور واضح خسارے اور نقصان کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے : ان کے لیے ان سروں کے اوپر آگ کے سائبان ہیں اور ان کے پاؤں کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہیں ۔ (لهم من فوقهم ظلل من النار ومن تحتهم ظلل)۔ 
 اس طرح سے وہ ہر طرف سے آگ کے شعلوں میں گھرے ہوئے ہیں ۔ اس سے بالاتراورکون ساخسران ہوگا اور اس سے بڑھ کر دردناک عذاب اور کیا ہوگا؟ 
 " ظلل" جمع "ظله" (بروزن "قله") اس پردے کے معنی میں ہے جو اوپر کی طرف سے نصب ہو، اس بناپر اس کا فرش پر اطلاق جو ان کے پاؤں کے نیچے بچھا ہواہے ، ایک قسم کا مجازی اطلاق ہے اور اس لفظ کے مفہوم میں توسیع کے حوالے سے ہے ۔
 بعض مفسرین نے کہا ہے کہ چونکہ دوزخی جہنم کے کئی طبقات میں گرفتار ہوں گے اس لیے آگ کے پردے ان کے سروں کے اوپر بھی ہوں گے اور ان کے پاؤں کے نیچے بھی۔ اس لیے لفظ "ظلل"  کا اطلاق نچلے پردوں پر بھی مجاز نہیں ہے۔ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    " الله " کو مقدم ہونا جوکہ "اعبد"  کا مفعول ہے یہاں "حصر" کے لیے ہے  یعنی میں صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں اس بناپر "مخلصًالہ دینی"  جوکہ حال ہے ، اس معنی ایک نئی تاکید ہے۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 سوره عنکبوت کی آیہ 55 اسی آیت کے مانند ہے۔ 
  يوم يغشٰهم العذاب من فوقهم ومن تحت ارجلهم ويقول ذوقواما 
  کنتم تعملون
  اس دن خدا کا عذاب انہیں سر کے اوپر سے بھی اور پاؤں کے نیچے سے بھی (ہرطرف) سے ڈھانپ
  لے گا اور ان سے کہے گا اس کا مزہ چکھو کہ جو تم کیا کرتے تھے۔ 
 یہ درحقیقت ان کے دنیا کے حالات کا تجسم ہے کہ جہالت وکفر وظلم نے ان کے تمام وجود کو گھیر رکھا تھا، اور ہر طرف سے انھیں ڈھانپ لیا تھا۔ 
 اس کے بعد تاکید اورعبرت کے لیے مزید فرمایا گیا ہے: یہی تو وہ چیز ہے جس سے خدا اپنے بندوں کوڈراتا ہے۔ جب ایسا ہے تو اے میرے بندو! میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔  (ذالك يخوف الله به عباده یا عباد فاتقون)۔ 
 اس آیت میں "عباد" (بندے) کی تعبیر اوراس کی خدا کی طرف اضافت اور وہ بھی تکرار کے ساتھ، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر خدا عذاب کی کوئی تہدید کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لطف ورحمت کی بنا پر ہے تاکہ بندگان حق اس قسم کے برے انجام میں گرفتار ہوں۔ یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس آیت میں ہم "عباد" سے مراد خصومیت کے ساتھ مومنین لیں بلکہ یہ سب کے لیے ہے ، کیونکہ کسی شخص کو بھی اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے مامون نہیں سمجھنا چاہیے۔ 
   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ