سورة زمر / آیه 8 - 9
وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ۸أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ ۹
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پوری توجہ کے ساتھ پروردگار کو آواز دیتا ہے پھر جب وہ اسے کوئی نعمت دے دیتا ہے تو جس بات کے لئے اس کو پکار رہا تھا اسے یکسر نظرانداز کردیتا ہے اور خدا کے لئے مثل قرار دیتا ہے تاکہ اس کے راستے سے بہکا سکے تو آپ کہہ دیجئے کہ تھوڑے دنوں اپنے کفر میں عیش کرلو اس کے بعد تو تم یقینا جہّنم والوں میں ہو. کیا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کی حالت میں خدا کی عبادت کرتا ہے اور آخرت کا خوف رکھتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے .... کہہ دیجئے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہوجائیں گے جو نہیں جانتے ہیں - اس بات سے نصیحت صرف صاحبانِ عقل حاصل کرتے ہیں.
(8) وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٝ مُنِيْبًا اِلَيْهِ ثُـمَّ اِذَا خَوَّلَـهٝ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِىَ مَا كَانَ يَدْعُوٓا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلّـٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُـفْرِكَ قَلِيْلًا ۖ اِنَّكَ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ
(9) اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَآءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَائِمًآ يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْـمَةَ رَبِّهٖ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّـذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّـذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۗ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُو الْاَلْبَابِ
ترجمہ
(8) جس وقت انسان کو کوئی ضرپہنچتا ہے توپھروہ اپنے پروردگار کو پکارتا ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہےلیکن جب وہ اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرے وہ اس بات کو
جس کے لیے وہ پہلے خدا کو پکارتا تھا بھول جاتا ہے اور خدا کے لیے شریک و امثال قرار دینے لگتا ہے تاکہ لوگوں کو ا س کی راہ سے منحرف کر دے۔ کہہ دے کہ چند دن کے لیے
اپنے کفر سے فائدہ اٹھائے کیونکہ آخرتو اصحاب جہنم میں سے ہے۔
(9) کیا ایسے شخص کی کوئی قدروقیمت ہے یا اس شخض کی جورات کی گھڑیوں میں عبادت میں مشغول رہتا ہےاور سجدہ وقیام کی حالت میں رہتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے
پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے۔ کہہ دے کہ کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں؟ صرف صاحبان عقل و فہم ہی اس بات کو سمجھتے ہیں ۔