Tafseer e Namoona

Topic

											

									   کیا عالم وجابل برابر ہیں؟

										
																									
								

Ayat No : 8-9

: الزمر

وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ۸أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ ۹

Translation

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پوری توجہ کے ساتھ پروردگار کو آواز دیتا ہے پھر جب وہ اسے کوئی نعمت دے دیتا ہے تو جس بات کے لئے اس کو پکار رہا تھا اسے یکسر نظرانداز کردیتا ہے اور خدا کے لئے مثل قرار دیتا ہے تاکہ اس کے راستے سے بہکا سکے تو آپ کہہ دیجئے کہ تھوڑے دنوں اپنے کفر میں عیش کرلو اس کے بعد تو تم یقینا جہّنم والوں میں ہو. کیا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کی حالت میں خدا کی عبادت کرتا ہے اور آخرت کا خوف رکھتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے .... کہہ دیجئے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہوجائیں گے جو نہیں جانتے ہیں - اس بات سے نصیحت صرف صاحبانِ عقل حاصل کرتے ہیں.

Tafseer

									   تفسیر
                کیا عالم وجابل برابر ہیں؟
 گزشتہ آیات میں توحیداستدلالی اور آفاق وانفس میں عظمت خدا کی نشانیوں کے حوالے سے معرفت پروردگار کے متعلق گفتگو تھی۔ زیربحث آیات میں پہلے توحید فطری کی بات کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ انسان عقل وخرد اور نظام آفرینش کے مطالعے سے جو کچھ درک کرتا ہے وہ فطری طور پر اس کی روح کی گہرائیوں میں موجود ہے ۔ مشکلات اور حوادث کے طوفانوں میں یہ توحید فطری خود کو ظاہر کر دیتی ہے لیکن فراموش کار انسان طوفان حوادث گزر جانے کے بعد دوبارہ غفلت وغرور میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
 فرمایا گیا ہے: جس وقت انسان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے (تو نور توحید اس کے دل میں جگمگا اٹھتا ہے اور وہ) اپنے پروردگار کو پکارتا ہے۔ اس حال میں وہ اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنے گناہ اور غفلت پرپشیمان ہوتا ہے (و اذا مس الانسان ضردعا ربه منيبًا اليه)۔
 لیکن جب خود اپنی طرف سے کوئی نعمت اسے عطا کرتا ہے تووہ گزشتہ ابتلاء عادی مشکلات کو بھول جاتا ہے جن کی وجہ سے لطف الٰہی کے دامن سے وابستہ ہوا (ثم اذاخوله نعمة منه نسي ما كان يدعوا اليه من قبل)۔ ؎1
 وہ خدا کے لیے شریک اور شبیہ بنالیتے ہیں اوران کی پرستش کرنے لگتے ہیں تاکہ اپنی گمراہی کے علاوہ لوگوں کو بھی راہ خدا سے منحرف کردی (و جعل لله اندادًا ليضل عن سبيله).
 یہاں انسان سے مراد عام انسان اور انبیاء کی تعلیمات کے سایے میں تربیت پانے والے انسان ہیں۔ ورنہ مردان حق کے ہاتھوں تربیت پانے والے انسان خودان کی طرح "سراء" و "ضراء" میں تکلیف و راحت میں اور ناکامیوں اور کامیابیوں میں ہمیشہ اس کی یاد میں رہتے ہیں اور اس کے دامن لطف سے وابستہ رہتے ہیں۔
 یہاں "ضر" سے مراد ہرقسم کا گزند . نقصان ، ناراحتی اور تکلیف ہے چاہے وہ جسمانی پہلو سے ہو یا روحانی سے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   "نسى ما كان يدعوا الیه" میں "ما"  کیامعنی دیتا ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان بحث ہے۔ ایک جاعت تویہ کہتی ہے کہ یہ "ما"  "موصولہ" ہے اور "ضر" کی طرف اشارہ ہے(یہ معنی تمام معانی میں سے زیادہ مناسب نظر آتا ہے ، اور سطور بالا میں ہم نے اسی کو انتخاب کیا ہے) ۔ بعض اسے "اللہ" کے معنی میں لیتے ہیں ۔ بعض اسے" مامصدریہ" اور وعاء کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ سورۃ یونس کی آیہ 12 میں ہے۔
 واذا مس الانسان الضر دعانا لجنبه او قاعدًا وقائمًا فيما كشفنا عنه
 ضرہ من كان لم یدعنا الفي ضرمسه 
 اس میں غور کیا جا ئے تو یہ آیت بھی ہمارے مذکورہ پہلے معنی کے لیے ایک شاہدهے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 "خوله" "خول" (بروزن "عمل") کے مادہ سے، کسی چیزسےسرکشی اور ہمیشہ کی پریشانی کے معنی میں ہے اور چونکہ اس قسم کی مخصوص توجہ کا لازمہ عطا فرشش ہے۔ اس لیے یہ ماده بخٹے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ 
 ایک گروہ نے یہ بھی کہا ہے کہ "خول" (بروزن "عمل" ) خدمت گزاری کے معنی میں بھی آیا ہے اس بنا پر "خوله" کامعنی یہ ہوگا کہ "اسے خدمت گزاربخشا" اورپھرہرقسم کی نعمت بخشنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ 
 بعض نے اس مادہ کو فخرومباہات کے معنی میں سمجھا ہے۔ اس بنا پر مذکورہ جملے کا مطلب ہے کسی کو عطائے نعمت کے ذریعے مفنخر بنانا۔ ؎1 
 مجموعی طور پر یہ جملہ عطاءو بخشش کے علاوہ خدا کی خاص توجہ اور عنایت کو بھی بیان کرتا ہے۔ 
 "منيبًا الیه" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان سخت حالات میں جبکہ غرور غفلت کے تمام پردے بٹ جاتے ہیں، توخدا کے سوا جو کچھ بھی ہے اس سب کو چھوڑ کر خداکی طرف رجوع کرتا ہے اور "انابة" اور بازگشت کے مفهوم میں حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے کہ انسان کا اصلی مقام اور اس کا مبداء دمقصد بھی خدا ہی تھا۔ 
 "انداد" "ند"  (بروزن "ضد") کی جمع ہے مثل و مانند کے معنی میں ہے۔ اس فرق کے ساتھ کے "مثل" ایک وسیع مفهوم رکھتا ہے۔ لیکن "ند"  کسی چیز کی حقیقت اور اس کے جوہرمیں مماثلث کے معنی میں ہے۔ 
 "جعل" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان اپنے وہم وگمان اورخیال خام سے خدا کے مثل ومانند تراشتا ہے اورجعل کرتا ہے یعنی وہ چیز کسی طرح بھی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ 
 "ليضل عن سبيله"  اس بات کی نشاندہی کرتا ہے مغروروگمراہ لوگ صرف اپنی ہی گمراہی پربس نہیں کرتے کہ وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کو بھی اس وادی کی طرف کھینچ لے جائیں ۔ 
 بہرحال قرآن مجید کی آیات میں توحید فطری اور زندگی کے سخت حوادث کار بط بارہاکو بھی بیان کیا گیا ہے ، کیونکہ یہ حوادث ا س کی تجلی گاہ ہیں ـــــــ نیزاس مغرور انسان کی بدل جانے والی حالت اور کم ظرفی کو بھی بیان کیا گیا ہے ۔ انسان طوفانوں میں تو توحید خالص اور رنگ الہی کو اپنالیتا ہے اور طوفان کے رکتے ہی اس رنگ کو بدل دیتا ہے ، یہ اور ہٹ دھرمی سے شرک کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 ایسے متلون مزاج افراد کس قدر زیادہ ہیں اور ایسے لوگ کتنے کم ہے کہ جن میں کامیابیاں نعمتیں، راحت و آرام اور طوفان حوادت کی کسی قسم کا کوئی تغیر پیدا نہیں کرتے۔ 
 ہاں! ایک پانی کا برتن یا ایک چھوٹا سا لوٹا معمولی سی ہوا سے الٹ جاتا ہے لیکن ایک بڑا سمندراپنی غظمت کی وجہ سے سخت طوفانوں کے مقابلے میں بھی اپنی جگہ پررہتا ہے اوراسی وجہ سے اس نے اپنے لیے آرام کا نام اپنایا ہواہے۔ 
 آیت کے آخر میں ایسے انسان کو صریح ، قاطع اور زور دار تہدید کے ساتھ مخاطب کرنے کے لیے قرآن کہتا ہے، اس سے کہہ دے :
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   لسان العرب، مفردات راغب او تفسیر روح المعانی کی طرف رجوع کریں ۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
تو اپنے کفر اور کفران سے تھوڑا سا فائده اٹھا لے ، چند دن اورغفلت اور غرور میں بسرکرلے لیکن یہ جان ہے کہ آخرکار تو اصحاب دوزخ سے  ہے (قل تمتع بكفرك قليلاً انك من اصحاب النار) ۔
 کیا اس قسم کے کوتاہ فکر گمراہ اور گمراہ کرنے والے انسان کا انجام اس کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے؟ 
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 بعد والی آیت میں موازہ کیا جارہا ہے اور مختلف مسائل سمجھانے میں قرآن کی جانی پہچانی روش ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا ایسا شخص قدروقیمت والا ہے یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں پروردگار کی عبادت اور سجدہ وقیام میں مشغول رہتا ہے ، اس کے ساتھ راز ونیازکی باتیں کرتا ہے ، عذاب آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے (امن هو قانت آناء الليل ساجدًا وقائمًا يحذر الأخرة و برجوا رحمة ربه)۔ ؎1 
 کہا وہ مشرک و فراموش کار، متلون مزاج ، گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا انسان اور کہاں یہ بیدار، نورانی اور باصفادل والا انسان ۔ کہ جس وقت رات کی تاریکی میں غافلوں کی آنکھیں نیند میں بند ہوتی ہیں وہ اپنی پیشانی کو اپنے محبوب کی چوکھٹ پر رکھے ہوئے ہوتا ہے اور خوف ورجاء کے ساتھ اسے پکارا ہوتا ہے۔ 
 ایسے افراد نہ تو نعمت کے وقت اپنے آپ کو سزا سے امان میں سمجھتے ہیں اور نہ ہی بلاء و مصیبت کے وقت اس کی رحمت سے و قطع امید کرتے ہیں اور یہ دونوں عوامل ان کے وجود کو ہمیشہ اورمسلسل متحرک رکھتے ہوئے ہوش اور احتیاط کے ساته ، دوست کی طرف لے جاتے ہیں۔ 
 "قانت"  "قنوت" کے مادہ سے، خضوع کے ساتھ ان اطاعت میں لگے رہنے کے معنی میں ہے۔ 
 "ناء" "انا" (بروزن" صدا" و "فنا") کی جمع ہے۔ ساعت اور وقت کی کچھ مقدار کے معنی میں ہے۔ 
 رات کی سماعت اورگھڑی کاذکراس بنا پر ہے کہ اس وقت حضور قلب زیادہ اور ریا سے آلودگی دیگر اوقات کی نسبت بہت کم ہوتی ہے۔ 
 "ساجدًا" کو " قائما"  پراس وجہ سے مقدم رکھا ہے کیونکہ سجدہ عبادت کا بالا تر مرحلہ ہے۔ نیز رحمت کا مطلق ہونا اور اس کا آخرت کے ساتھ مشروط نہ ہونا ، خدا کی رحمت کی وسعت اور دنیاو آخرت دونوں جہانوں میں اس کی موجودگی کی دلیل ہے۔ 
 ایک حدیث میں جو علل الشرائع میں امام باقر سے اوراسی طرح کتاب کافی میں آپ ہی سے نقل ہوئی ہے۔ بیان ہوا ہے کہ یہ آیت (امن هو قانت آناء الليل)نماز شب کےمعنی میں ہے۔ ؎2 
 یہ بات واضح ہے کہ تفسیربھی بہت کی دوسری تفاسیر کی طرح اور ویسے ہی ایک واضح مصداق کے مانندہے جیسےقرآن کی مختلف آیات 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    اس جملے میں محزوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے 
 اهذا الذي ذكرناه خیرآمن هو قانت آناء الليل ...... 
  ؎2   علل الشرائع اور کافی  (نورالثقلین جلد 4 ص 479 کے مطابق) 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
 ذیل میں مصدق کے طور پر تفاسیر بیان ہوئی ہیں اور یہ آیت کے مفہوم کو نماز شب میں محدود نہیں کرتی۔ 
 آیت کے آخری نیں پیغمبراکرمؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کہہ دے کیا علم والے اور بے علم برابر ہوتے ہیں (قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون). 
 نہیں ! وہ کیساں نہیں ہیں ۔ " صرف صاحبان فکر ونظرہی ان سے متوجہ ہوتے ہیں" ( انما بتذكر اولوا الالباب)۔ 
 اگرچہ مذکورہ سوال ایک وسیع سوال ہے اور آگاہ ونا آگاہ اور صاحبان علم اور بےعلم لوگوں کے درمیان ایک واضح موازنہ ہے۔ 
 لیکن اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس سوال سے پہلے ایک اور سوال ہے اور وہ ہے مشرکین کے مومنین شب زنده دار کے برابر ہونے کے بارے میں۔ اس لیے دوسرا سوال بھی زیادہ تراسی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ یہ ہٹ دهرم اوردل کے اندھے سے مشرک ، ان پاک و روشن ضمیر اورمخلص مومنین کے برابب نہیں ہیں ۔ کیا وہ ان افراد کے مساوی ہیں جواس واضح و روشن حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں؟ 
 بہرحال یہ جملہ جواستفہام انکاری سے شروع ہوا ہے اور اسلام کے اساسی اور بنیادی شعاروں میں سے ہے ، جاہلوں کے مقابلے میں علم اور علماء کے مقام کی عظمت کو واضح کرتا ہے اور چونکہ یہ نابرابری مطلق صورت میں ذکر ہوئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں گروہ نہ تو بارگاہ خدا میں یکساں ہیں اور نہ ہی آگاہ مخلوق کی نظرميں، تودنیامیں ایک صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں ،نہ ظاہر میں یکساں ہیں اور نری باطن میں۔ 

   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ