Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سب کی ایک ہی نفس سے پیدائش

										
																									
								

Ayat No : 6-7

: الزمر

خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۚ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ ۶إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ۷

Translation

اس نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے اور پھر اسی سے اس کا جوڑا قرار دیا ہے اور تمہارے لئے آٹھ قسم کے چوپائے نازل کئے ہیں. وہ تم کو تمہاری ماؤں کے شکم میں تخلیق کی مختلف منزلوں سے گزارتا ہے اور یہ سب تین تاریکیوں میں ہوتا ہے - وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کے قبضہ میں ملک ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے پھر تم کدھر پھرے جارہے ہو. اگر تم کافر بھی ہوجاؤ گے تو خدا تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا ہے اور اگر تم اس کا شکریہ ادا کرو گے تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے اور کوئی شخص دوسرے کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے اس کے بعد تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم دنیا میں کیا کررہے تھے وہ دلوں کے حُھپے ہوئے رازوں سے بھی باخبر ہے.

Tafseer

									  تفسیر 
              سب کی ایک ہی نفس سے پیدائش 
 ان آیات میں پھر آفرنیش الٰہی کی عظمت کی نشانیوں کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے اور انسانوں کے لیے اس کی طرح طرح کی نعمتوں کا حصہ بیان کیا جارہا ہے. 
 پہلے انسان کی خلقت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا نے تم سب کو ایک شخص سے پیدا کیا ہے، پھر اس  
کی بیوی کو اس سے پیدا کیا (خلقکم من نفس واحدة ثم جعل منها زوجها)۔ 
 تمام انسانوں کی ایک ہی نفس سے خلقت دراصل ہمارے پہلے جد امجد حضرت آدمؑ کی خلقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تمام انسان خلقت کے تنوع، مختلف اخلاق و عادات اور مختلف استعداد اور ذوق کے ساتھ ایک بی جڑ کی طرف لوٹتے ہیں کہ جو "آدم" ہے۔ 
  "ثم جعل منها من زوجها" دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدانے پہلے آدم کوخلق کیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی کو اس کی باقی ماندہ مٹی سے پیدا کیا۔ ؎1 
 اس حساب سے حوا کی خلقت آدمؑ کی خلقت کے بعد اور اولاد آدم کی خلقت سے پہلے ہوئی۔ 
 لفظ" ثم " ہمیشہ تاخیر زمانی کے لیے نہیں آتا بلکہ کبھی تاخیر بیان کے لیے بھی آتا ہے مثلاً ہم کہتے ہیں : ہم نے تمھارا آج کا کام دیکھا پھر تمھارا کل کا کام بھی دیکھا۔ حالانکہ گزشت کل کے اعمال سے مسلمًا آج کے اعمال سے پہلے واقع ہوئے ہیں ، لیکن ان کا ذکر بعد کے مرحلے میں ہوا۔ 
 یہ جو بعض نے اس تعبیر کو آدم کی خلقت کے بعد اور حوا کی خلقت سے پہلے عالم ذر میں اولاد آدم کی چیونٹیوں کی شکل میں خلقت کی طرف اشارہ سمجھا ہے، درست نہیں ہے۔ اس بات کو ہم سوره اعراف کی آیہ 172، کے ذیل میں عالم ذر کی تفسيریں 
۔ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1   درحقیقت مذکورہ بالا جملےمیں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے :
  خلقکم من نفس واحدة خلقها ، ثم جعل منها زوجها 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبیان کر چکے ہیں۔ ؎1
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 یہ نکتہ بھی یاد دہانی کے قابل ہے کے آدم کی بیوی کی خلقت خود آدم کے وجود کے اجزا سے نہیں ہوئی بلکہ اس کی بچی ہوئی گیلی مٹی سے ہوئی تھی ۔ جیساکہ روایات میں اس کی تصریح موجود ہے لیکن وہ روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ حوا آدم کی آخری بائیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں ایک بے بنیاد بات ہے جو اسرائیلیات میں سے ہے اور وہ اس مطلب کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ جو موجودہ تحریف شدہ تورات کے سفرتکوین کی دوسری فصل میں موجود ہے اور اس سے قطع نظر وہ مشاہدہ اورحس کے بات ہے برخلاف ہے کیونکہ اس روایت کے مطابق آدم کی ایک پسلی اٹھادی گئی اوراس سے حوا پیدا ہوئیں، اس لیے مردوں کے بائیں طرف کی ایک پسلی کم ہوتی ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ مرد اور عورت کی پسلیوں کی تعداد میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ فرق ایک افسانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ 
 اس کے بعد چوپایوں کی خلقت کا ذکر ہے کہ جو انسانوں کی زندگی کے اہم وسائل میں سے ہیں ۔ چوپائے ایک طرف تر دودھ اور گوشت کے لیے کام آتے ہیں ۔ دوسری طرف ان کے چمڑے اور بالوں سے لباس اور زندگی کی دوسری ضروریات تیار کی جاتی ہیں۔ نیز سواری اورحمل و نقل کے لیے انسان ان سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ لہذا اس طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تمھارے لیے چوپایوں کے آٹھ جوڑے نانزل کیے (وانزل لكم من الأنعام ثمانية ازواج )- 
 آٹھ جوڑوں سے مراد گوسفند ، بکری، اونٹ اور گائے کے نر اور مادہ ہیں۔ چونکہ لفظ " زوج" ہر جنس کے نر اور مادہ دونوں کو کہا جاتا ہے۔ لہذا مجموعی طور پر8 زوج ہوں گے ((اگرچہ ہماری روزمرہ کی زبان میں "زوج" جوڑے کو کہا جاتا ہے ، لکین عربی زبان میں ایسا نہیں ہے) اسی لیے اس آیت کی ابتداء میں حضرت آدم کی بیوی کو زوج کہا گیا ہے۔ 
 "انزل لكم) (تمھارے لیے نازل کیا) کی تعبیر، جوچوپایوں کے بارے میں ـــــــــ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے ــــــــ اوپر کی طرف سے نیچے کی طرف بھجینے کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ اس قسم کے موقع پریہ لفظ" نزول مقامی" کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی وہ ایک ایسی نعمت ہے جو برترمقام اور بالاتر ہستی کی طرف سے پست تر مخلوق کو عطا کی گئی ہے۔ 
یہ احتمال بھی ذکر کیاگیا ہے کہ یہاں "انزال"  "نزل " "(بروزن رسل) کے مادہ سے ، مہمان کی پذیرائی کرنے یا اس پہلی چیز کے معنی میں ہے جو مہمان کی دعوت اور پزیرائی کے لیے لائی جائے ۔ جیسا کہ سورة آل عمران کی آیہ 198 میں جنتیوں کے بارے میں ہے۔ 
  خالدين فيهانزلاً من عند الله 
  وہ ہمیشہ ہمیشہ بہشت میں رہیں گے یہ خدا کی طرف سے پذیرائی ہے۔ 
 بعض مفسیرن نے یہ بھی کہا ہے کہ  چوپائے اور اگرچہ اوپر کی طرف سے نہیں اترتے لیکن ان کی حیات وپرورش کے مقدمات یعنی بارش کے حیات بخش قطرات اور سورج کی حیات کی حیات شعاعیں اوپر سے زمین کی آتی ہیں۔ 
 اس ےتعبیر کی ایک چوتھی تفسیری بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ ابتدا میں تمام موجودات عالم غیب میں پروردگار کے علم وقدرت کے 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   جلد 7 کی طرف رجوع کر لیں۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
خزانے میں تھیں۔ اس کے بعد وہ مقام غیب سے مقام شہود وظهورمیں پہنچی ہیں۔ اس لیے اسے "انزال" سے تعبیر کیاگیا ہے۔ جیسا کہ سوره حجر کی آیہ 21 میں ہے: 
  وان من شي الاعندنا خزائنه و ماننزله الابقدر معلوم 
  ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم ایک معین و معلوم اندازے کے مطابق ہی اس میں سے 
  نازل کرتے ہیں۔ ؎1 
 البتہ پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔ اگرچہ ان تفاسیر کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اورممکن ہے کی یہ سب ٓآیت کے مفہوم میں داخل ہوں۔ 
 ایک حدیث میں امیرالمؤمنین علی سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : 
  انزاله ذاللک خلقه اياه 
  چوپایوں کے آٹھ جوڑے نازل کرنے کا معنی خدا کی طرف سے ان کی خلقت ہی ہے۔ 
 یہ حدیث بیی کا ظاہرًا پہلی تفسیرکی طرف ہی اشارہ ہے، کیونکہ خدا کی طرف سے خلقت ایک ایسی خلقت ہے جوایک برتر مقام کی طرف سے ہے۔ 
 بہرحال اگر چہ موجودہ زمانے میں چوپایوں سے حمل ونقل کا بہت کم کام لیاجاتا ہے لیکن ان کے دوسرے اہم فائدے نہ صرف یہ کہ گزشتہ زمانے کی نسبت کم نہیں ہوئے بلکہ ان میں اوربھی وسعت پیدا ہوگئی ہے۔ آج بھی انسانوں کی غذا کا بہترین حصہ چوپایوں ہی کے دودھ اورگوشت سے حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ لباس اور دوسری ضروریات زندگی بھی انھی کے بالوں اور چمڑے سے تیار کی جاتی ہیں ۔ اسی بنا پر دنیا کے بڑے بڑے ممالک کی آمدنی کا ایک  اہم حصہ انھیں جانوروں کی پرورش سے صورت پذیر ہوتاہے۔ 
 اس کے بعد آفرنیش الٰہی کے مختلف طریقوں میں سے ایک اور طریقہ کو بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے جنین کی خلقت کے مختلف مراحل ارشاد ہوتا ہے : وہ  تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تاریکیوں کے پردے میں ایک کے بعد دوسری خلقت، اور ایک کے بعد دوسری آفرینش عطا کرتا ہے (يخلقكم في بطون امهاتکم خلقًا من بعد خلق في ظلمات ثلاث)۔ 
 یہ بات کہے بغیر کی ظاہر ہے کہ " خلقًا من بعد خلق" سے مراد مکرر پے درپے اور یکے بعد دیگرے کئی خلقتیں ہیں نہ کہ صرف دو خلقتیں۔ 
 یہ بات بھی واضح ہے "يخلقکم" اس بنا پرفعل مضارع ہے۔ استمرار پردلالت کرتا ہے اور جنین کے ایک دوسرے سے مخالفت اور عجیب وغریب اور حیرت انگیز مرحلوں اوراس میں ان عجیب تبدیلیوں کے واقع ہونے کی طرف ایک مختصر اور پرمعنی اشارہ ہے ، جو ماں کے پیٹ میں ظہور پزیر ہوتی ہیں۔ جنین شناسی علماء کے بقول یہ سب کچھ پروردگار کی آفرنیش کے نمونوں میں سے عجیب ترین اور ظریف ترین ہے۔ یہاں کا جنین شناسی کا علم، توحید اور خدا شناسی کا ایک مکمل دوره شمار ہوتا ہے اور بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1   تفسیر المیزان "روح المعانی" زیریحث آیات کے ذیل میں. 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
ان مسائل کی باریکیوں کو مطالعہ کرنے کے بعد بھی ان کے پیداکرنے والے کی حمدوستائش نہ کرنے لگیں۔
 "ظلمات ثلاث" (تین تاریکیوں) کی تعبیر شکم مادر کی تاریکی ، رحم کی تاریکی اور یہ مشیمہ(وہ مخصوص تھیلی جس میں جنین ہوتاہے) کی تاریکی ہے جو حقیقت میں تین ضخیم اور دبیز پردے ہیں جو "جنین" کے اوپر لپیٹے ہوئے ہیں۔ 
 عام تصویر بنانے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکمل نور اور روشنی کے سامنے تصویر بنائیں لیکن انسان کا پیدا کرنے والا اس عجیب اندھیری جگہ میں پانی پر اس طرح نقش ونگاراور تصویر بناتا ہے کہ سب اسے دیکھ کر محو ہوجاتے ہیں اور ایسے مقام پر جہاں پر بھی قسم کی دسترس کسی طرف سے نہیں ہے، اس کی روزی اور رزق لگاتار پہنچاتا ہے تاکہ وہ تیزی کے ساتھ نشوونماپائے اوراس وقت اس امر کا وہ سخت محتاج ہوتا ہے۔  
 سیدالشهداء امام حسین علیه السلام کی ایک مشہور دعائے عرفہ ہے جو درس توحید کا ایک کامل و عالی دورہ ہے۔ اس میں آپؑ خدا کی  نعمتوں اور اس کی قدرتوں کو شمار کرتے وقت اس کی بارگاہ میں اس طرح عرض کرتے ہیں :
  وابتدعت خلقی من منی يمني ، ثم اسكنتني في ظلمات ثلاث، بين الحم 
  وجلد و دم ، لم تشهر بخلقي، ولم تجعل الى شيئامن امری،ثم اخرجتني
  الى الدنيا تامًاسويا 
  میری خلقت و آفرنیش کی ابتداء منی کے ناچیز قطرات سے قرار دی۔ پھر مجھے تین تاریکیوں کے اندر گوشت، 
  پوست اور خون کے درمیان ساکت کر دیا۔ میری خلقت کو تو نے آشکار نہیں کیا اور اس پوشیده جگہ پر میری 
  خلقت کو مختلف مراحل میں جاری رکھا اور میری زندگی کے امور میں کسی ایک کو بھی میرے سپرد نہیں کیا۔ 
  پھر مجھے کامل و سالم دنیا میں منتقل کر دیا ۔ ؎1 
 (جنین کے دوراوراس کے مختلف مراحل کی خلقت کے بارے میں جلد 2 میں سورہ آل عمران کی آیہ 6 کے ذیل میں اورجلد 14 میں سورة 
حج کی آیه 5 کے ذیل میں ہم نے گفتگو کی ہے۔ 
 تین توحیدی حلقوں انسانوں کی خلقت ، چوپایوں کی پیدائش اور جنین کی مختلف حالتوں اور مرحلوں کے بارے میں بیان کرنے کےبعد آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : یہ ہے تمھارا پروردگار خدا ، تمام عالم ہستی کی حکومت اسی کے لیے ہے ، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر (ایسے میں) تم راہ حق سے کس طرح منحرف ہوتے ہو (ذالكم الله ربكوله الملك لا اله الا هوفانی و تصرفون )۔
 گویا انسان کو توحید کے ان عظیم آثار کے مشاہدہ کے بعد پروردگار کے مقام شہود تک پہنچا دیا ہے ۔ اس کے اپنی مقدس ذات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ ہے تمھارا خدا معبود اور پروردگار ، اور واقعًا اگر چشم بینا ہو تواسے ان آثار کی اوٹ میں اچھی طرح دیکھ سکتا ہے، سروالی آنکھ تو آثار کر دیکھتی ہے اور دل والی آنکھ آثار کے پیدا کرنے والے کو ؎
  باصد ہزار جلوه بردن آمدی کہ من             باصد ہزار دیده تماشا کنم تورا  
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1       دعائے عرفه (مصباح الزائرابن طاؤس )
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 تو تو ایک لاکھ جلوؤں کے ساتھ بار آیا ہے اور میں بھی ایک لاکھ آنکھوں سے تجھے دیکھ رہا ہوں۔ 
 "ربکم" کی تعبیر اوراسی طرح "له الملك" کی تعبیر حقیقت میں خداکی ذات پاک ہی میں جو منحصر ہونے کی ایک دلیل ہے جو "لا اله الا هو"  میں بیان ہوئی ہے۔ (غور کیجیے گا) 
 جب خالق وہی ہے تو مالک و مربی بھی وہی ہے، تمام عالم ہستی کی مالکیت بھی اسی کے لیے ہے ۔ اس کے سوا کسی اورکا کونسا نقش ہے کہ اسے عبودیت کے لائق سمجھا جائے؟ 
  یہ وہ منزل ہے کہ گویا وہ ایک سوئی ہوئی جماعت اور ایک غافل اور ہر چیز سے بے خبرگروہ کو پکار کر کہتا ہے، فانی تصرفون اس حالت میں تم کسی طرح غافل ہوئے اور راہ توحید سے منحرف ہو گئے ؟۔ ؎1 
 پروردگار کی ان عظیم نعمتوں کے ذکر کے بعد اگلی آیت می شکرو کفران کے حوالے سے اس کے مختلف پہلوؤں کومورد طالعہ قراردیا گیا ہے۔ 
 پہلے ارشاد ہوتا ہے تمھارے کفران اور شکر کانتیجہ تمھاری ہی طرف لوٹتا ہے اور اگر تم کفران کرو گے توخداتم سے بے نیاز ہے (اوراسی طرح اگر تم اس کی نعمت کا شکر بجالاؤ گے تو اسے اس کی بھی احتیاج نہیں ہے) (ان تکفروا فان الله غني عنكم )۔ 
 اس کے بعد مزیدارشاد ہوتا ہے : پروردگار کی یہ بے نیازی اورغنا اس سے مانع نہیں ہے کہ تمھیں شکر کا ذمہ دار قرار دے اورکفران سے روک دے۔ چونکہ فریضہ خودایک لطف اور ایک دوسری نعمت ہے۔ ہاں ! وہ اپنے بندوں سے ہر گز کفران نعمت پسند نہیں کرتا اور اگر اس کا  شکر بجالاؤ تو وہ تمھارے لیے پسند کرتا ہے (ولا يرضٰى لعباده الكفر وان تشکروایرضه لكم)۔ ؎2 
 ان دو مطالب کو بیان کرنے کے بعداس سلسلے کا تیسرا مسئلہ پیش کیاگیا ہے اور وہ ہے ہرشخص کی اس کے اپنے عمل پرباز پرسں ۔ کیونکہ زمہ داری اور "تکلیف" کا مسئلہ اس مطلب کے بغیرمکمل نہیں ہوتا۔ لہذا فرمایاگیا ہے : کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے کندھے پرنہیں اٹھاۓگا ( اولا تزر وازرۃ وزر اخٰری)۔ 
 اور چونکہ ذمہ داری جزاء وسزا کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ لہذا چوتھے مرحلے میں معاد کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پھر تم سب کی واپسی تمھارے پروردگار کی طرف ہوگی اور وہ تمھیں ان چیزوں سے آگاہ کرے گا جنھیں تم انجام دیا کرتے تھے (ثم الى ربكم مرجعكم فينبئكم بما كنتم تعملون)۔ 
 اور چونکہ محاسبہ اور جزا کا مسئلہ پوشیده بھیدوں سے آگاہی کے بغیر ممکن نہیں ہے لہذا آیت کواس جملہ پر ختم کیا گیا ہے۔ 
 وہ ان تمام باتوں سے آگاہ ہے جوسینوں میں چھپی ہوئی ہیں اور جو کچھ سینوں پرحکم فرما ہے ( انه عليم بذات الصدور) - 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1    توجہ رکھیں کہ" این" کہاں اورکبھی " کیف" (کس طرح) کے معنی میں آتا ہے۔ 
  ؎2    لفظ "یرضه" مشہور قرات میں ہاء کی پیش کے ساتھ ضمیرکے اشباع کے بغیر پڑھا جاتا ہے کیونکہ اصل میں " يرضاه " تھا۔ الف جزم کی وجہ سے گرگیا ہے، اور"یرضه" ہوگیا ہے ضمنی طور پر توجہ رکھناچاہیے کہ یہ ضمیر شکر کی طرف لوٹتی ہے۔ اگرچہ قبل کی عبارت میں شکرکا لفظ صراحت کے ساتھ نہیں آیا لیکن "ان تنشكروا " اس پر دلالت کرتا ہے ہے " اعدلوا هو اقرب للتقوٰی" کی ضمیر عدالت کی طرف لوٹتی ہے۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
اس طرح سے ذمہ داری اور اس کی خصوصیات اوراسی طرح انسانوں کی مسئولیت اورجزاو سزا کا فلسفہ مجموعی طور پر مختصر میں ایک نظر ترتیب کے ساتھ بیان کردیاگیا ہے۔ 
  ضمنی طور پر یہ آیت مکتب جبرواکراہ کے طرفداروں کا ایک دندان شکن جواب ہے۔ باعث افسوس ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں میں کم نہیں ہیں۔ صراحت کے ساتھ قرآن کہتا ہے: وہ اپنے بندوں کے کفران کرنے پر ہر راضی نہیں ہے۔ یہ بات خود ایک واضح دلیل ہے کہ اس نے کافروں کے بارے میں کبھی بھی کفرکا ارادہ نہیں کیا ہے (جیسا کہ مکتب جبر کے پیروکار کرتے ہیں) کیونکہ جب وہ کسی چیز سے راضی نہیں ہے تویقینًا اس کا ارادہ بھی نہیں کرے گا کیا یہ ممکن نہیں کہ اس کا ارادہ اس کی رضا سے جدا ہو؟
 تعجب توان متعصب لوگوں پر ہے جواس واضح عبارت پر پردہ پوشی کرنے کے لیے چاہتے ہیں کالفظ "عباد" کومومنین یا معصومین میں محصور کر دیں ۔ حالانکہ یہ لفظ مطلق ہے اور واضح طور پر تمام بندوں کے لیے ہے ۔ہاں ! خدا کفرو کفران اپنے بندوں میں سے کسی کے لیے بھی پسند نہیں کرتا۔ جیساکہ بغیرکسی استثناء کے ان سب کے لیے شکر کو پسند کرتا ہے۔ ؎1 
 یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ہر شخص کی ، اس کے اعمال کے مقابلہ میں اصل مسئولیت، منطقی اصول کے مطابق اور تمام ادیان آسمانی کے مسلمات میں سے ہے۔ ؎2 
 البتہ کبھی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان کسی دوسرے کے جرم میں شریک ہولیکن یہ اس صورت میں ہے جبکہ وہ کسی طرح سےاس عمل کے مقدمات یاخوداس عمل کے ایجاد کرنے میں خیال رکھتا ہو۔ ان لوگوں کے مانند جوکوئی بری بدت قائم کرجاتے ہیں یا کسی قبیح وغلط رسم کی بنیاد ڈال جاتے ہیں۔ توجو شخص بھی اس پرعمل کرے گا ، اس کا گناہ "مسبب اصلی" کے لیے بھی لکھا جائے گا۔ بغیراس کے کہ اس پر کرنے والوں کے گناه کسی چیزکی کمی ہو۔ ؎3 
     ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1    "شکر" اس کی اہمیت ، اس کافلسفہ اس کی ، اس مفہوم حقیقی اوراس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں ہم جلد 10 میں سورة ابراہیم کی آ یہ 5  کے ذیل میں تفصیل سے بات کر چکے ہیں۔ 
  ؎2    اس سلسلے میں بھی جلد 12 میں سورہ بنی اسرائیل کی آیہ 15 کے ذیل میں گفتگوہوچکی ہے۔ 
اس سلسلے میں بھی  سورہ انعام کی آیه 64 کے ذیل میں ہم نے بحث کی ہے۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------