وہ ہرچیزپر حاکم ہے۔ اسے اولاد کی کیا ضرورت ہے؟
لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لَاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ سُبْحَانَهُ ۖ هُوَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۴خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۗ أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ ۵
اور وہ اگر چاہتا کہ اپنا فرزند بنائے تو اپنی مخلوقات میں جسے چاہتا اس کا انتخاب کرلیتا وہ پاک و بے نیاز ہے اور وہی خدائے یکتا اور قہار ہے. اس نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور اس نے آفتاب اور ماہتاب کو تابع بنادیا ہے سب ایک مقرّرہ مدّت تک چلتے رہیں گے آگاہ ہوجاؤ وہ سب پر غالب اور بہت بخشنے والا ہے.
تفسیر
وہ ہرچیزپر حاکم ہے۔ اسے اولاد کی کیا ضرورت ہے؟
گزشتہ آیات میں اس ضمن میں گفتگو ہوئی ہے کہ مشرکین بتوں کو خدا کے نزدیک واسطہ اور شفیع سمجھے تھے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے بعض معبودوں مثلاً فرشتوں کے بارے میں ایک اور عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ وہ انہیں خدا کی بیٹیاں خیال کرتےتھے۔ پہلی زیربحث آیت اس قبیح خیال کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہے: اگرخدا کسی کو اپنی اولاد بناناچاہتاتواپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا منتخب کرلیتا (لواراد الله ان يتخذ ولدا لاصطفى مما يخلق ما يشاء)۔
وہ اس سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کی کوئی اولا ہو وہ اللہ واحد ہے قہار ہے (سبحانه هو الله الواحد القهار).
پہلے جملہ کی تفسیرمیں مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں ۔
بعض نے تو کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی کو اولاد بنانا ہی چاہتا تو بیٹیوں کا انتخاب کیوں کرتا، جوتمھارے زعم کے مطابق بے قدر و قیمت انسان ہیں ، وہ بیٹوں کو منتخب کیوں نہ کرتا اور یہ حقیقت میں مخاطب کے ذہن کے مطابق ایک طرح کا استدلال ہے تاکہ وہ اپنی گفتگوکے سے بے بنیاد ہونے کو سمجھ لیںٓ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر خدا چاہتا کہ اس کی اولاد ہو تو فرشتوں سے برترو بہتر مخلوق پیدا کرتا۔
لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خدا کی بارگاہ میں بیٹیوں کے وجود کی قدر وقیمت بیٹوں سے کمترنہیں ہے اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرشتے اورحضرت عیسٰی جو منحرفین کے اعتقاد کے مطابق خدا کی اولاد ہیں ۔ بہت ہی باشرف اورلائق موجودات ہیں، اس لیے ان دونوں تفاسیر میں سے کوئی بھی مناسب نظر نہیں آتی ۔ بہتر یہ ہے کہ کہا جائے کہ آیت اس مطلب کو بیان کرنا چاہتی ہے کہ اولاد ضروری طور پر مدد اور روحانی تسکین کے لیے ہوتی ہے ۔ بفرض محال اگر خدا کو اس قسم کی احتیاج ہوتی تو اس کے لیے اولاد کا ہونا ضروری نہیں تھا بلکہ اپنی باشرف مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو منـتخب کرلیتا جو اس مقصد کو پورا کرتے، اولاد کا انتخاب کیوں کرتا ؟
لیکن وہ چونکہ واحدو یگانہ اور ہر چیز پر قاہرو غالب ہے اور ازلی وابدی ہے ، نہ وہ کسی کی مدد محتاج ہے اور نہ ہی کسی وحشت کا اس کے لیے کوئی تصورہے، جوکسی چیز سے روحانی تسکین حاصل ہونے کی وجہ سے برطرف ہو اور نہ ہی وہ نسل کے جاری رہنے کا محتاج ہے۔ اس بنا پر وہ اولاد رکھنے سے پاک و منزہ ہے، چاہےوہ حقیقی اولاد ہو یا اپنائی اور انتخاب کی ہوئی ۔
علاوہ ازیں جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ کم عقل بے خبر جو کبھی فرشتوں کو خدا کی اولاد خیال کرتے تھے اور کبھی اس کے اور جنوں کے درمیان کسی نسبت کے قائل ہوتے تھے اور کھبی حضرت مسیحؑ یاحضرت عزیزؑ کو خدا کا بیٹا بتاتے تھے، اس واضح حقیقت سے بے خبر تھے کہ اگر بیٹے سے مراد حقیقی بیٹا ہو تو سب سے پہلے تو اس کا لازمہ جسم ہے ، دوسرے تجزیہ کو قبول کرنا ہے (کیونکہ بیٹا باپ کے وجود کا ایک جزو ہوتا ہے جو اس سے جدا ہوتا ہے)۔ تیسرے اس کو لازمہ شبیہ ونظیر کا رکھنا ہے (کیونکہ بیٹا باپ سے مشابہت رکھتا ہے) اور جوتھے اس کا لازمہ بیوی کی احتیاج ہے۔
اورخدا ان تمام امور سے پاک ومنزہ ہے۔
نیز اگراس سے مراد انتخاب کردہ بیٹا ہو اور یعنی اپنایا ہواہو تو وہ بھی یا جسمانی کمک ومدد کے لیے ہوتا ہے۔ یا اخلاقی اور اس کے مانند انس کے لیے ہوتا ہے اور خداوند قادر وقاہر ان سب امور سے بے نیاز ہے۔
اس بناپر"واحد" و" قہار" کی تعبیران تمام احتمالات کا مختصر سا جواب ہے۔
بہرحال لفظ "لو" جو عام طور پر محال شرطوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایک فرض محال ہے کہ خداکسی فرزند کا انتخاب کرے اور اگر بفرض محال اسےاس کوئی ضرورت ہوتی تو جو کچھ وہ کہتے ہیں اسے اس کی ضرورت نہیں تھی ، بلکہ اس کی برگزیده مخلوقات اس مقصد کو پورا کر دیتیں۔
پھراس حقیقت کو ثابت کر نے لیے کہ خدا مخلوقات سے کوئی احتیاج نہیں رکھتا اور ساتھ ہی توحید اور اس کی عظمت کی نشانیوں کو بیان کرنےکے لیے فرمایا گیا ہے ؛ خدا نے تمام آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے (خلق السماوات و الأرض بالحق)۔
ان کاحق ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک عظیم مقصد درمیان میں تھا کہ وہ موجودات کے ارتقاء کے سوا ـــــــــ جن کے آگے آگے انسان ہیں اور پھرقیامت پر اختتام ہے ـــــــ کچھ اورچیز نہیں ہے۔
اس عظیم آفرینش کے بیان کے بعد ایک عجیب وغریب تدبیراور جچے تلے تغیرات اوران پرحاکم عجیب نظام کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے (یکوم الليل على النهار ویكور النهار على الليل)۔
کیسی عمدہ تعبیر ہے اگر انسان کره زمین سے باہر بیٹھا ہوا ہو اور زمین کی خود اپنے گرد حرکت وضعی کامنظراوراس کے گرد رات اوردن پیدا ہونے کو دیکھے تو اسے نظرآئے گا گویا مرتب طور پر ایک طرف سے رات کی سیاہ رنگ کی نوار دن کی روشنی پرلپٹی جارہی ہے اور دوسری طرف سے دن کی سفید رنگ کی نوار رات کی سیاہی پر لپٹی جارہی ہے اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "یکور" "تکویر" کے مادہ سے لپینٹے کے معنی میں ہے اور ارباب لغت خصوصیت کے ساتھ عمامہ اور دستار سر کے گرد لپیٹے کو اس کا ایک نمونہ شمارکرتے ہیں، تواس سے ایک نکتہ جو اس قرآنی تعبیر پوشیدہ ہے واضح ہو جاتا ہے ، اگربہت سے مفسرين نے اس نکتہ کی طرف توجہ نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے مطالب بیان کیے ہیں جو "تکویر" کے مفہوم سے چنداں مناسب نہیں رکھتے۔ نکتہ یہ ہے کہ زمین کروی (گول) شکل کی ہے اور اپنے گرد حرکت کرتی ہے اور اس گردش کے زیراثر رات کی سیاه نوار اور دن کی سفید نوار ہمیشہ اس کے گرد چکر لگاتی ہے گویا ایک طرف سے سفید نوار سیاه پر اور دوسری طرف سے سیاہ نوارسفید لپیٹی جارہی ہے۔
بہرحال قرآن مجید نوروظلمت اور رات دن پیدا ہونے کے بارےمیں مختلف تعبیریں پیش کرتا ہے جن میں سے ہرایک کسی ایک نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے اوراس کی طرف ایک خاص زاویے سے دیکھتی ہے۔
کبھی کہتا ہے :
يولج الليل في النهار ويولج النهار في الليل
رات کو دن میں تدریجًا داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ (فاطر ـــــــــ 54)
یہاں رات کے دن میں اور دن کے رات میں چپکے چپکے بغیرکسی شوروشین کے داخل ہونے کے متعلق گفتگو ہے۔
اورکبھی کہتا ہے :
يغشى الليل النهار
خدا رات کے ظلمانی پردے دن کو پہنا دیتا ہے ۔ (اعراف ـــــــــ 54)
یہاں رات کو ظلمانی پردوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو گویادن کی روشنی پر پڑتے ہیں اور اسے چھپا دیتے ہیں۔
زیربحث آیات میں "تکویر" اوران دونوں کے ایک دوسرے میں لپیٹے جانے سے متعلق گفتگو ہے جبکہ اس میں بھی ایک نکتہ ہے جس کی طرف سطور بالامیں اشارہ ہو چکا ہے۔
اس کے بعد اس جهان کی تدبیرو نظم کے ایک گوشے کو بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : اس نے سورج اور چاند کو اپنے فرمان کا مسخر قرار دیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک معین مدت تک اپنی حرکت کو جاری رکھے ہوئے ہے ( و سخر الشمس والقمركل يجري لاجل مسمًی)۔
وہ حرکت جوخورشید کا نور خود اپنے گرد کرتی ہے یا اسی حرکت میں کہ جس میں وہ سارے نظام شمسی کے ساتھ کہکشاں کے ایک خاص نقطے کی طرف بڑھ رہا ہے، معمولی سے معمولی دب نظمی بھی دکھائی نہیں دیتی اورنہ ہی چاند کی اپنی حرکت میں جو وہ زمین کے گردکرتا ہے یا خود اپنے گردگھومتا ہے (کوئی بد نظمی ہوتی ہے) بلکہ سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں ۔ اس کے (آفرنیش کے قوانین کے) مسخرہیں اور اپنی عمر کے اختتام تک اپنی یہی کیفیت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ سورج اور چاند کے مسخر ہونے سے مراد ان کا پروردگار کے اذن سے انسان کے لیے مسخر ہونا ہو ۔ جیساکہ سورة ابراہیم کی آیہ 33 میں ہے:
وسخرلکم الشمس والقمردائبین
اس نے سورج اور چاند کو جو ہمیشہ حرکت میں رہتے ہیں تمھارے لیے مسخر کردیا ہے۔
لیکن زیربحث آیت کے جملوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور اس بات کی طرف توجہ کرنے سے بھی کہ "لكم" کی تعبیر زیر بحث آیت میں نہیں ہے، یہ معنی بعید نظر آتاہے۔
آیت کے آخر میں مشرکین کو ـــــــ بازگشت اورلطف و عنایت کی راہ کھلا رکھنے کے ساتھ ساتھ ــــــــ تہدید کےطورپرفرمایا گیا ہے،جان لوکہ وہ عزیزوغفارہے (الاهوالعزيزالغفار)۔
اس کی بے انتہا عزت و قدرت کی بنا پر کوئی گنہ گار اور مشرک اس کے عذاب کے پنجے سے بھاگ کر نہیں نکل سکتا اور وہ اپنی غفاریت کے تقاضے سے توبہ کرنے والوں کے عیوب اور گناہوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اورانھیں میں اپنی رحمت کے سایے تلے لے لیتا ہے۔
"غفار" "مبالغے کا صیغہ ہے "غفران" کے مادہ سے جو اصل میں ایسی کو چھپانے کے معنی میں ہے جو انسان کو آلودگی سے محفوظ رکھے اور جس وقت یہ خدا کے بارے میں استعمال ہوتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ نادم اور پشیمان بندوں کے عیوب اورگنا ہوں کو چھپا دیتا ہے اور انھیں عذاب اور کیفرکردار سے بچا لیتا ہے۔ ہاں! وہ صاحب عزت و قدرت کے ساتھ ساتھ غفار بھی ہے اور رحمت و غفران کے ساتھ ساتھ "قہار" بھی ہے۔ آیت کے آخر میں ان دونوں اوصاف کا بیان بندوں میں خوف ورجاء کی حالت پیدا کرنے کے لیے ہے جو ہرقسم کے تکامل وارتقاء کی تحریک کا اصلی عامل ہے۔