Tafseer e Namoona

Topic

											

									  حضرت ایوب کی حیران کن زندگی اور ان کا صبر

										
																									
								

Ayat No : 41-44

: ص

وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ۴۱ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ ۴۲وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ۴۳وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ۴۴

Translation

اور ہمارے بندے ایوب علیھ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے بڑی تکلیف اور اذیت پہنچائی ہے. تو ہم نے کہا کہ زمین پر پیروں کو رگڑو دیکھو یہ نہانے اور پینے کے لئے بہترین ٹھنڈا پانی ہے. اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال عطا کردیئے اور اتنے ہی اور بھی دیدئے یہ ہماری رحمت اور صاحبانِ عقل کے لئے عبرت و نصیحت ہے. اور ایوب علیھ السّلام تم اپنے ہاتھوں میں سینکوں کا مٹھا لے کر اس سے مار دو اور قسم کی خلاف ورزی نہ کرو - ہم نے ایوب علیھ السّلامکو صابر پایا ہے - وہ بہترین بندہ اور ہماری طرف رجوع کرنے والا ہے.

Tafseer

									  تفسیر
      حضرت ایوب کی حیران کن زندگی اور ان کا صبر 
 گزشتہ آیات میں حضرت سلیمان کی حشمت اور دبدبے کے بارے میں گفتگوتھی کہ جوخدا داد قدرت کا مظہر تھی اور حضرت سلیمانؑ کی داستان رسول اکرمؑ اور مکہ میں 

موجود انسانوں کے لیے ایک نوید کے مانند تھی کر جوسخت دباؤ میں تھے۔ 
 زيربحث آیات حضرت ایوبؑ کے بارے میں ہیں کہ جوصبر و استقامت کا نمونہ تھے ، ان کا ذکراس لیے ہے تاکہ اس وقت کے اور پھرآج کے اور آئندہ کے مسلمانوں 

کے لیے مشکلوں اور پریشانیوں میں استقامت ، قیام اور جدوجہد کادرس ہو اور انھیں پامردی کی دعوت دی جائے اوراس صبرو استقامت کاحسن انجام واضح کیاجائے۔ 
 ایوبؑ تیسرے نبی ہیں کہ ان کی زندگی کا کچھ حصہ اس سورہ میں بیان کیا گیا ہے اور ہمارے عظیم نبیؐ پرفرض کیا گیا ہے کہ ان کی سرگزشت کویاد رکھیں اور اسے 

مسلمانوں کے سامنے بیان کریں تاکہ وہ طاقت فرسا مشکلات سے ہراساں نہ ہوں اور اللہ کے لطف و رحمت سے بھی کبھی مایوس نہ ہوں۔ 
 حضرت ایوبؑ کا نام اور ان کی زندگی کا ذکر قرآن کریم کی کئی ایک سورتوں میں آیا ہے۔ سورہ نساء کی آیت 163 اورسورانعام کی آیت 84 میں دیگر انبیاء کے ساتھ 

ان کے صرف نام پر اکتفا کیا گیا ہے کہ جس سے ان کا مقام نبوت ثابت اور واضح ہوتاہے برخلاف موجودہ تورات کے کہ جوانھیں انبیاء کے زمرے میں شمار نہیں کرتی بلکہ انھیں ایک 

نیک اور صالح انسان سمجھتی ہے کہ جنکی بہت سی اولاد تھی اورج وصاحب مال شخض تھے۔ 
 سورہ انبیاء کی آیت 83اور78  میں ان کی زندگی کے کچھ کمالات بیان ہوئے ہیں اور سورہ ص کی زیربحث آیات میں دیگرمقامات مفصل ترحالات بیان ہوئے ہیں اور 

یہاں اس مضمون میں چار آیتیں آئی ہیں ۔ 
 پہلے ارشاد ہوتا ہے : ہمارے بندے ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا اور عرض کی : شیطان نے مجھے بہت 
تکلیف اور اذیت میں مببتلا کر رکھا ہے (واذكرعبدنا ایوب اذنا ذی ربه اني مسني الشيطان بنصب وعذاب)۔ 
 " نصب " ("عسر" کے وزن پر) اور "نصب" ("حسد"  کے وزن پر )دونوں بلا و مصیبت کے معنی میں ہیں ۔ اس آیت میں۔ 
 اولاً: بارگاہ الٰہی میں حضرت ایوب کا بلنده مقام "عبدنا" (ہمارا بندہ) اس سے معلوم ہوتا ہے۔ 
 ثانیًا، اشارتًا حضرت ایوب کی شدید اور طاقت فرسا تکلیف اور فراواں مصیبت کا ذکر ہے، اس ماجرے کی تفصیل قرآن میں نہیں کی لیکن حدیث و تفسیر کی مشہورکتب 

میں اس کی تفصیل نقل ہوئی ہے۔ 
 کسی شخص نے امام صادق علیالسلام سے پوچھا: 
 وہ مصیبت جو حضرت ایوبؑ کو دامن گیر ہوئی، کس بنا پرتھی؟ ( شاید سائل کا خیال تھاکہ ان سے کوئی غلط کام سرزد ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اللہ نے انھیں 

مصیبت میں مبتلا کردیا)۔ 
 امام نے اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے 
 ایوب کفران نعمت کی وجہ سے ان عظیم مصائب میں گرفتار نہیں ہوئے بلکہ اس کے برعکس شکر نعمت کی وجہ سے ہوئے کیونکہ شیطان نے بارگاہ خدا میں عرض 

کی کہ یہ جو ایوبؑ  تیراشکر گزار ہے وہ فراواں نعمتوں کی وجہ سے ہے جو تو نے اسے دی ہیں ، اگر یہ نعمتٰین اس سے چھین لی جائیں تو یقینا وہ بھی شکر گزار بندہ نہیں ہو گا ۔ 
 اس بنا پر کہ ساری دنیاپر ایوب کا خلوص واضح ہوجائے اور اس انھیں عالمین کے لیے نمونہ قرار دیاجائے تاکہ 
تنا لوگ نعمت اور مصیبت ہردو عالم میں شا کر وصابر رہیں۔ اللہ نے شیطان کو اجازت دی کہ وہ حضرت ایوب کی دنیا پرقبضہ کرلے۔ شیطان نے االلہ سے خوابہش کی ایوب کا فراواں مال 

ودولت، ان کی کھیتیاں، بھیڑ بکریاں اور آل اولاد سب ختم ہوجائے ۔ آفتیں اور مصیبتیں آئیں اور دیکھتے ہی دیکھتےسب کچھ تباہ و برباد ہوگیا لیکن نہ صرف یہ کہ ایوب کے شکر میں کمی 

نہیں آئی بلکہ اس میں اور اضافہ ہوگیا۔ خدا سےشیطان نے خواہش کی کہ اب اسے ایوب کے بدن پر بھی مسلم کردے اور وہ اس طرح بیمار ہوجائیں کہ ان کا بدن شدت درد کی لپیٹ میں 

آجائے اور وہ بیماری کے بستر کا اسیر ہوجائے لیکن اس چیز نے بھی ان کے مقا م شکر میں کمی نہ کی۔ 
 پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ایوب کا دل توڑ دیا اور ان کی روح کوسخت مجروح کیا۔ وہ یہ کہ بنی اسرائیل کے راہیوں کی ایک جماعت میں انھیں دیکھنا آئی اور 

انھوں نے کہا کہ تو نے کون سا گناہ کیاہے جس کی وجہ سے ایسی دردناک عذاب میں مبتلا ہے ؟ ایوبؑ نے جوابًا کہا : میرے پروردگار کی قسم مجھ سے کوئی غلط کام نہیں ہوا میں ہمیشہ 

اللہ کی اطاعت میں کوشاں رہا ہوں اور میں نے جب بھی کوئی لقمہ غذا کا کھایا ہے کوئی نہ کوئی یتیم و بے نوا میرے دسترخوان پر ہوتا تھا۔
 یہ ٹھیک ہے کہ ایوب دوستوں کی اس شماتت پر ہر دوسری مصیبت سے زیادہ دکھی بوئے پھربھی صبر کا دامن تھوڑا اور شکر کے صفاف و شیرں پانی کو کفران سے 

آلودہ نہ کیا ، صرف بارگاہ خدا کی طرف رخ کیا اور مذکور جملہ عرض کیا اور چونکہ آپ اللہ کے امتحانوں سے خوب عہدہ بر آ ہوئے لہذا اللہ اپنے اس شاکر وصابر بندے پر پھر اپنی 

رحمت کے دروازے کھول دیئے اور کھوئی بوئي نعمتیں یکے بعد دیگرے پہلے سے بھی زیادہ انھیں عطا کیں تاکہ سب لوگ صبروشکرکا نیک انجام دیکھ لیں۔ 
 بزرگ مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ شیطان نے حضرت ایوبؑ کو مختلف  وسوسوں کے ذریعے اذیت دی تھی ۔ کبھی کہتا تھا : تمھاری بیماری بہت طویل ہوگئی 

ہے اللہ نے تمھیں بھلا دیا ہے۔ 
 کبھی کہتا تھا : تمھارے پاس کی نعمتیں تھیں ؟ کیسی صحت وطاقت تھی ؟ سب خدا نے چھین لی ہیں اور تم پھربھی اس کا شکر ادا کر رہے ہو؟ 
 شایدیہ تفسیراس بنا پر ہو کہ ان مفسرین نے ایوبؑ جیسے پیغمبر ، ان کی جان ، مال اور اولاد پر شیطان کا تسلط بعید سمجھا ہے۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     یہ روایت نوالثقلین میں تفسیر علی بن ابراہیم  کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ یہی مضمون تفسیر قرطبی ، تفسیر فخررازی اورنفسیرصافی وغیرہ میں اور اعلام القرآن میں کچھ 

فرق کے ساتھ آیا ہے ، عہد عتیق کی یہ کتب ایوب میں اس سے ملتے جلتے مطالب نظرآتے ہیں اگرچہ به مطالب اسلامی کتب میں آنے والی تفصیلات سے مختلف ہیں۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوہے کہ اولاً تویہ تسلط فرمان خدا سے تھا ثانیًا وقتی طور پر تھا اور ثالثًا اس عظیم نبی کی آزمائش اور بلندی مقام کے لیے تھا۔ اس لیے اس سے کوئی اشکال 

پیدا نہیں ہوتا۔ 
 بہرحال کہتے ہیں کہ ان کی بیماری اورناراحتی سات سال تک رہی اور ایک روایت کے مطابق سنترہ برس تک رہی ، یہاں تک کہ آپ کے نزدیک ترین ساتھی بھی ساتھ 

چھوڑ گئے،  صرف ایک بیوی نے وفا میں استقامت کی اور یہ چیز خودایک شاہد ہےبعض بیویوں کی وفاداری پر۔ لیکن ایوب کو جس چیز سے زیاد دوکھ ہوتا تھا وہ دشمنوں کی شماتت تھی۔ 

اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت ایوب  کوکھوئی وہوئی صحت و سلامتی پھرمل گئی اور رحمت الہی کے دروازے ان کے لیے  کھل گئے تولوگوں نے آپ سے سوال کیا کہ سب 

سے شدید درد آپ کون ساتھا تو آپ نے کہا : دشمنوں کی شماتت۔ 
ا نجام کار حضرت ایوبؑ آزمائش الٰہی کی اس گرم بھٹی سے صحیح سالم باہرنکل آئے اور رحمت خدا کا آغاز ہوا۔ انھیں حکم دیا گیاکہ " اپنا پاؤں زمین پر مارو" توپانی کا 

چمشہ ابل پڑے گا کہ تیرے نہانے کے لیے ٹھنڈا بھی ہوگا اور تیرے پینے کے لیے عمدہ بھی۔ (اركض برجلك هذا مغتسل بارد وشراب)۔ 
 "اركض" "رکض" (بروزن" مکث") کے مادہ سے زمین پر پاؤں مارنے کے معنی میں ہے اور کبھی یہ لفظ دوڑنے کے معنی میں بھی آتا ہے ، لیکن یہاں پہلے والا معنی 

ہے۔ 
 وی خدا جس نے خشک اور تپتے بیابان میں شیرخوار اسرائیل کی ایڑیوں کے نیچے چشمہ پیدا کردیا . وہی خداکہ حرکت وسکون اور ہر نعمت و عنایت جس کی طرف 

سے ہے ، اس نے یہ فرمان ایوب کےلیے بھی صادر فرمایا۔ پانی کا چشمہ ابلنے لگا، ٹھنڈا اور میٹھا چشمه جواندرونی و بیرونی سب بیماریوں کے لیے شفا بخش تھا۔ 
 بعض کا خیال ہے کہ اس چشمے میں ایک طرح کا معدنی پانی تھاجو پینے کے لیے بھی اچھا تھا اور بیماریوں کو دور کرنے کے لیے بھی مؤثر تھا۔ بہرحال کچھ بھی تھا 

ایک صابر وشاکر نبی کے لیے الله کا لطف وکرم تھا ۔ 
 "مغتسل"  نہانے والے پانی کو کہتے ہیں۔ بعض نے اسے نہانے کی جگہ کے معنی میں سمجھا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال ٹھنڈا ہونے کے 

لحاظ سے پانی کی تعریف شاید اس طرف اشارہ ہوکہ ٹھنڈے پانی سے نہانا  بدن کی صحت و سلامتی کے لی خصوصی تاثیر رکھتا ہے جیسا کہ موجودہ طب میں بھی ثابت ہوگیا ہے۔ 
 نیز یہ اس امرکی طرف لطیف اشارہ ہے کہ نہانے کے لیے بہترین پانی وہ ہے جو پاکیزگی اور لطافت کے لحاظ سے پینے کے پانی جیساہو۔ اس امر کاشاہد یہ ہے کہ 

اسلامی احکام میں بھی آیا ہے کہ : 
 اس سے پہلے کہ پانی سے غسل کرو اس میں سے ایک گھونٹ پی لو۔ ؎1 
 پہلی اور اہم ترین خدائی نعمت صحت ہے، حبب وہ ایوب کی طرف لوٹ آئی تو دوسری نعمتوں کے لوٹنے کی نوبت آنی ،اس سلسلے میں قرآن کہتا ہے : ہم نے اسے اس 

کے گھر والے بخش دیئے ( و وهبنا له اھله )۔ اوران کے ساتھ ان کے 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
  ؎1  : وسائل الشیعہ جلد 1 باب 13  از ابواب آداب الحمام ، حدیث 1  
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
مانند بهی قرار دیے (و مثلهم معهم)۔  تاکہ ہماری طرف سے رحمت ہواور صاحبان فکر ونظر کے نڈیحت بھی (رحمة منا و ذکری لاولی الالباب). 
 ان کا گھرنہ ان کے پاس کیسے واپس آیا۔ اس سلسے میں مختلف تفسیریں موجود ہیں مشہور یہ ہے کہ مر چکے تھے اور اللہ نے انھیں پھر زندگی دی ۔ 
 لیکن بعض نے لکھا ہے کہ حضرت ایوبؑ کی طویل بیماری کے باعث وہ ادھر ادھر بکھر چکے تھے جب حضرت ایوب صحت یاب ہوگئے تو وہ پھ آپ کے گرداگرد جمع 

ہوگئے ۔ 
 کچھ لوگوں نے احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ وہ سب یا ان میں سے بعض افراد بھی طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے تھے رحمت الٰہی ان کے شمال حال ہوئی وہ 

سب روبصحت ہو گئے اور پروانوں کی طرح وجود پدر کی شمع کے گرد جمع ہو گئے۔ 
 "اوران کے ساتھ ان کے مانند بهی قرار دیئے" یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے ان کے گھر کو پہلے سے بھی زیادہ آباد اور پر رونق کیا اور ایوب کومزید بیٹے 

عطا کیے۔ 
 ان آیات میں اگر حضرت ایوب کی مال و دولت کے بارے میں بات نہیں کی گئی لیکن موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے پھر آپ کو مال و دولت بھی فراوان تر 

عطا فرمایا ۔ 
 یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیربحث آیت میں حضرت ایوب کی طرف نعمات الہی کے لوٹ آنے کا مقصد دو چیزیں شمارکی و گئی ہیں: ایک ان پراللہ کی رحمت کہ جو 

انفرادی پہلو رکھتی ہے اور درحقیقت صابرو شاکر بندے کے الیے اجر وانعام عام ہے اور دوسری تمام تاریخ انسانی میں صاحبان عقل وخرد کے لیے درس ہدایت ، تاکہ وہ مشکلوں 

اورسختیوں میں صبروشکیبائی کاراستہ نہ چھوڑیں اور رحمت الٰہی کے امید وار رہیں۔ 
 اب صرف ایک مشکل ایوب کے لیے باقی تھی وہ تھی وہ قسم جوانھوں نے اپنی بیوی کے بارے میں کھائی تھی اور وہ یہ تھی کا انھوں نے  ان سے کوئی خلاف مرضی 

کام دیکھا تھا لہذاانھوں نے اس بیماری کی حالت میں قسم کھائی کہ جس وقت ان میں طاقت پیدا ہوگی تووہ اسے ایک  سویا اس اسے  کچھ کم کوڑے ماریں کئے۔ لیکن صحت یابی کے بعد وہ 

چاہتے تھے کہ اس کی خدمات اور وفاداریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اسے معاف کردیں لیکن قسم اور خدا کے نام کا مسئلہ درمیان میں تھا۔ خدا نے یہ مشکل بھی ان کے لیے حل کردی۔ جیسا 

کہ قرآن کہتا ہے کہ ان سے فرمایا گیا:  گندم کی شاخوں ( یا اسی قسم کی کسی چیز) کی اہک مٹھی بھرلواور اس کے ساتھ مارو اوراپنی قسم نہ توڑو ( وخذ بيدك و ضغثًا فاضرب بہ ولا 

تحنث)۔ 
 "ضغث" (بروزن "حرص")  گندم یاجوکی نرم ونازک شاخوں کی ایک مٹھی یا خرما کے خوشے کے تاریاپھولوں کی طرح  کی چیزوں کی ایک مٹھی کے معنی میں ہے۔
  حضرت ایوب کی بیوی کا نام ایک روایت کے مطابق لیا بنت یعقوب تھا۔ اس بارے میں کہ اس سے کون سی غلطی ہوئی تھی؟ مفسرین کے درمیان بحث ہے۔ 
 مشهورمفسر ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ شیطان یا (کوئی شیطان صفت) ایک طبیب کی صورت میں ایوب کی بیوی کے پاس آیا  اس نے کہا : میں تیرے شوہر کا علاج 

کرتاہوں صرف اس شرط پر جس وقت وہ ٹھیک ہوجائے تو وہ مجھ سے یہ کہ دے صرف میں نے اسے شفایاب کیا ہے ، اس کے علاوہ میں اور کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ 
 ان کی بیوی نے جوان کی مسلسل بیماری کی وجہ سے سخت پریشان تھی اس شرط کو قبول کر لیا اور حضرت ایوبؑ کے سامنے یہ تجویز پیش کی ۔ حضرت ایوب جو 

شیطان کے جال کو سمجھتے تھے، بہت ناراض ہوئے اور قسم کھائی کہ وہ اپنی بیوی کو سزادیں گے۔ 
 بعض نے کہا ہے کہ جناب ایوبؑ نے اسے کسی کام کے لیے بھیجا تھا تو اس نے دیرکردی، حضرت ایوب چونکہ بیماری سے تکلیفیں میں تھے، بہت پریشان ہوئے اور 

اس طرح کی قسم کھائی۔ 
 بہرحال اگر وہ ایک طرف سے اس قسم کی سزا کی مستحق تھی تو دوسری طرف اس طویل بیماری میں اس کی وفاداری ، خدمت اور تیمارداری، اس قسم کے عفو ودرگزر 

کا استحقاق ہی رکھتی تھی۔ 
 یہ ٹھیک ہے کہ گندم کی شاخوں کے ایک دستہ یا خوشہ خرم کی لکڑیوں سے مارنا ان کی قسم کا واقعی مصداق نہیں تھا لیکن خدا کے نام کے احترام کی حفاظت اورقانون 

شکنی پھیلنے سے روکنے کے لیے انھوں نے یہ کام کیا اور یہ بات صرف اس صورت میں ہے کہ کوئی مستحق عفو ودرگزر ہو، اور انسان چاہے ہے کہ عفو و درگزر کے باوجود قانون 

کے ظاہر کو بھی محفوظ رکھے ورنہ ایسے مواقع پر جہاں استحقاق عفو وبخشش نہ ہو وہاں ہرگزاس کام کی اجازت نہیں ہے ۔ ؎1
 آخر میں زیربحث آیات کے آخری جملے میں جو اس داستان کی ابتداء وانتہا کا نچوڑ ہے، فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے صابر و شکیبا پایا، ایوب کتنا اچھا بندہ تھا جو ہماری 

طرف بہت زیادہ باز گشت کرنے والا تھا۔ (انا وجدناه صابرانعم العبد وانه اواب)۔ 
 یہ بات کہے بغیر ہی ظاہر ہے کہ ان کا خداکی بارگاہ میں دعاکرنا اور شیطان کے وسوسوں اور درد ، تکلیف اور بیماری کے دور ہونے کا تقاضا کرنا، مقام صبر و 

شکیبائی کے منافی نہیں اور وہ بھی سات سال اور ایک روایت کے مطابق اٹھارہ سال تک بیماری اور فقروناداری کے ساتھ نبھانے اور شاکر رہنے کے بعد ۔ 
 قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس جملے میں حضرت ایوب کی تین ان صفات کے ساتھ توصیف کی گئی ہے کہ جوکسی میں بھی پائی جائیں وہ ایک انسان کامل ہوتا ہے۔ 
 1- مقام عبودیت 2- صبرواستقامت  3- پے در پے خدا کی طرف بازگشت