سوره ص / آیه 41 - 44
وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ۴۱ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ ۴۲وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ۴۳وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ۴۴
اور ہمارے بندے ایوب علیھ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے بڑی تکلیف اور اذیت پہنچائی ہے. تو ہم نے کہا کہ زمین پر پیروں کو رگڑو دیکھو یہ نہانے اور پینے کے لئے بہترین ٹھنڈا پانی ہے. اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال عطا کردیئے اور اتنے ہی اور بھی دیدئے یہ ہماری رحمت اور صاحبانِ عقل کے لئے عبرت و نصیحت ہے. اور ایوب علیھ السّلام تم اپنے ہاتھوں میں سینکوں کا مٹھا لے کر اس سے مار دو اور قسم کی خلاف ورزی نہ کرو - ہم نے ایوب علیھ السّلامکو صابر پایا ہے - وہ بہترین بندہ اور ہماری طرف رجوع کرنے والا ہے.
(41) وَاذْكُرْ عَبْدَنَـآ اَيُّوْبَۚ اِذْ نَادٰى رَبَّهٝٓ اَنِّىْ مَسَّنِىَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ
(42) اُرْكُضْ بِـرِجْلِكَ ۖ هٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ
(43) وَوَهَبْنَا لَـهٝٓ اَهْلَـهٝ وَمِثْلَـهُـمْ مَّعَهُـمْ رَحْـمَةً مِّنَّا وَذِكْرٰى لِاُولِـى الْاَلْبَابِ
(44) وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَلَا تَحْنَثْ ۗ اِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ اِنَّهٝٓ اَوَّابٌ
(41) ہمارے بندے ایوب کو یاد کر ، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور اذیت دی ہے۔
(42) ( ہم نے اس سے کہا) اپنے پاؤں سے زمین پر ٹھوکر مار ، یہ ٹھنڈے پانی کا چشمہ نہانے اور پینے کے لیے ہے۔
(43) اور ہم نے اسے اس کا خاندان عطا کیا اور ان کی طرح اور بھی ان کے ساتھ قرار دیئے تاکہ ہماری طرف سے رحمت ہو اور صاحبان فکر کے لیے ایک نصیحت ہے۔
(44) (اور ہم نے اس سے کہا مٹھی بھر گندم کی (یا اس جیسی) سینکیں لے اور اسے (اپنی بیوی کو) مار اور اپنی قسم نہ توڑ، ہم نے اسے صابر پایا، کیا اچھا بندہ تھاکہ خدا
کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔