Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2-  سلیمان قرآن اور تورات میں

										
																									
								

Ayat No : 34-40

: ص

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ۳۴قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ۳۵فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ ۳۶وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ ۳۷وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ۳۸هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۳۹وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ۴۰

Translation

اور ہم نے سلیمان علیھ السّلام کا امتحان لیا جب ان کی کرسی پر ایک بے جان جسم کو ڈال دیا تو پھر انہوں نے خدا کی طرف توجہ کی. اور کہا کہ پروردگار مجھے معاف فرما اور ایک ایسا ملک عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لئے سزاوار نہ ہو کہ تو بہترین عطا کرنے والا ہے. تو ہم نے ہواؤں کو لَسخّر کردیا کہ ان ہی کے حکم سے جہاں جانا چاہتے تھے نرم رفتار سے چلتی تھیں. اور شیاطین میں سے تمام معماروں اور غوطہ خوروں کو تابع بنادیا. اور ان شیاطین کو بھی جو سرکشی کی بنا پر زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے. یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے. یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے.

Tafseer

									2-  سلیمان قرآن اور تورات میں
  قرآن نے اس عظیم نی کی جو تصویر پیش کی ہے ، اس کے مطابق ایک پاک و پاکیزہ ، عالی مرتبہ ، مدبراور عدالت پیشه انسان تھے جبکہ موجودہ تحریف شدہ تورات میں (نعوذ باللہ ) ایک عیاش ،ہوس پرست اور بہت سی کمزوریوں کے حامل شخص کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ اسی کتاب میں حضرت بیان کی مناجبات مذہبی اشعار اور حکیمانہ باتیں بھی شامل ہیں کہ نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ ایس حکیم دانا، مجاہد اور جوانمردتهے،یہ موجودہ تورات میں عجیب تضادہے۔ 
 مزید وضاحت کے لیے اس تفصیلی بحث کی طرف رجوع کریں جوتفسیر نمونہ جلد 18 میں سورة سبا کی آیت 12 تا 14 کی تفسیر کے ذیل میں اس ضمن میں کی گئی ہے ۔