Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- داستان سلمان سے حاصل ہونے والا درس 

										
																									
								

Ayat No : 34-40

: ص

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ۳۴قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ۳۵فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ ۳۶وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ ۳۷وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ۳۸هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۳۹وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ۴۰

Translation

اور ہم نے سلیمان علیھ السّلام کا امتحان لیا جب ان کی کرسی پر ایک بے جان جسم کو ڈال دیا تو پھر انہوں نے خدا کی طرف توجہ کی. اور کہا کہ پروردگار مجھے معاف فرما اور ایک ایسا ملک عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لئے سزاوار نہ ہو کہ تو بہترین عطا کرنے والا ہے. تو ہم نے ہواؤں کو لَسخّر کردیا کہ ان ہی کے حکم سے جہاں جانا چاہتے تھے نرم رفتار سے چلتی تھیں. اور شیاطین میں سے تمام معماروں اور غوطہ خوروں کو تابع بنادیا. اور ان شیاطین کو بھی جو سرکشی کی بنا پر زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے. یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے. یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے.

Tafseer

									 چند اہم نکات 
 1- داستان سلمان سے حاصل ہونے والا درس : 
 شک نہیں کہ تاریخ انبیاء ذکر کرنے سے قرآن کا مقصد یہ ہے کہ ان زندہ واقعات میں سے یعنی حقائق منعکس کیے جائیں تاکہ تربیتی پروگرام کی تکمیل ہو سکے۔ حضرت سلیمان کی داستان سے جو حقائق سامنے آتے ہیں ان میں اموربھی شامل ہیں :
 
 ا- ایک طاقت ور حکومت، فراواں مادی وسائل اور وسیع اقتصادی وسائل و خوشحالی اور درخشاں تمدن ان سب کی موجوگی  روحانی مقامات اورالٰہی و انسانی اقدار کے منافی نہیں ہے۔ جیسا کہ زیربحث آیات میں حضرت سلیمان کے پاس موجود تمام مادی نعمات و 
کے ذکر کے بعد آخر میں بارگاہ الٰہی میں ان کے بلند مقام اور نیک انجام کا ذکر کر تی ہیں ۔
  ایک حدیث میں  گرامی اسلام صلی الہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
  ارء يتم ما اعطی سلیمان بن داود من ملكه: فان ذلك لم یزده الاتخشمًا 
  ماكان يرفع بصره إلى السماء تخسمًا لربه 
  تم نے دیکھا کہ اللہ نے سلیمان کوکیسی عظیم حکومت دی اس کے باوجود ان میں خشوع و خضوع کے سوا 
  کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا یہاں تا کہ شدت خشوع کے باعث وہ آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف نہیں 
  دیکھتے تھے۔ ؎1 
 ب۔ ایک آباد ملک کا نظام چلانے کے لیے تیزرفتار را بطے کی بھی ضرورت ہے۔ مختلف قوتوں سے کام لینے کی بھی اور 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    روح البیان ، جلد 8 ص  39 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
تخریب کار اور فسادی قوتوں کو روکنے کی بھی ضرورت ہے، نیز انسانی و سماجی مسائل کی طرف توجہ بھی درکار ہے۔ مختلف وسائل ذرائع سے کام لے کر سرمای تولید کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ لائق اوراہل مدبروں اور افسروں کو وسیع اختیارات بھی دینا ضروری ہیں یہ تمام امور واضح طور پراس داستان سے واضح ہوتے ہیں ۔ 
 ج-  تمام قوتوں اور طاقتوں سے استفادہ کرنا چاہیے حتٰی کا شیطانوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان میں سے بھی ہو توجیہ
اور ہدایت کے قابل ہیں انھیں میں استعمال میں لانا چا ہیے اور صرف انھیں قید اور ہندش میں ہونا چاہیے جوبالکل قابل استفادہ نہیں ہیں۔