Tafseer e Namoona

Topic

											

									  دو سوال اور ان کے جواب

										
																									
								

Ayat No : 34-40

: ص

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ۳۴قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ۳۵فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ ۳۶وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ ۳۷وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ۳۸هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۳۹وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ۴۰

Translation

اور ہم نے سلیمان علیھ السّلام کا امتحان لیا جب ان کی کرسی پر ایک بے جان جسم کو ڈال دیا تو پھر انہوں نے خدا کی طرف توجہ کی. اور کہا کہ پروردگار مجھے معاف فرما اور ایک ایسا ملک عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لئے سزاوار نہ ہو کہ تو بہترین عطا کرنے والا ہے. تو ہم نے ہواؤں کو لَسخّر کردیا کہ ان ہی کے حکم سے جہاں جانا چاہتے تھے نرم رفتار سے چلتی تھیں. اور شیاطین میں سے تمام معماروں اور غوطہ خوروں کو تابع بنادیا. اور ان شیاطین کو بھی جو سرکشی کی بنا پر زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے. یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے. یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے.

Tafseer

									  دو سوال اور ان کے جواب 
 1-     کیاسلیمان کے اس تقاضے سے بخل کی بو نہیں آتی ؟
 اس سوال کے جواب میں مفسرین نے بہت سی باتیں کی ہیں جن کازیادہ حصہ ظاہرآیات سےہم آہنگ نہیں ہےجو جواب زیادہ مناسب اورزیادہ منطق نظرآتاہے وہ یہ ہے: 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس کی مزید وضاحت کے لیے کہ ان خرافات کی جڑ یہودی کتب ہیں ، کتاب "اعلام قرآن  میں سلیمانؑ سے متعلق افسانوں ان کی بحث کی طرف رجوع کریں ، ص 392 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 حضرت سلیمان الله تعالی سے ایک قسم کی حکومت چاہتے تھے جس میں خاص معجزات ہوں اور وہ ان کی حکومت کو باقی حکومتوں سے ممتاز کریں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہرنبی کا ایک خاص معجزہ تھا حضرت موسٰی کے لیے عصا اوریدبیضاء کا معجزہ تھا حضرت ابراہیم کے لیے آگ سرد ہوگئی 
تھی۔ حضرت صالح کے لیے ایک خاص قسم کی اونٹنی کا معجزہ تھا اور پیغمبراسلام کا معجزہ قرآن مجید ہے ۔ حضرت سلیمانؑ کی ایک حکومت تھی جوالٰہی معجزات سے بہرہ درتھی۔ مثلاً ہواؤں پر حکومت ، شیطانوں پرحکومت اوراسی طرح دیگر بہت سی خصوصيات.
 یہ چیز انبیاء کے لیے کوئی نقص شمار نہیں ہوتی کہ وہ اپنے لیے کسی مخصوص معجزے کا تقاضاکریں کہ جوان کی کیفیت کو پوری طرح واضح کرے،لہذاس میں کوئی مانع نہیں کہ دوسرے لوگوں کی سلیمانؑ سے وسیع ترحکومت ہولیکن اس میں حضرت سلیمانؑ کی حکومت کے امتیازات نہیں ہوئے۔ 
 اس بات کی شاہد بعد والی آیت ہے کہ میں درحقیقت جناب سلیمان کی اس دعا کی اجابت ظاہرہوتی ہے اس میں ہواؤں اور شیطانوں کے مسخرہونے کا ذکر ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ بات حضرت سلیمان کی حکومت کے امتیازات میں سے تھی۔ 

 2-         کیا امام مہدی کی حکومت وسیع تر نہ ہوگی ؟ 
 گزشتہ عبارت ہی سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے۔ہم مسلمانوں کا عقیده ہے حضرت مهدی عیلہ سلام  (ارواحنا له الفداء)۔ کی حکومت ایک عالمی حکومت ہوگی جو یقینًا حکومت سلیمانؑ سے بہت وسیع بوگی۔ البتہ حضرت مهدی علیالسلام کی حکومت اپنی تمام تر وسعت اور دیگر حکومتوں سے اپنی خصوصیات وامتیازات سے باوجود جناب سلمانؑ کی حکومت سے مختلف ہوگی اور حضرت سلیمان کی حکومت انھی کے ساتھ مخصوص ہے۔ 
 خلاصہ یہ کہ حضرت سلیمانؑ کی گفتگو کمی بیشی. افزوں طلبی اورا نحصار جوئی کے لیے بھی گفتگو تو نبوت کے اس کمال کے بارے میں تھی کہ وہ 
معجزات کے لحاظ سے ایسی خصوصیات رکھتی ہو جو کسی نبی کو دیگر انبیاء سے مشخص کرے اور حضرت سلیمانؑ اسی کے طالب تھے۔ 
 بعض روایات جو اہل بیت علیهم السلام کے طرق سے حضرت امام موسٰی بن جعفر سے منقول ہیں میں بخل کے بارے میں سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ جوبہت جاذب توجہ ہے۔ حدیث اس طرح ہے: 
 آپؑ کے ایک محب علی بن یقطین نے امامؑ سے سوال کیا : کیا جائز ہے کہ اللہ کانبی بخیل ہو؟ 
 امام نے فرمایا : نہیں
  علی بن یقطین نے عرض کی :پھرحضرت سلیمان نے یہ کیوں کہا  رب اغفرلى وهب لي ملکًالا ينبغي لأحد من بعدي 
  پروردگارا!  مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا کر کہ میرے بعدکسی کے شایاں نہ ہو۔ 
 اس آیت کا مفہوم و تفسیر کیا ہے ؟
  امام نے فرمایا :
 حکومت دو قسم کی ہے۔ ایک وہ جوظلم ، تسلط اور لوگوں کو مجبور کر کے حاصل کی جائے اور دوسری حکومت وہ کہ جو والد کی طرف سے ہو، جیسے ابراہیم  کے خاندان کی ، طالوت کی اور ذوالقرنین کی حکومت۔ سلیمان خدا سے چاہتے تھے کہ وہ انہیں ایسی حکومت دے کہ ان کے بعد کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ یہ حکومت لوگوں ظلم اورقہر وجبر سے حاصل کی گئی ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا تاکہ جدھر وہ چاہیں وہ آرام سے چل پڑے، وہ ہوا صبح کے وقت بھی ایک ماہ کا فاصلہ طے کرتی اور عصر کے وقت بھی ایک ماہ کا فاصلہ طے کرتی۔نیزاللہ تعالی نےشیطانوں کو ان کے تابع فرمان کردیا وہ ان کے لیے مکانات تعمیرکرتے اور غواصی و پیراکی کا کام کرتے۔ علاوه ازیں انھیں پرندوں کی زبان سکھائی گئی اور اللہ نے زمین پر ان کی حکومت قائم کی ۔ لہذا اس زمانے کے اوربعد کے لوگ سمجھ گئے کہ سلیمان کی حکومت نہ لوگوں کی بنائی گئی تھی اور نہ قہر و غلبہ اور ظلم وستم حاصل ہوئی تھی۔ 
 علی بن یقطین کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : پھر پیغمبراسلام سے منقول اس حدیث کا کیا مطلب ہے کہ آپ نے فرمایا : 
  رحم الله اخي سليمان ابن داؤد دما کان ابخله 
  اللہ رحم کرے میرے بھائی سلیمان بن داؤد پروہ کیسے بخیل تھے؟ 
 امام نے فرمایا: 
  ان کے دومعانی ہیں۔  
  پہلایہ کہ وہ اپنی ناموس اورحرمت کے بارے مین بخیل تھے کہ کوئی ان کے بارے میں غیر مناسب بات کرتے۔
   دوسرایہ کہ رسول اللہ کی مراد یہ تھی کہ اگر آیت قرآن کی یوں تفسیر کی جائے کہ جیسے جاہل کرتے ہیں کہ سلیمان نے اپنے بے
   نظیراورمنحصرحکومت کا تقاضاکیا تو پھرانھیں ایک بخیل شخص ماننا پڑے گا 
  (اور یہ دراصل ان لوگوں کے لیے طنز ہے)۔ ؎1 
 جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں بعد والی آیات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اللہ نے سلیمان کی درخواست قبول کرلی اورانھیں خصوصی امتیازات اور عظیم نعمات والی حکومت عطا کی۔ ان امتیازات و نعمات کا پانچ حصوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ 
 1-  ہواؤں کا ایک رہوار اور سواری کی طرح تابع ہونا۔ جیسا کہ فرمایا گیا: ہم نے ہوا کو اس کے تابع کردیا تاکہ اس کے حکم کے مطابق آرام سے چلے اور جہاں کاوہ ارادہ کرے جاسکے  (فسخرناله الريح تجری یا مرہ رخاء حيث اصاب) 
 واضح ہے کہ ایک وسیع وعریض حکومت میں تیزرفتاررابطوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بوقت ضرورت سربراہ حکومت تیزی کے ساتھ ملک کے تمام علاقوں میں آجاسکے ۔ اللہ نے یہ امتیاز حضرت سلیمانؑ کو دے رکھا تھا۔
  ہوا کیسے ان کے تابع فرمان تھی؟ کتنی تیزی سے چلتی تھی؟ حضرت سلیمان اوران کے ساتھ ہوا کے ذریعے سفر کرتے ہوئے کس چیز پر سوار ہوتے تھے اور کون سے عوامل انھیں گرنے سے بچاتے تھے اور ہوا کے دباؤ کی کمی بیشی اور دیگر مشکلات کے موقع پر ان کی حفاظت کرتے تھے؟ خلاصہ یہ کہ وہ کیسااسرار آمیزوسیلہ تھا کہ جو اس زمانے میں حضرت سلیمان کے قبضے میں تھا؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کی جزئیات اور خصوصیات کے بارے میں جواب ہمارے سامنے واضح نہیں ہے، ہم صرف بے جا نتے ہیں کہ یہ ایک معجزہ تھا کہ جیسے نبی جانے کے امتیاز میں دیئے 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1  تفسیرنورالثقلین ، جلد 4 ص 459 بحوالہ کتاب علل الشرائع
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
جاتے تھے۔ یہ ایک عام اور معمول کے مطابق بات نہ تھی۔ یہ ایک عظیم نعمت اور اعجاز تھا اور ایسا کرنا قدرت الہی کے لیے سادہ اور آسان ساکام ہے۔ نیز ایسے بہت سے مسائل ہیں کہ اصولی طور پر تو ہم انہیں جانتے ہیں لیکن ان کی جزئیات سے ہم واقف نہیں ہیں۔ 
 اس موقع پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ لفظ "رخاء"  (نرم اور ملائم) جو اس آیت میں آیا ہے وہ سورہ انبیاء کی آیہ 18 میں آنے والے لفظ "عاصفہ"( آندھی) سے ہم آہنگ نہیں ہے، وہاں فرمایا گیا ہے: 
 ولسليمان الريح عاصفة تجری بامردالى الارض التي باركنا فيها 
 ہم نے تیز ہوا کو سلیمان کے لیے مسخر کردیا کہ جو اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جسے ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ 
 اس سوال کا جواب دو طریقوں سے دیا جا سکتا ہے۔ 
 پہلا یہ کہ "عاصفة" (تیز ہوا) اس کی سرعت رفتار کے لیے ہے اور"رخاء" اس کے منظم اور آرام دہ ہونے کی طرف اشارہ ہے، یعنی ہوا کے تیزرفتارہونے کے باوجود میں انھیں چلنے میں پریشانی کا احساس نہیں ہوتا تھا ، بالکل ہمارے زمانے کے ترقی یافتہ تیزرفتار ذرائع آمدورفت کی طرح۔ ان میں بھی بعض وسائل ایسے ہیں کہ انسان جب ان کے اور ذریعے سفر کرتا ہے تو یوں محسوس کرتا ہے جیسے اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھا ہے حالانکہ وہ چیز انتہائی تیز رفتاری سے چل رہی ہوتی ہے۔ 
 دوسرایہ کہ بعض مفسرین نے ان دوآیات کو دوقسم کی ہواؤں کا ذکر سمجھا ہے اور دونوں کواللہ  حضرت سلیمانؑ کے اختیار میں دے رکھا تھا۔ ایک تیزرفتارہوا تھی اور دوسری آہستہ رو۔ 
 2-  دوسری نعمت اللہ تعالٰی نے جناب سلیمانؑ کو عطا کی تھی کہ سرکش موجودات ان کے لیے مسخر کر دیئے گئے تھے اور ان کے اختیار میں دے دیئے گئے تھے تاکہ آپ ان سے مشقت کام سے سکیں ۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے "اور تم نے شیطانوں کواس کے لیے مسخر کردیا اور ان میں سےہرمعمار اورغواص کواس کا تابع فرمان بنادیا " تاکہ ان میں سے کچھ خشکی میں اس کے کہنے کے مطابق تعمیرات کریں اور کچھ دوریا میں غواصی اور غوطہ زنی کے کام میں آئیں ( والشياطين كل بناء وغواص)۔ ؎1 
 اس طرح سے اللہ تعالی نے مشبت کاموں کے لیے موجود قوت ان کے اختیار میں دے دی ۔ شیطان کے جن کے مزاج ہی میں سرکشی ہے دہ ان کے لیے اس طرح سے مسخر ہوگئے کہ ان سے تعمیری اوراصلاحی کام لیا جانے لگا اور گراں بہا منابع سے استفادہ کے لیے استعمال ہونے گئے۔ 
 صرف اس آیت میں نہیں بلکہ قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں اس امر کی طرف اشارہ ہے شیطان حضرت سلیمان کے تابع فرمان تھے اوران کے حکم کے مطابق مشبت کام کرتے تھے۔ البتہ بعض آیات مثلاً زیر بحث آیت اور سورہ انبیاء کی آیت 82 میں "شیاطین" کالفظ ہے جبکہ سورہ سبا کی آیت 12 میں "جن" کالفظ ہے۔
 ہم کہہ چکے ہیں کہ "جن" ایک ایسا موجود ہے جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے لیکن عقل و شعور اور طاقت کا حامل ہے۔ نیزجنوں میں
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   "شیاطین" کا "الريح"  پرعطف ہے کہ جو "سخرنا" کا مفعول ہے اور "کل بناءوغواص "شیاطین" کابدل ہے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
و 
مومن بھی ہیں اور کافر بھی اور اس میں کوئی مانع نہیں کہ حکم خدا سے وہ ایک نبی کے تایع فرمان ہوجائیں اور مفید کام انجام دیں۔ 
 یہ احتمال بھی ہے کہ لفظ "شیاطین" کا ایک وسیع تر معنی ہو کہ جس میں سرکش انسان بھی شامل ہوں اوران کے علاوہ بھی۔لفظ "شیطان" 
کا اطلاق قران مجید میں ایک وسیع مفہوم پر ہواہے (مثلًا سوره انعام کی آیت 112)۔
  بہرحال الله تعالی نے حضرت سلیمان کو یہ طاقت دی تھی کہ وہ تمام اور سرکشوں کو اپنے سامنے جھکا سکیں۔
 3-  تیسری نعمت اللہ نے حضرت سلیمانؑ کو یہ عنایت کی تھی کہ انھوں نے تخریب کار اور فسادی قوتوں پر قابو پارکھاتھا، کیونکہ بہرحال بعض شیطان ایسے بھی تھے  کہ جن سے ایک مفید اور اصلاحی قوت کے طور پر کام نہیں لیا جاسکتا تھا اوراس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ قیدو بند رہیں تاکہ معاشرہ ان کی مزاحمت سے پیدا ہونے والے شر سے محفوظ ر ہے۔ جسیا کہ اگلی آیت میں قرآن کہتا ہے : اور شیطانوں کاایک اور گروہ اس کے قابو میں زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا (و اخرین مقرنين في الاصفاد )۔ ؎1
 "مقرنين"  "قرن" کے مادے سے مقارنت اور نزدیکی کے معنی میں ہے۔ یہاں یہ لفظ ہاتھ پاوں یاگردن کو زنجیر میں جمع کرنے کے معنی میں ہے :
 "اصفاد" "صفد" (بروزن نمد) کی جمع ہے جو قید وبند کے وسیلے کے معنی میں ہے مثلًا ہتھکڑیاں اور بیٹریاں جو قیدیوں کو پہنائی جاتی ہیں ۔ بعض نے مقرنين في الاصفاد سے اسی زنجیر مرادلی ہے کہ جس سے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا اور یہ مفهوم" مقرنين " کے معنی کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ 
 یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس جملے سے مراد یہ ہے کہ ان کے الگ الگ گروپ تھے اورہر گروپ کے لیے الگ  قید اور بندش تھی۔ 
 البتہ یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر "شیاطین" سے مرادشیاطین جن ہیں کہ جوفطری طورجسم لطیف رکھتے ہیں تو پھر زنجیر اور ہتھکڑیاں ان کے ساتھ مناسب نہیں رکھتیں۔ اس کیےبعض نے کہا ہے کی یہ تعبیر میں تخریبی کارروائیوں سے باز رکھنے کے معنی کے لیے کنایہ ہے۔ 
 4-  چوتھی نعمت اللہ تعالی نے جناب سلیمان کو یہ دی تھی کہ انھیں بہت سے اختیارات دے رکھے تھے کہ جن کی وجہ سے کسی کو کچھ عطا کرنے اور یانہ کرنے میں وہ صاحب اختیار تھے۔ جیسا کہ بعد والی آیت کہتی ہے: تم نے اس سے کہا : یہ ہماری عطا وبخشش ہے جسے تو(مصلحت کے مطابق) چاہتا ہے عطا کر اور جس سے تو (مصلحت کے مطابق) روکناچاہتا ہے روک لے تجھ پر کوئی حساب نہیں ہے ۔ (هذا عطاؤنافامنن اوامسك بغير حساب). 
 "بغیر حساب"  یا تو اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے تیرے مقام عدالت کی بنا پر تجھے وسیع اختیارات دیئے ہیں اور تجھ سے پوچھ گچھ نہ ہوگی ، یا اس کا معنی یہ ہے کہ عطائے الہی تجھ پر اس قدر ہے کہ جس  قدر بھی بخش دے اس میں حساب نہیں ہوگا۔ 
 بعض مفسرین نے اس تعیبر کو صرف گرفتار شیاطین سے مربوط جانا ہے کہ جسے تو چاہے (اورمصلحت دیکھے) آزادکردے اورجس کے لیے قید میں مصلحت سمجھے اسے قید کر دے۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      "اخرین“ کا عطف "كل بناء" پر ہے اور "سخرنا" کے مفعول کے خکم میں ہے اور "مقرنين "اخرین"  کی صفت ہے۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 لیکن یہ معنی بعد نظرآتا ہے کیونکہ یہ "عطاؤن" کے ظاہری مفہوم سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ 
 5-  پانچویں نعمت جو خدا نے حضرت سلیمان کو دی وہ ان کا روحانی مقام تھاکہ جواللہ نے ان کی اہلیت و قابلیت کی بنا پرانھیں  مرحمت فرمایا تھا۔ جیسا کہ زیربحث آخری آیت میں فرمایا گیا ہے ، اس کے لیے ہمارے پاس چند بلند اور نیک انجام ہے (وان له عندنا لزلفٰی و حسن ماب)۔ 
 یہ جملہ درحقیقت ان لوگوں کا جواب ہے جنھوں نے اس عظیم نبی کے مقام مقدس پر طرح طرح کی ناروا اور بے ہودہ تہمتیں لگانے میں موجودہ تورات کی پیروی کی ۔ اس آیت میں قرآن حضرت سلیمانؑ کو تمام تہمتوں سے مبرا قرار دے رہا ہے اور خدا کے ہاں ان کے معزز مقام کی خبر دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ "حسن ماٰب" کہہ کر ان کے انجام بخیر کی خبر بھی دی گئی ہے۔ ہوسکتا ہے یہ تورات تو میں آنے والی اس ناروانسبت کی نفی ہو کہ حضرت سلینان نے بت پرستوں میں شادی کی تھی۔  جس وجہ  سے ان کا میلان بت پرستی کی طرف ہو گیا تھا۔ موجودہ تورات یہاں تک کہتی ہے کہ انھوں نے بت خانہ بنایا تھا ، لیکن قرآن  "حسن ماب" کہہ کران تمام اوہام وخرفات پر خط بطلان کھینچ رہا ہے۔