سلیمان اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ دیکھتے ہیں
وَوَهَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَيْمَانَ ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ۳۰إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ ۳۱فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ۳۲رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ ۳۳
اور ہم نے داؤد علیھ السّلام کو سلیمان علیھ السّلام جیسا فرزند عطا کیا جو بہترین بندہ اور ہماری طرف رجوع کرنے والا تھا. جب ان کے سامنے شام کے وقت بہترین اصیل گھوڑے پیش کئے گئے. تو انہوں نے کہا کہ میں ذکر خدا کی بنا پر خیر کو دوست رکھتا ہوں یہاں تک کہ وہ گھوڑے دوڑتے دوڑتے نگاہوں سے اوجھل ہوگئے. تو انہوں نے کہا کہ اب انہیں واپس پلٹاؤ اس کے بعد ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو ملنا شروع کردیا.
تفسیر
سلیمان اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ دیکھتے ہیں
ان آیات میں بھی حضرت داود کے بارے میں گفتگو جاری ہے۔ پہلی آیت میں انھیں سلیمان جیسا باشرف بیٹا عطا فریانے کی خبر دی گئی ہے کہ جو ان کی حکومت ورسالت کو باقی و جاری رکھنے والے تھے ۔ ارشاد ہوتا ہے : ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا۔ کیا ہی اچھا بندہ تھا کیونکہ وہ ہمیشہ دامن خدا کی طرف اور آغوش حق کی طرف لوٹتا تھا (و و هبنا لداود سلیمان نعم العبدانہ اواب) ۔
یہ تعبیر حضرت سلیمان کے عظیم مرتبے کی تر جمان ہے۔ شایدیہ ان بے بنیاد اور قبیح تہمتوں کی تردید کے لیے ہے کہ جو زوجہ اوریا سے حضرت سلیمان کے تولہ کے بارے میں تحریف شده تورات میں آئی ہیں اور نزول قرآن کے زمانے میں وہ تہمتیں اسی طرح عام تھیں۔
ایک تو" وهبنا" (ہم نے بخشا، فرمایا پھر" نعم العبد" (وہ کیا ہی اچھابندہ ہے) کہہ کر تعریف کی نیز" انه ا واب" (وہ شخص ہمیشه فرمان و اطاعت الٰہی کی طرف لپکتا ہے اور ذرہ بھر بھی لغزش ہوجائے تو توبہ کرتا ہے) کہہ کر ستائش کی گئی ۔ یہ سب باتیں اس عظیم نبی کے بلند مرتبے کی غماض ہیں۔
"انه اواب" بالکل وی تعبیر ہے جواسی سورہ کی آیت میں 17 میں کے باپ حضرت داؤد کے لیے آئی ہے۔
" اواب " مبالغے کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہے "بہت زیاده بازگشت کرنے والا" اوراس میں کوئی شرط بھی نہیں ہے اگر اس مفہوم کی طرف توجہ کی جائے تو اطاعت فرمان الہی کی طرف بازگشت حق و عدالت کی طرف بازگشت او غفلت و ترک اولٰی سے بازگشت سب معانی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اگلی اآیت میں حضرت سلیمانؑ کے گھوڑوں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس کے متعلق مختلف تفسیریں بیان کی گئی ہیں ۔بعض جاہل اور بے خبرلوگوں کی طرف سے بھی ہیں کہ جو نہایت تکلیف دہ ہیں اورعقلی معیار کے خلاف ہیں ۔ ان لوگوں نے ایسی ایسی باتیں کی ہیں کہ جو ایک عام انسان کے بھی شایان شان نہیں ہیں چہ جائیکہ ان کی نسبت حضرت سلیمان جیسے عظیم المرتبت نبی کی طرف دی جائے تاہم محققین عقلی و نقلی دلائل سے ایسی تفسیروں کا راستہ بند کر دیا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم مختلف احتمالات کا جائزہ لیں آیات کی تفسیراس کے ظاہر کے مطابق یا ظاہر ترین احتمالات کے مطابق پیش کرتے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ جونار وانسبتیں دی جاتی ہیں ان کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ لوگوں نے پہلے فیصلے کیے پھر لاکر انھیں قرآن پرٹھونس دیا۔
قرآن کہتا ہے : وہ وقت یاد کر جب وقت عصر چا بک اور تیزرفتار گھوڑے اس (سلیمان) کے حضور پیش کیے گئے (اذعرض عليه بالعشى الصافنات الجياد) ۔
"صافنات" "صافنۃ" کی جمع ہے ۔ جیساکہ بہت سے مفسرین اورارباب لغت نے لکھا ہے "صافنات" ایسے گھوڑو ں کوکہا جاتا ہے کہ جو کھڑے ہوتے وقت دو اگلے اور ایک پچھلے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں اورایک پچھلا پاؤں کچھ بلند کیے رہتے ہیں اور صرف سم کی نوک زمین پر رکھتے ہیں اور یہ چابک اور تیز رفتار گھوڑوں کی خاص حالت ہے کہ جو ہر وقت چلنے کو تیار ہوتے ہیں۔ ؎1
"جیاد " "جواد" کی جمع ہے یہاں یہ لفظ سریع الحرکت اور تیز رفتار گھوڑوں کے معنی میں ہے ۔ در اصل یہ لفظ "جود" (بخشش) کے مادہ سے لیا گیا ہے ، البته یہ لفظ انسان کے لیئے ھوتومال بخشنے کے معنی میں ہے اور گھوڑے کے لیے ہو تو تیزرفتاری کے معنی میں ہے۔ گویا مذکورہ گھوڑے جب کھڑے بھی ہوتے تھے تو چلنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کرتے تھے اور جب چلتے تھے تو تیزرفتاری کا مظاہرہ کرتے تھے۔
: اس آیت میں موجود مختلف قرائن سے مجموعی طور پریہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک روز حضرت سلیمان اپنے تیزرفتار گھوڑوں کا معائنہ
و---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بعض نے کہا ہے کہ "صافنات" ، مذکر و مؤنث دونوں معانی رکھتا ہے ،لہذا یہ گھوڑیوں کے لیے مخصوص نہیں ہے۔
ا------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کررہے تھے جنہیں میدان جہاد کے لیے تیار کیا گیاتھا ۔ عصر کا وقت تھا۔ مامورین مذکورہ گھوڑوں کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے ان کے سامنے سے گزر رہے تھے۔
ایک عادل اور باآثر حکمران کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاس طاقتور فوج ہو اور اس زمانے میں لشکر کے اہم ترین وسائل تیز رفتار گھوڑے تھے لہذا حضرت سلیمان کا مقام ذکر کر نے کے بعد نمونے کے طور پرگھوڑوں کا ذکر آیا ہے۔
اس موقع پر یہ واضح کرنے کیلیے کہ طاقتور گھوڑوں سے ان کا لگاؤ دنیا پرستی کی وجہ سے نہیں جناب سلیمان نے کہا : "ان گھوڑوں کو اپنے رب ک یاداوراس کے حکم کی بنا پر پسند کرتا ہوں ۔ "میں چاہتا ہوں کہ ان سے دشمنوں کے خلاف جہاد کام لوں (فقال انی احببت حب الخير عن ذکرر ربی)۔
عربوں کا معمول ہے کہ وہ "خیل" گھوڑا کو خیر سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیہ وسلم الے نے بھی فرمایا ہے ۔
خير معقود بنواصي الخيل الى يوم القيامة
خیر اور بھلائی قیامت تک کے لیے گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ باندھ دی گئی ہے ۔ ؎1
سلیمان کہ جو دشمن کے خلاف جہاد کے لیے آمادہ ان تیز رفتار گھوڑوں کا معائنہ کر رہے تھے بہت خوش ہوئے۔ آپ انھیں یوں دکھ رہے تھے کہ نظریں ان پرجم کر رہ گئی "یہاں تک کہ وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئے" (حتی توارت بالحجاب)۔
یہ منظر نہایت دلکش اور عمدہ تھا اور حضرت سلیمان بھی عظیم فرماں روا کے لیے نشاط انگیز تھا۔ آپ نے حکم دیا "ان گھوڑوا کو واپس میرے پاس لاؤ" (ددوهاعلى).
جب مامورین نے اس حکم کی اطاعت کی اورگھوڑوں کو واپس لائے توسلیمان نے خود ذاتی طور پران پرنوازش اور" ان کی پنڈیلیوں
اور گردونوں کو تھپتھپایا اور ہاتھ پھیرا (فطفق مسحًا بالسوق والاعناق)۔
یوں آپ نے ان کی پرورش کرنے والوں کی بھی تشویق اور قدردانی کی۔ معمول ہے کہ جب کسی کوسواری کی قدر دانی کی جاتی ہے تواس کے سر، چہرے، گردن یا اس کی ٹانگ پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے اور یہ دلچسپی اور پسندید گی کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے کہ جس سے انسان اپنے بلند مقاصد میں مددلیتا ہے لہذا حضرت سلیمانؑ جیسے عظیم نبی کا ایسا کرنا کوئی تعجب انگیز نہیں۔
"طفق" ( کہ جو نحویوں کی اصطلاح کے مطابق افعال مقاربہ میں سے ہے) کسی کام کو شروع کرنے کے معنی میں ہے ۔ "سوق" جمع ہے "ساق" کی (پنڈلی کے معنی میں) اور "اعناق" جمع ہے "عنق" کی( گردن کے معنی میں) پورے جملے کا معنی یہ ہے: ۔
سلیمان نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرا اور ان سے نوازش کرنا شروع کیا۔
ا--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجع البیان زیربحث آیت کے ذیل میں
بعض نے زیربحث آیت میں "خیر" سے مال کثیر مراد لیا ہے ممکن ہے یہ سابقہ تفسیرپر منطبق ہو سکے کیو نکہ یہاں مال مصداق گھوڑے ہی ہیں ۔
ا-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ان آیات کی تفسیر کے بارے میں جو کچھ سطور بالا میں کہاگیا ہے یہ بعض مفسرین سے ہم آہنگ ہے ۔ بزرگان شیعہ میں سے عالم نامدار و بزرگوار سید مرتضٰی کے کلمات سے بھی اس تفسیر کے ایک حصے کا استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب " تنزیہ الانبیاء" میں بعض مفسرین اور ارباب حدیث کی جانب سے حضرت سلیمانؑ کی طرف دی جانے والی ناروانسبتوں کی نفی کرتے ہوئے لکھا ہے:
کیسے ممکن ہے کہ اللہ پہلے تو اس پیغمبر کی مدح وثنا کرے اور پھر ساتھ ہی اس کی طرف اس برے
کام کی نسبت دے کہ وہ گھوڑوں کا نظارہ کرنے میں یوں محو ہوئے کہ نماز بھول گئے بلکہ ظاہریہ ہے
کہ گھوڑوں سے بھی ان کا لگاؤ حکم پروردگار سے تھاکیونکہ اللہ ہمیں بھی حکم دیتا ہے گھوڑے پالیں اور
دشمنوں کے خلاف جنگ کے لیے انھیں آمادہ رکھیں۔ لہذاکیا مانع ہے کہ اللہ کا ننی بھی ایسا ہی ہو۔ ؎ 1
علامہ مجلسی مرحوم نے بحارالانوار کی کتاب نبوت میں مذکورہ بالا آیات کی تفسیرکےبارےمیں مختلف باتیں کی ہیں جن میں البعض ہماری محره بالاتفسیرکےنزدیک هیں۔
بہرحال اس تفسیر کے مطابق سلیمان سے تو کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہے اور نہ ہی آیات میں عدم ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی مشکل پیش آتی ہے کہ جس کی توجیہ کرنا پڑے ۔ ؎2
بعض مفسرين نے ایک اور تفسیر کی ہے اب ہم اسے پیش کرتے ہیں۔
زیادہ مشهوریہ ہے کہ " توارت" اور" ردوها" - کی ضمیرں "شمس" (سورج) کی طرف لوٹتی ہیں کہ جو عبارت میں مذکورنہیں ہے لیکن زیربحث آیات میں لفظ "عشی" (وقت عصر ) آیا ہے اس سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس طرح سے آیات کا مفہوم یہ ہوگا کہ سلیمانؑ گھوڑوں کو دیکھنے میں منہمک تھے کہ سورج نے اپنا سرافق مغرب میں رکھ دیا اور حجاب مغرب میں پنہاں ہو گیا۔ سلیمانؑ اپنی نماز عصر کھو جانے سے بہت پریشان ہو گئے۔ وہ پکارے؛ اے پروردگار کے فرشتو! سورج کو میرے لیے لوٹادو۔سلیمان کا یہ تقاضا پورا ہوا اور سورج پلٹ آیا۔ حضرت سلیمان نے وضو کیا (پنڈلی اور گردن پر ہاتھ پھیرنے سے مراد وضو کے دوران میں مسح کرنا ہے کہ جوحضرت سلیمان کے مذہب میں تھا ، البتہ کبھی لفظ مسح عربی زبان میں دھونے کے معنی میں بھی آتا ہے) پھرانھوں نے اپنی نماز ادا کی۔
بعض ناآگام اور بے شعور اس سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ انھوں نے ایک اور قبیح تہمت اس عظیم نبی پر لگائی ہے وہ کہتے ہیں کہ "طفق مسحًا بالسوق والاعناق" سے مرادیہ ہے کہ سلیمان نے حکم دیا کہ تلوار کے ساتھ گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ دی جائیں یا خود یہ کام انجام دیا کیونکہ وہ گھوڑے یاد خدا سے غفلت اور نماز کی فراموشی کا سبب بنے تھے۔
و --------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تنزيہ الانبیاء ، ص 93
؎2 بحار الانوار ، جلد 4 ص 104
؎3 اس تفسیر کے مطابق" توارت" اور "ردوها" - کی ضمیریں تیزروگھوڑوں یعنی "الصافنات الجياد" کی طرف لوٹتی ہیں ۔
ا-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس آخری گفتگو کا بطلان توکسی سے مخفی نہیں کیونکہ اس میں گھوڑوں کا کوئی قصورنہ تھا کہ انھیں تہ تیغ کیا جاتا اگرگناہ تھاتو خود سلیمانؑ کا تھا جوگھوڑوں کا نظارہ کرتے کرتے ان میں منہمک ہوگئے اور باقی سب کچھ بھول گئے۔ علاوہ ازیں گھوڑوں کو مار ڈالنا ظلم بھی ہے اور اسراف بھی۔ لہذا کیسے ممکن ہے کہ ایسی نارواعمل ایک نبی سے سرزد ہو۔ لہذا اسلامی کتب میں اس ضمن میں آنے والی روایات میں حضرت سلیمان کی طرف اس نسبت کی شدت سے نفی کی گئی ہے۔
رہی دوسری تفسیر میں کہ جس میں نماز عصر سے غفلت کی بات کی گئی ہے اس سے بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کی معصوم نبی اپنی واجب ذمہ داری کو بھول جائے؟ کہ اگرچہ گھوڑوں کا معائنہ بھی ان کی ایک ذمہ داری تھی۔
بعض نے کہاہے کہ وہ مستحب نمازتھی کہ جسے چھوڑ دینے میں کوئی حرج نہ تھا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نماز نافلہ کے لیے سورج پلٹانے کی ضروت نہ تھی۔ علاوہ ازیں اس تفسیر کچھ دیر اشکالات اور اعتراضات بھی ہیں ، مثلا "
1- لفظ " شمس " آیات میں صراحت کے ساتھ نہیں آیا "الصافنات الجياد" (تیزرفتار گھوڑے )صراحت کے ساتھ مذکورہے ۔ الہذازیادہ مناسب یہی ہے کہ ضمیریں اسی چیز کی طرف لوٹیں صراحت کے سات آیات میں موجود
2- " عن ذکر ربی" کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ان گھوڑوں کی محبت یادخدا اوراس کے فرمان کے باعث ہے جب آخری تفسیر کے ومطابق لفظ " عن ، على " کے معنی میں ہے۔ یعنی میں نے گھوڑوں کی محبت کو اپنے رب کی محبت پر ترجیح دی اور یہ معنی خلاف ظاہر ہے (غور کیجیے گا) ۔
3- سب سے ذیادہ تعجب کی بات یہ ہےکہ "ردوها علي" (انھیں میری طرف لوٹادو ) اس میں حکمیہ لب ولہجہ ہے ۔ کیاممکن ہے کہ سلیمانؑ اللہ تعالٰی یا اس کے فرشتوں سے اس لہجے میں خطاب کرتے ہوئے کہیں کہ سورج میری پلٹا دیں .
4- سورج پلٹنے کا مسئلہ اگرچہ قدرت خدا کے لیے محال نہیں ہے تاہم واضح طور پر بہت سے مسائل اس سے وابستہ ہیں اور جب تک واضح دلیل موجود نہ ہو اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔
5- زیر بحث آیات کا آغاز حضرت سلیمان کی مدح وتمجید سے ہوتا ہے جبکہ زیرنظرتفسیر کے مطابق ان آیات کا اختتام آپ کی مذمت پر ہوتا ہے۔
6- اگر واجب نماز ترک ہوئی ہے تواس کی توجیہ مشکل ہے اوراگر نافلہ نماز ترک ہوئی ہے تو پھر سورج پلٹانے کی کیا ضرورت تھی ؟
یہاں ایک سوال باقی رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ یہ تفسیرکتب احادیث میں متعدد روایات میں نظر آتی ہے لیکن اگر ان روایات کی اسناد کا بغور جائزہ لیں اوران کی تحقیق کریں تو ہم تصدیق کریں گے کہ ان میں سے کسی ایک کی سند بھی معتبر نہیں ۔ زیادہ تر روایات مرسلہ ہیں ۔ کیا یہ بہترنہیں کہ ان گیر معتبر روایات سے صرف نظر کیا جائے اوراس کا علم ہم اس کے اہل کے ذمہ رہنے دیں اور پہلے سے فیصلہ کیے بغیر آیات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے اسی کو انتخاب کریں اور یوں مختلف اشکالات سے آسودہ خاطر بھی رہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــ