Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- یہ کس آیات کے بارے میں ہیں؟ 

										
																									
								

Ayat No : 26-29

: ص

يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ ۲۶وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ۲۷أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ ۲۸كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ۲۹

Translation

اے داؤد علیھ السّلامہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راسِ خدا سے منحرف کردیں بیشک جو لوگ راہ هخدا سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے کہ انہوں نے روزِ حساب کو یکسر نظرانداز کردیا ہے. اور ہم نے آسمان اور زمین اور اس کے درمیان کی مخلوقات کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے یہ تو صرف کافروں کا خیال ہے اور کافروں کے لئے جہّنم میں ویل کی منزل ہے. کیا ہم ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والوں کو زمین میں فساد برپا کرنے والوں جیسا قرار دیدیں یا صاحبانِ تقویٰ کو فاسق و فاجر افراد جیسا قرار دیدیں. یہ ایک مبارک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کریں.

Tafseer

									2- یہ کس آیات کے بارے میں ہیں؟ 
 ایک روایت میں ان آیات کی تفسیر کے بارے میں ہے کہ "الذین آمنواو عملوا الصالحات" سے امیرالمؤمنین حضرت علی اوران کے یار و انصار کی طرف اشارہ ہے جبکہ"المفسدين في الارض" کا اشارہ ان کے مخالفین کی وطن ہے ۔ ؎1
 ایک اور حدیث جوابن عساکر نے ابن عباس سے نقل کی ہے اس میں ہے کہ "الذین آمنوا" سے مرادحضرت علی ، حضرت حمز اور جناب عبیدہ ہیں کہ جو میدان بدرمیں عتیہ ، ولید اورشیبہ کے مقابلے میں نکلے تھے جو لشکر شرک میں سے تھے اور ان سے دست بدست لڑائی کی اور ان پر غالب آۓ "المفسدين في الارض" سے مراد تین مذکورہ افراد ہیں کہ لشکر کفروشرک میں سے ہیں۔ ؎2 
 واضح ہے کہ ان روایات کا مفہوم یہ نہیں کہ آیت کو خاص افرادمیں منحصر کر دیا جائے بلکہ اس سے شان نزول مرادہے یا روشن و واضح مصداق - 
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   تفسیر نورالثقلین ، جلد 4 ص 453  (حدیث 37 ) 
  ؎2   تفسیر روح المعاني جلد 23 ص 71