1 - تقوی اور فجور ایک دوسرے کی ضد
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ ۲۶وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ۲۷أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ ۲۸كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ۲۹
اے داؤد علیھ السّلامہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راسِ خدا سے منحرف کردیں بیشک جو لوگ راہ هخدا سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے کہ انہوں نے روزِ حساب کو یکسر نظرانداز کردیا ہے. اور ہم نے آسمان اور زمین اور اس کے درمیان کی مخلوقات کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے یہ تو صرف کافروں کا خیال ہے اور کافروں کے لئے جہّنم میں ویل کی منزل ہے. کیا ہم ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والوں کو زمین میں فساد برپا کرنے والوں جیسا قرار دیدیں یا صاحبانِ تقویٰ کو فاسق و فاجر افراد جیسا قرار دیدیں. یہ ایک مبارک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کریں.
چند اہم نکات
1 - تقوی اور فجور ایک دوسرے کی ضد ؛
زیربحث آیات میں "فساد فی الارض" کو "ائیان وعمل صالح" کے ان کے مزمقابل قرار دیا گیا ہے نیز "فجور" (دین کا پردہ چاک کرنا) تقوٰی وپرہیزگاری کی ضد قرار دیا گیا ہے کیا ان دونوں عبارتوں ایک وہی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے یا دو مطالب کو بیان کیا گیا ہے ؟
بعید نہیں ہے کہ دونوں عبارتوں میں ایک حقیقت کو بیان کیا گیا ہو۔ کیونکہ "متقین" "نیک عمل کرنے والے مومنین" ہی ہیں اور "فجار" "مفسدين في الارض " ہی ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ پہلا جملہ اعتقادی اور عملی دونوں پہلوؤں کی طرف اشارہ ہو اور صحیح عقیدے کے ساتھ نیک عمل کرنے والوں کا موازنہ
فاسدالعقیدہ اور فاسدالعمل لوگوں سے کیا جارہا ہو، جبکہ دوسرا جملہ صرف عملی پہلو کی طرف اشارہ ہو۔
یہ فرق ممکن ہے کہ ” تقوی" انسان کے انفرادی کمال اور "فجور" انسان کے انفرادی تنزل کی طرف اشارہ ہو جبکہ عمل صالح اور فسادفی الارض معاشرتی پہلوں کی طرف اشارہ ہو۔
لیکن ان میں سے تاکید والی پہلی تفسیریں زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔