عدل کرو اور ہواۓ نفس سے بچو
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ ۲۶وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ۲۷أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ ۲۸كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ۲۹
اے داؤد علیھ السّلامہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راسِ خدا سے منحرف کردیں بیشک جو لوگ راہ هخدا سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے کہ انہوں نے روزِ حساب کو یکسر نظرانداز کردیا ہے. اور ہم نے آسمان اور زمین اور اس کے درمیان کی مخلوقات کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے یہ تو صرف کافروں کا خیال ہے اور کافروں کے لئے جہّنم میں ویل کی منزل ہے. کیا ہم ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والوں کو زمین میں فساد برپا کرنے والوں جیسا قرار دیدیں یا صاحبانِ تقویٰ کو فاسق و فاجر افراد جیسا قرار دیدیں. یہ ایک مبارک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کریں.
تفسیر
عدل کرو اور ہواۓ نفس سے بچو
گزشتہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اب آخرمیں حضرت داؤد سے خطاب فرماتے ہوئے ان کے بلند کردار کا ذکر کیاجارہا ہے اورساتھ ساتھ ان کی سنگین ذمہ داریوں کا ذکر دو ٹوک انداز میں اور معنی خیز عبادت کے ساتھ کیاجارہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں اپنا خلیفہ (اورنمائنده) قراردیا ہے ۔ لہذا لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کر اور ہوائے نفس کی پیروی نہ کرکیونکہ وه تجھے راہ خدا سےبھٹکادےگی ۔ جو لوگ اللہ کے راستے سے منحرف ہوجائیں ان کے لیے روز حساب کو فراموش کرنے کی وجہ سے شدید عذاب بے (یا داؤد انا جعلناک خليفة في الارض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوٰی فیضلك عن سبيل الله ان الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شدید بما نسوا يوم الحساب)
اس آیت میں حضرت داؤد کے بلند مرتبے کا ذکر ہے اور ان کے ہم منصب کی بات کی گئی ہے ۔ اس آیت کا مضمون نشاندہی ٓکرتا ہے کہ زوجہ اوریا کے ساتھ ان کی شادی کے لوگوں نے جو چھوٹے افسانے تراشے ہیں وہ کس قدر بے بنیادیں ۔
کیسے ممکن ہے کہ اللہ ایسے شخص کو زمین کی خلافت سونپ دے اور مقام قضاوت اس کےسپردکردے جومومنین اور اپنےیاروانصار کی ناموس پرخیانت بھری نظریں گاڑے ہوئے ہو اور اس کا ہاتھ بے گناہوں کے خون سے آلودہ ہو؟
اس آیت میں پانچ جملے ہیں اور ہر جملہ ایک حقیقت کا ترجمان ہے۔
پہلی 1 حقیقت زمین میں داؤد کا مقام خلافت ہے۔ اس سے مراد گزشتہ انبیاء کی خلافت و جانشینی ہے یا خلافت الہی؟ ہماری نظر میں دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے اور یعنی سورة بقرہ کی آیت30 سے ہم آہنگ ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے:
و اذ قال ربك للملائكة اني جاعل في الارض خليفة
اس وقت کو یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں خلیفہ بنا رہا ہوں۔
البتہ لفظ خلافت کے حقیقی معنی کے لحاظ سے تو اللہ کی خلافت کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ یہ توان کے لیے ہوتی ہے جن کے لیے وفات یا غیبت کا معنی صادق آتا ہو ۔ یہاں اس سے مراد بندوں میں اس کی نمائندگی اور زمین میں اس کے فرامین کا اجراء ہے۔
یہ جملہ نشاندہی کرتاہےکہ زمین میں حکومت کامنشاءومصدرحکومت الٰہی ہوناچاہیےاورجوحکومت اس راستےکےعلاوہ ہووه ظالمانہ اور غاصبانہ حکومت ہے۔
دوسرے2 جملے میں حکم دیاجارہا ہے کہ اب جبکہ تجھےیہ عظیم نعمت دی جاچکی ہے ، تیری ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصل کر ۔ درحقیقت خلافت الہیہ کا نتیجہ حق کی حکومت ہے۔ اس جملے سے یہاستفادہ کیا جا سکتا ہے حق حکومت بھی صرف خلافت الٰہیہ سے پیدا ہوتا ہے اور براہ راست اسی کا نتیجہ ہے۔
تیسرے3 جملے میں ایک حاکم عادل کو درپیش اہم ترین خطرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ہوائے نفس کی ہرگز پیروی نہ کرنا۔
جی ہاں! ہوائے نفس حقیقت میں انسان کی آنکھوں کے سامنے ایک ضخیم پردہ ڈال دیتی ہے اور اس کے اور عدالت کے درمیان جدائی ڈال دیتی ہے۔
لہذا چوتھے جملے میں فرمایا گیا ہے: اگر تو نے ہوائے نفس کی پیروی کی تو وہ تجھے راہ خدا سے کہ جوراہ حق ہےبھٹکادےگی۔
لہذا جہاں کہیں بھی گمراہی ہے اس میں بوائے نفس کا ہاتھ ہے اور جہاں بھی ہوائے نفس ہے اس کا نتیجہ گمراہی ہے، جوحاکم ہوائے نفس کا پیرو ہو وہ لوگوں کے مفادات وحقوق کو اپنی اغراض پر قربان کردے گا۔ اسی لیے اس کی حکومت ناپائیدار ہوگی اور شکست کا سامنا کرے گی ۔
ہوسکتا ہے اس مقام پر ہواۓ نفس کا ایک وسیع معنی ہوکہ جس میں انسان کی اپنی خواہش نفس بھی شامل ہے اور لوگوں کی خواہشات بھی ۔ اس طرح قرآن ان تمام مکاتب کی نفی کرتا ہے کہ جو عوامی انکار کی پیروی کو حکومتوں کے لیے ضروری سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ دونوں کا نتیجہ طریق الٰہی اور صراط حق سے گمراہی ہے۔
موجودہ زمانے میں ہم اس طرز فکر کے ذلت بارنتائج کے شاہد ہیں جو بزعم خود متمدن دنیا میں رونما ہورہے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض اوقات لوگوں کی خواہشات کے باعث قبیح ترین اعمال بھی قانونی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔ اس طرز عمل نے ذلت ورسوائی کو اس حد تک پہنچا دیا ہے ک قلم کو بیان کرتے ہوئے شرم دامن گیر ہے۔
یہ درست ہے کہ حکومت کی اساس دوش عوام ہی کو ہونا چاہیے اور ان کی شرکت ہی سے حکومت تشکیل پانا چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حق و باطل کا معیار ہر جگہ اور مسئلے میں اکثریت کی خواہشات قرارپاجائیں۔ حکومت کے ستون حق پراستوار ہونے چاہیں اوران کی تعمیرواستحکام کے لیے عوامی قوت سے مددلینا چاہیے اور "اسلامی جمہوریہ کا یہی معنی ہے۔ یہ اصطلاح "اسلامی" اور"جمہوریہ" دولفظوں سے مرکب ہے اوراسی کے ہم قائل ہیں ۔ بالفاظ دیگر اصول مکتب و دین سے لیے جائیں اوران کے اجراء کے لیے لوگوں کو شریک کیا جائے (غور کیجیے گا)۔
آخر میں پانچویں جملے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ راہ حق سے گمراہی کا سرچشمہ "يوم الحساب" کی فراموشی ہے اوراس کا نتیجہ شدید عذاب الہی ہے۔
اصولی طور پر روز قیامت کی فراموشی ہمیشہ گمراہیوں کا سرچشمہ ہے اورہر گمراہی میں اس فراموشی کا حصہ ہے اور یہ اصول معاد کی طرف توجہ،انسانی زندگی میں اس کے تربیتی اثر کو واضح کرتی ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی کتب میں منقول روایات بہت غور طلب ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور حدیث پیمغبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمومنین علی علیہ اسلام سے منقول ہے۔ انھوں نے فرمایا :
ايها الناس ان اخوف ما اخاف علیکم اثنان اتباع الهوى وطول الامل فاما اتباع
الهوى فيصد عن الحق واماطول الامل فينسي الأخرة
انے لوگو ! وحشت ناک ترین چیزیں دو ہیں جن کی جانب سے میں تمھارے بارے میں ڈرتا ہوں،
ایک ہے بواوہوس کی پیروی اور دوسری ہے لمبی چوڑی امیدیں ۔ ہوا و ہوس کی پیروی تو تمھیں
حق کے منحرف کردےگی اور لمبی چوڑی امیدیں تمھیں قیامت بھلا دیں گی۔ ؎1
حق ہے کہ اس جملے کو آب زر سے لکھا جائے اور یہ ہر دیکھنے والے بالخصوص حکمرانوں، قاضیوں اوراہل منصب کے سامنے رہے ایک اور روایت کہ جوامام باقرؑ سے منقول ہے ۔ اس میں آپؑ فرماتے ہیں:
ثلاث موبقات : شح مطاع و هوی متبع واستجاب المرء بنفسه
تین چیزیں آدمی کو ہلاک کر دیتی ہیں:
1- اطاعت کے موقع پر بخل،
2- ہوائے نفس کہ جس کی پیروی کی جائے اور
3- انسان کا اپنے آپ سے خوش ہونا۔ ؎2
ــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت داؤد کی زندگی اور زمین میں ان کے لیے خلافت الہی کا ذکر کرنے کے بعد جہان ہستی کے با ہدف وبامقصد ہونا کا ذکر آیا ہے تا کہ زمین پر حکومت کی جہت واضح ہوجائے کہ جو اس تمام نظام ہستی کا ایک حصہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اسے ہم نے باطل او فضول پیدا نہیں کیا، یہ تو کافروں کا گمان ہے ، افسوس کا فروں پر آتش دوزخ سے (وماخلقنا السماء والأرض وما بينهما باطلًا ذالك ظن الذین کفروا فويل للذين
کفروا من النار)۔
اہم ترین مسئلہ کہ جو تمام حقوق کا سرچشمہ ہے وہ خلقت کا باہدف و بامقصد ہونا ہے۔ جب ہم نے تخلیق کا ئنات کے بارے میں اپنے عقیدے میں یہ بات قبول کر لی کہ یہ عالم وسیع خداوند بزرگ نے فضول پیدا نہیں کیا تو فورًا ہمیں اس کے ہدف کی تلاش ہوتی ہے۔ اس ہدف کو مختصر الفاظ میں "تکامل" "تعلیم" اور "تربیت" کے معنی خیز الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ نتیجه اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حکومتوں کو بھی اسی راستے پر گامزن ہوناچاہیے ۔ انھیں تعلیم و تربیت کی بنیادیں مضبوط کرنا چاہیں اور انھیں انسانوں کے روحانی کمال کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
دوسرے الفاظ میں عالم ہستی و عدالت کی بنیاد پر قائم ہے اور حکومتوں کو بھی پوری کائنات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ یعنی انھیں حق و عدالت کے اصولوں پر استوار ہونا چاہیے۔
ضمنی طور پر بھی کہہ دیا جائے کہ گزشتہ آیت کا آخری جملہ کہ جس میں روز جزا کی فراموشی کا ذکر ہے: زیربحث آیت کے مضمون سے پوری طرح ہم آہنگ ہے کیونکہ مقصد تخلیق کائنات کا تقاضا ہے کہ روز جزا موجود ہے اور جسیا کہ ہم سورہ یٰس کی تفسیر کے
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 نہج البلاغہ ، خطبہ 42
؎2 نورالثقلين جلد 4 ص 453 . بحوالہ کتاب خصال
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اختتام پر معادسےمتعلق بحث میں کہہ چکے ہیں اگر روزحساب موجود ہو تو اس جہان کیفیت بے معنی ، بے مقصد، فضول اور مہمل ہوگی ۔
یہ بات لائق توجہ ہے کہ اس آیت کے اختتام پر ایک واضح خط کی جانب اشارہ موجود ہے جو مکتب ایمان کو کفر سے جدا کرتا ہے اور وہ ہے الحادی مکاتب میں عالم کا بے مقصد ہونا ک جس کے بعض نمونوں میں ہم آج بھی گرفتاری -وہ صراحت سے اعلان کرتے ہیں کہ یہ جہان بے مقصد اوربے ہدف ہے ایسے تصور کائنات کی موجودگی میں وه لوگ اپنی حکومتوں حق و عدالت کو کیسے جاری کر سکتے ہیں یہ فقط الٰہی نظریہ کائنات ہے کہ جس کی بنیادی پر وجود میں آنے والی حکومت حق وعدالت کو جاری کرسکتی ہےکیونکہ اس نظریے کے مطابق تخلیق عالم کا کوئی ہدف و مقصد ہے اور اس جہان کا کوئی حساب شدہ نظام موجود ہے کہ حکومت کو بھی اس کےمطابق کام کرنا چاہیے۔ الحادی کو حکومتیں آج جنگ و صلح اور اقتصادوثقافت کے جن مسائل میں چکی ہیں ایسے میں ان کی اصلی وجہ اس میں تلاش کرنا چاہیے ۔ ان کے اسی نظریے کی وجہ سے ان کی کارگزاری کی اصل بنیاد زور،زبردستی اور اقتدار ہے اور ہرکسی کےلیے وہ اسی کے قائل ہیں کہ جو وہ طاقت اور ظلم سے حاصل کرلیتا ہے اورایسی دنیاکس قدروحشت ناک ہے کہ جو اس طرز فکر کی بنیاد پر عمل پیرا ہوا اور جس کا نظام اس نظریئے کے مطا بق چلے۔ بہرحال خداتعالی حکیم ہے اور ممکن نہیں اس عظیم کائنات کو بے ہدف پیداکردے اور یہ ہدف جبھی پورا ہوگا کہ یہ عالم ایک وسیع تراور عظیم ترجہان کے لیے مقدمہ ہو وہ جہان کہ جوابدیت سے وابستہ ہو اور جو عالم دنیا کو جواز فراہم کرتے کرے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد کی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: کیا ممکن ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک کام انجام دیئے ہیں، انھیں تم ان جیسا قرار دے دیں کہ جو زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں (ام نجعل الذین آمنوا وعملوا الصالحات المفسدين في الارض)۔ ؎1 اور کیا ممکن ہے کہ ہم پرہیزگاروں کو فاجروں کی طرح قراردیں( ام نجعل المتقين کالفجار).
نہ تخلیق بے ہدف ممکن ہے اور نہ نیک اور بدمیں مساوات ممکن ہے کیونکہ نیک لوگ اہدف تخلیق کے مطابق قدم اٹھاتے ہیں اورمقصد کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں جب کہ برے لوگ مخالف سمت پر گامزن ہیں۔
درحقیقت معاد کی بحث اس آیت میں اور قبل کی آیت میں مستدل طور پر تمام پہلوؤں کے سات بیان ہوئی ہے۔
ایک طرف تو یہ فرمایا گیا ہے حکمت خالق کا تقاضا ہے کہ تخلیق کائنات کا کوئی ہدف ہو (اور یہ ہدف دوسرے جہان کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس دنیا کی چند روزہ زندگی اتنی اہم نہیں ہے کہ اس عظیم کائنات کا ہدف ہوسکے)۔
دوسری طرف حکمت و عدل کا تقاضا ہے کہ نیک وبد اور عادل و ظالم یکساں نہ ہوں اور یہی امرقیامت ، جزا وسزا اورجنت و جہنم کا مقتضی ہے۔
اس انسانی معاشرے میں فاجر، مومنین کے برابر اور بڑے نیکوں کے ساتھ نظر آتے ہیں بلکہ بہت سے مواقع پر ہم دیکھتے ہیں کہ
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بعض مفسرین نے تصریح کی ہے کر یہاں "ام" "بل" کے معنی میں اضراب کے لیے ہے ۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ ام" استفہام مخذوف پر عطف ہواور تقدیر میں اس طرح ہے:
اخلقنا السماوات والأرض باطلا ام نجعل المتقین کالفجار
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
بدکار مفسد لوگ زیادہ عیش و آرام میں ہیں ۔اگراس جہان کے بعد کوئی جہان نہ ہوکہ جس میں عدالت حکم فرما ہو تو اس جہان کی وضع خلاف حکمت بھی ہے اور خلاف عدل بھی اور یہ خود مسئلہ معاد کے لیے ایک دلیل ہے۔
دوسرے الفاظ کبھی اثبات معاد کے لیے برہان حکمت سے استدلال کیا جاتا ہے اورکبھی برہان عدالت سے ۔ گزشتہ آیت میں پہلی طرح کا استدلال ہےاوردوسری آیت میں دوسری طرح کا۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
زیربحث آخری آیت میں ایسے مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ جو درحقیقت ہدف کائنات کو پورا کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ؛یہ بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تا کہ لوگ اس کی آیتوں میں غوروفکر کریں اور صاحبان عقل متوجہ ہوں (کتاب انزلناداليك مبارك ليدبروا آياتہ، وليتذکراولوالألباب)۔
اس کی تعلیمات جاوداں ہیں اور اس کے احکام گہرے اورعمیق ہیں اور اس کے پروگرام حیات بخش اور ہدایت کنندہ ہیں کہ جو انسان کو ہدف تخلیق کی طرف لے جاتے ہیں۔
اس عظیم کتاب کے نزول کا مقصد صرف یہ نہ تھا کہ اس کی تلاوت کی جائے اور اسے زبان پر جاری کر لیا جائے اور بس۔بلکہ مقصد یہ تھا کہ اس کی آیات فکر و نظر اور سوچ بچار کا سرچشمہ بنیں۔ اور ضمیرو وجدان کی بیداری کا سبب بنیں اور پھر یہ بیداری حرکت عمل کا باعث بنے۔
"مبارک" جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایسی چیز کے معنی میں ہے کہ جودائمی خیر کی حامل ہو اور قرآن کے بارے میں یہ تعبیر اس امرکی طرف واشارہ ہےکہ انسانی معاشرہ اس کی تعلیمات سے دائما استفادہ کرسکتا ہے اور چونکہ یہ لفظ بطور مطلق استعمال ہوا ہے اس لیے دنیاوآخرت کی ہر طرح کی خیروسعادت پرمحیط ہے ۔ خلاصہ یہ کہ اگرتم خیروبرکت کے طلب گار ہو تو تمھاری خواہش اس میں موجود ہے بشرطیکہ تم اس میں تدبرکرو اوراس سے ہدایت حاصل کرواورحرکت میں آؤ۔