Tafseer e Namoona

Topic

											

									  حضرت داؤد کی اہم صفات

										
																									
								

Ayat No : 17-20

: ص

اصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ۱۷إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ ۱۸وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ ۱۹وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ۲۰

Translation

آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد علیھ السّلام کو یاد کریں جو صاحب طاقت بھی تھے اور بیحد رجوع کرنے والے بھی تھے. ہم نے ان کے لئے پہاڑوں کو لَسّخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ صبح و شام تسبیح پروردگار کریں. اور پرندوں کو ان کے گرد جمع کردیا تھا سب ان کے فرمانبردار تھے. اور ہم نے ان کے ملک کو مضبوط بنادیا تھا اور انہیں حکمت اور صحیح فیصلہ کی قوت عطا کردی تھی.

Tafseer

									      حضرت داؤد کی اہم صفات 
 بعض مفسرین نے مذکورہ بالاچند آیات سے حضرت داؤد کو حاصل دس عظیم نعمتیں اخذ کی ہیں کہ جواللہ کے اس نبی کو خدا تعالٰے کی طرف سے حاصل تھیں ۔ یہ نعمات آپؑ کے بلند مرتبے کی ترجمان ہیں۔ یہ دراصل ایک کامل انسان کی خصوصیات کو بھی واضح کرتی ہیں۔
 1- پیغمبراسلام کہ جواس قدر عظیم مقام رکھتے تھے اس کے باوجود آپؐ کو حکم دیا جارہا ہے صبر شکیبائی میں حضرت داؤدکی اقتداء کریں اوران کی تاریخ حیات سے کمک حاصل کریں (اصبر على ما يقولون واذکر)۔ 
 2- حضرت داؤد کے مقام عبودیت کی توصیف کی گئی ہے۔ دراصل یہ ان کی پہلی خصوصیت کے طور پر شمار کی گئی ہے (اعبدنا داؤد)۔ 
 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعہ معراج کے ذکر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھی یہ تعبیر آئی بے 
  سبحان الذی اسرى بعبده ------ 
  پاک ومنزہ ہے وہ ذات ہے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا۔ (بنی اسرائیل ــــــــــ 1) 
 3- (اطاعات الٰہی، گناہ سے پرہیز اور امورمملکت چلانے میں) وہ بہت قوی تھے (ذا الأیــد ) جیساکہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بھی ہے۔ 
 هوالذی ایدک بنصره و بالمؤمنين 
 وہ وہی میں نے اپنی مدد اور مومنین کے ذریعے تیری تقویت کی۔ (انشال ــــــ 62) م. 
 4- انھیں "اواب" کہہ کر ان کی توصیف میں کی گئی ہے ۔ جس کا معنی ہے بار بار لوٹنے والا اور پے درپے رجوع کرنے والا یعنی خداوند عالم کی ساحت قدس کی طرف رجوع کرنے والا (انه اواب)۔ 
 5- صبح و شام تسبیح کرنے میں پہاڑ بھی ان کے لیے مسخر ہیں ۔ اس بات کو بھی قرآن ان کا اعزاز افتخار شمار کرتا ہے۔ (انا سخرنا الجبال معد يسبحن بالعشی والاشراق). 
 6۔  پرندے بھی اللہ کی عبادت و تسبیح  میں ان کے ہم آواز ہیں اور یہ بھی ان کے لیے خداداد نعمتوں میں سے ہے۔ (والطير محشورة). 
  7- آغاز ہی میں ان کے ہم آواز نہ تھے بلکہ جب بھی وہ تسبیح خدا کی طرف پلٹتے وہ ان کے ساتھ ہم صدا ہو جاتے۔ (کل له اواب)۔ 
 8- اللہ نے انھیں ایک حکومت دی کہ جس کی بنیاد اس نے مستحکم کی ہوئی تھی اور اس مقصد کے لیے مادی و روحانی وسائل ان کے اختیار میں دے رکھا تھے (وشددنا ملكه)۔ 
 9- ایک اور اہم خداداد سرمایہ ان کے پاس بہت زیادہ علم و دانش کی صورت میں تھا۔ ایسا علم و دانش کہ جہاں بھی ہو خیر کثیر کا سرچشمہ ہوتا ہے اور نیکی و برکت کا منبع ہوتا ہے (و أتيناه الحكمة). 
 10- قوی منطق، اثر آفریں کلام اور قاطع و عادالانہ فیصلے کی طاقت بھی انھیں عطاکی گئی تھی ( وفصل الخطاب)۔ ؎1 واقعًا کسی حکومت کی بنیادیں علم ، طاقت، منطق ، تقوائے الٰہی ، ضبط نفس اور عبودیت پروردگار کے بغیر مضبوط نہیں ہوسکتیں۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    تفسیر کبیر فخررازی زیر بحث آیات کے ذیل میں ، ج 26، ص 183