Tafseer e Namoona

Topic

											

									  داؤدکی زندگی سے درس حاصل کریں

										
																									
								

Ayat No : 17-20

: ص

اصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ۱۷إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ ۱۸وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ ۱۹وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ۲۰

Translation

آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد علیھ السّلام کو یاد کریں جو صاحب طاقت بھی تھے اور بیحد رجوع کرنے والے بھی تھے. ہم نے ان کے لئے پہاڑوں کو لَسّخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ صبح و شام تسبیح پروردگار کریں. اور پرندوں کو ان کے گرد جمع کردیا تھا سب ان کے فرمانبردار تھے. اور ہم نے ان کے ملک کو مضبوط بنادیا تھا اور انہیں حکمت اور صحیح فیصلہ کی قوت عطا کردی تھی.

Tafseer

									   تفسیر
         داؤدکی زندگی سے درس حاصل کریں 
 حضرت داؤد علیہ اسلام بنی اسرائیل کے بزرگ انبیاء میں سے تھے انھیں اللہ نے ایک عظیم حکومت عطا کی تھی ۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں ان کے بلند مقام کی تعریف کی گئی ہے ۔ گزشتہ آیات میں مشرکین اور بت پرستوں کی زیادتیوں کا ذکر تھا۔ نیزان نارواتہمتوں کا بیان تھا جن کی نسبت وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد اب قرآن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے زمانے کے مومنین کی دل جوئی کے لیے حضرت داؤد کی داستان بیان کررہا ہے ۔ وہ داؤدؑ کہ جنھیں اللہ نے اس قدراقتدار بخشا یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے لیے مسخر کردیا تاکہ اس امر کی نشاندہی کرے کہ جب اس کا لطف وکرم کسی شخص کے شامل حال ہو تو کچھ دشمنوں کی کثرت کچھ نہیں کرسکتی۔ لیکن یہ عظیم نبی بھی اس ظاہری اقتدار کے باوجود لوگوں کی زبان کے چرکوں سے محفوظ نہ تھے لٰہذایہ صورت حال رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تسلی و تشفی کا باعث ہونا چاہیے جس کیفیت سے وہ دوچارہیں یہ انھی میں منحصر نہیں ہے،بلکہ اس دنیا کے عظیم لوگ اس امرمیں ان کے شریک رہے ہیں۔ 
 ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر اختیار کر اور ہمارے بندے داؤدؑ کو یادکر کرکہ جوبااقتدار بھی تھا اور بہت زیادہ توبہ کرنے 
والا بھی (اصبر علٰى مايقولون واذكرعبدنا داؤد ذاالأيدانہ اواب)۔ 
 "اید" قدرت کے معنی میں بھی آیا ہے اور نعمت کے معنی میں بھی اور حضرت داؤد دونوں معانی کے لحاظ سے "ذالايد" تھے۔ ان کی جسمانی طاقت کا یہ عالم تھا کہ جب بنی اسرائیل کا ایک ظالم حکمران جالوت میدان جنگ میں آپؑ کے مد مقابل آیا تو آپؑ نے آلہ سنگ اندازی سے اس قوت سے پتھر پھینک کر جالوت گھوڑے کی پشت سے زمین پرآرہا اور اپنے خون میں لوٹنے لگا۔ بعض نے لکھا ہے کہ پتھر نے اس کا سینہ چیر دیا اور دوسری طرف نکل گیا۔ 
 دوسری طرف آپؑ کے سیاسی اقتدار کا یہ حال تھا کہ ایک طاقتور حکومت آپؑ کے ہاتھ میں تھی اور آپؑ پوری طاقت دشمنوں سے مقابلے میں کھڑے ہوتے تھے۔ علما نے یہاں تک کہا ہے کہ آپؑ کے محراب عبادت کے چاروں طرف ہزار افراد شام سے صبح تک تیار کھڑے رہتے تھے۔ 
 نیز آپؑ کی روحانی، اخلاقی اور عبادی طاقت کایہ عالم تھا کہ رات کا ایک بڑا حصہ بیدار رہتے اور پروردگار کی عبادت میں مشغول رہتے اور سال بھر کے آدھے ایام روزے میں گزارتے۔ 
 نعمتوں کے لحاظ سے بھی الله تعالٰی نے آپؑ کو طرح طرح کی ظاہری اور باطنی نعمتیں عطاکر رکھی تھیں۔ 
 خلاصه یہ حضرت داؤدؑ ایک ایسی شخصیت تھے کہ جنگ میں، عبادت میں ، علم میں او حکومت میں بہت قوی تھے اورانھیں فراواں نعمتیں حاصل تھیں
  "اواب" "اوب" (بروزن "قول") کے مادہ سے کسی چیز کی طرف اختیاری طور پر لوٹنے کے معنی میں ہے "اواب" چونکہ مبالغے کا صیغہ ہے لہذا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ پروردگار کی طرف بہت زیادہ لوٹنے والے اور بازگشت کرنے والے تھے۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی غفلت اور ترک اولٰی پر توبہ کرتے تھے۔ 
 قرآن مجید اجمال کے بعد تفضیل کی اپنی خاص روش کے مطابق اب حضرت داؤد پرنعمات الٰہی کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے اس کے لیے پہاڑ مسخر کر دیئے ، اس طرح سے کہ صبح وشام وہ اس کے ساتھ تسبیح خدا کرتے تھے ( انا سخرنا الجبال معه يسبحن بالعشي والاشراق)۔ ۔ ؎1 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     "اید" "ید" کی جمع ہے کہ جو "ہاتھ" کے معنی میں ہے۔ ہاتھ چونکہ طاقت ، عطائے نعمت اور اقتدار و حکومت کا مظہر ہے اس لیے یہ لفظ تمام معانی میں استعمال ہوتا
  ؎2    "معہ" ہوسکتا ہے"يسبحن" کے متعلق ہو۔ اس لحاظ سے یہ لفظ حضرت داؤد کے ساتھ پہاڑوں کے ہم آواز ہونے کو بیان کرتا ہے۔ 
 سوره سبا کی آیہ میں بھی ہے۔ 
 ياجبال اوبي معه 
     یہ بھی ممکن ہے کہ یہ "سخرنا" سے متعلق ہو اس صورت میں جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کیا۔ لیکن "له" کے بجاۓ "معه" کا آنا یہ نکتہ بیان کرنے کے لیے ہے کہ یہ تسخیرتسبیح میں ہم آواز ہونے کے بارے میں تھی۔
 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
نہ صرف پہاڑ بلکہ سب پرندے بھی اس کے لیے مسخر کر دیئے تاکہ یہ اس کے ہمرہ اللہ کی تسبیح کریں ( والطير محشورة). 
سب پرندے اور پہاڑحکم داؤدؑ کے مطیع تھے ، اس کے ساتھ ہم آواز تھے اور اس کی طرف بازگشت کرنے والے تھے۔(كل لهاواب)۔ 
 "له" کی ضمیر ممکن ہے داؤد کی طرف لوٹتی ہو۔ اگر یوں ہو تو جملے کا مفہوم وہی ہوگا جو ہم نے بیان کردیا ہے۔ البتہ یہ احتمال بھی پیش کیاگیا ہے کہ یہ ضمیراللہ کی ذات پاک کی طرف لوٹتی ہو یعنی تمام ذرات عالم اس کی طرف لوٹتے ہیں اور اس کے حکم کے سامنے سرنگوں ہیں ۔ 
 مفسرین کی اس سلسلے میں مختلف آراء ہیں کہ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کے ساتھ کس طرح ہم آواز تھے اور اس کی کیفیت کیاتھی؟ان آراءکاخلاصہ ہے: 
 1- بعض کہتے ہیں حضرت داؤدعیلہ اسلام کی دلکش ، جاذب اور دل گداز آواز تھی کہ جو پہاڑوں پراثرانداز ہوتی تھی اور پرندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی (لیکن کوئی ایسی اہم فضیلت نہیں کہ قرآن کے اسے اس اہمیت کے ساتھ ذکر کرے) 
 2- بعض کہتے ہیں کہ یہ تسبیح ظاہری آواز کے ساتھ ساتھ ایک طرح کے ادراک وشعور کے ہمراہ تھی کہ جوذرات عالم کے باطن میں ہے۔ اس نظریے کے مطابق تمام موجودات عالم ایک قسم کی عقل اور شعور کے حامل ہیں اور جب یہ موجودات اس عظیم پیغمبر کی مناجات کےوقت دل انگیز آواز سنتے تھے تو ان کے ساتھ ہم آواز ہوجائے اور یوں سب باہم مل کر تسبیح کرتے۔ 
 3- بعض نے اس احتمال کا ذکر ہی کیا ہے کہ یہ تسبیح تکوینی ہے کہ جو تمام موجودات زبان حال سے کرتے ہیں اور ان کا نظام خلقت اس امرکی بخوبی حکایت کرتا ہے کہ اللہ ہر عیب سے پاک و منزہ ہے اورعلم و قدرت اور قسم کی صفات کمال کا حامل ہے۔ 
 لیکن یہ بات حضرت داؤد کے ساتھ مخصوص نہیں کہ اسے ان کی خصوصیات میں سے شمار کیا جائے۔ اس لحاظ سے مناسب تر دوسری تفسیر ہے اور یہ امر قدرت الہی سے بعید نہیں ہے ۔ یہ ایک زمزمہ تھا کہ جوان موجودات عالم کے اندر اور ان کے باطن میں ہمیشہ سے جاری تھا لیکن خدا نے قوت اعجاز سے اسے حضرت داؤدؑ کے لیے ظاہر کیا جیسے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتھیلی پر سنگریزوں کاتسبیح کرنا مشہور ہے۔ 
 اگلی آیت میں بھی حضرت داؤد پر اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا ذکر جاری ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے اس کے نظام حکومت کواستحقام بخشا (وشددنا ملكه). اس طرح سے کہ وہ باغی و سرکش دشمن کا حساب چکاتے ۔ اس کے علاوہ "ہم نے اسے علم و حکمت عطا کی" (وآتيناه الحكمة)- 
 وہی حکمت کہ جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے: 
  ومن يؤت الحكمة فقد اوتی خیرًا کثیرًا 
  جس شخص کو حکمت مل گئی اُسے خیرکثرمل گئی ۔ (البقرہ 269) 
 اس مقام پر "حکمت"  "علم و دانش" امورحکومت چلانے کی صلاحیت کا مقام نبوت کے معنی میں ہے یا پھر ان تمام مفاہیم کی جامع ہے۔ "حکمت" کبھی عملی پہلو کی حامل ہوتی ہے کہ اس صورت میں اسے "اخلاق اورعمل صالح" سے تعبیرکرتے ہیں اور حضرت داؤد علیہ اسلام ان سب سے خوب بہرہ مندتھے۔ 
 حضرت داؤد عیلہ اسلام پر اللہ تعالٰی کی آخری عظیم نعمت کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے علم قضاوت اور صحیح وعادلانہ فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا (وفصل الخطاب ). 
 قضاوت و عدالت کو "فصل الخطاب" سے اس بنا پر تعبیر کیا گیا ہے کہ "خطاب" سے مراد طرفین مقدمہ کی گفتگو ہے اور "فصل" قطع کرنے اور جدائی کے معنی میں ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ فریقین کی گفتگو تبھی منقطع ہوئی جب ان کے درمیان صحیح فیصلہ ہوجائے لہذا تعبیر عادلانہ فیصلے کے معنی میں آئی ہے۔ 
 احتمالاً اس سے یہ مراد بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے حضرت داؤد کو قوی منطق عطا فرمائی ہو کہ جو بلند فکر اور گہری فکر کی ترجمان تھی ۔نہ صرف یہ کہ فیصلہ کرتے ہوئے بلکہ ہر مقام پر آپؑ کی بات آخری اورحتمی ہوتی تھی۔ 
 واقعًاجب اللہ تعالی پر قدرت رکھتا ہے کہ ایک اہل انسان کو اس قدر قوت و توانائی عطافرمادے تو پھر اس بات کی گنجائش نہیں کہ کوئی شخص اس کے لطف وکرم سے مایوس ہوجائے۔ لہذا یہ بات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے  زمانے کے ان مومنین ہی کے لیے تسلی اور دل جوئی کا باعث نہیں کہ جو مکہ میں سخت دباؤ میں تھے بلکہ ان تمام مومنین کے لیے تسلی خاطرکا پیغام ہے کہ جو مختلف زمانوں میں سختیوں اور مشکلات کا شکار ہوں۔