Tafseer e Namoona

Topic

											

									  صرف ایک آسمانی صیحہ کافی ہے

										
																									
								

Ayat No : 12-16

: ص

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ ۱۲وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ ۚ أُولَٰئِكَ الْأَحْزَابُ ۱۳إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ۱۴وَمَا يَنْظُرُ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ ۱۵وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ ۱۶

Translation

اس سے پہلے قوم نوح علیھ السّلام قوم عاد علیھ السّلام اور میخوں والا فرعون سب گزر چکے ہیں. اور ثمود, قوم لوط علیھ السّلام, جنگل والے لوگ یہ سب گروہ گزر چکے ہیں. ان میں سے ہر ایک نے رسول کی تکذیب کی تو ان پر ہمارا عذاب ثابت ہوگیا. یہ صرف اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ایک ایسی چنگھاڑ بلند ہوجائے جس سے ادنیٰ مہلت بھی نہ مل سکے. اور یہ کہتے ہیں کہ پروردگار ہمارا قسمت کا لکھا ہوا روزِ حساب سے پہلے ہی ہمیں دیدے.

Tafseer

									  تفسیر
         صرف ایک آسمانی صیحہ کافی ہے
 گزشتہ آیات میں سے آخری میں مشرکین کی شکست کی خبر دی گئی تھی۔ اس میں انھیں احزاب میں سے چھوٹا مغلوب لشکر قرار دیا گیا ہے ۔ اب زیر بحث آیات میں چند ایسے گروہوں کا ذکر ہے جو انبیاءؑ کی تکذیب کرتے تھے اور ان میں ان کے برے انجام کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے، ان سے پہلے قوم نوح وعاد اور صاحب اقتدار فرعون نے اللہ کی آیات اوراس کے رسولوں کو جھٹلایا (كذبت قبلهم قوم نوح وعاد وفرعون ذوالاوتاد ).  
 اسی طرح قوم ثمود ، قوم لوط اورصاحب ایکہ( قوم شعیب) بھی ایسے گروہ تھے جو اللہ کے رسولوں کی تکذیب کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے (وثمود وقوم لوط واصحاب الأيكة او لئك الأحزاب)۔ ؎1 
 جی ماں ! یہ چھ گروہ زمانہ جاہلیت کی جماعتوں اور بت پرستوں کے سے تھے۔ انھوں نے اپنے عظیم انبیاء کے خلاف قیام کیا۔
   قوم نوح نے حضرت نوحؑ جیسے عیظم پیغمبر کے خلاف قیام کیا۔ 
  قوم عاد نے حضرت ہودؑ کے خلاف قیام کیا۔ 
  فرعون نے حضرت موسٰیؑ اور حضرت ہارونؑ کے مقابلے میں قیام کیا۔ 
  قوم ثمودنے حضرت صالحؑ کے خلاف قیام کیا۔ 
  قوم لوط نے حضرت لوطؑ کے مقابلے میں قیام کیا۔ 
  اور اصحاب الایکہ نے حضرت شعیب کے خلاف قیام کیا۔
 ان قوموں نے جو کچھ ان کے بس میں تھا انبیاء اور اہل ایمان کے خلاف کیا، ان کی تکذیب کی اورانھیں اذیتیں دی لیکن انجام کار عذاب الہی انھیں دامن گیر ہوا اور خشک فصلوں کی طرح انہیں کاٹ کر رکھ دیا۔ 
  قوم نوح طوفان اور تباکن بارشوں سے نابودہوئی۔ 
  قوم عاد زبردست اور ہولناک آندھی سے تباہ ہوئی۔ 
  فرعون اور اس کے ساتھی نیل کی موجوں میں غرق ہوئے۔
   قوم ثمود آسمانی بجلی کا شکار ہوئی۔ 
  قوم لوط پروحشت ناک زلزلہ آیا اور آسمانوں سے پھتروں کی بارش نازل ہوئی ۔ 
  قوم شعیب بھی موت آفریں بجلی کا شکار ہوئی کہ جو بادل سے ان کے سروں پر آپڑی۔
  گویاوہ لوگ پانی، ہوا، مٹی اور آگ سی چیزوں سے تباہ ہونے کہ جن پرانسانی زندگی کا انحصار ہے ۔ ان سرکش باغیوں کا دفتر حیات یوں لپیٹ دیا گیا کہ ان کا نام ونشان تک باقی نہ رہا۔ لہذا ان مشرکین مکہ کوبھی سوچ بچار کر لینا چاہیے کیونکہ ان قوموں کے مقابلے میں تو یہ ایک چھوٹے سے گروہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے لہذا خواب غفلت سے بیدارکیوں نہیں ہوتے؟ 
 فرعون کے لیے "ذوالاوتاد" مضبوط کلے والا) کا لفظ آیا ہے۔ یہ ان آیات میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مضبوط اقتدار کے لیے ایک طرح کی صراحت ہے۔ اسی طرح سورہ فجر کی آیہ 10 میں بھی اس امر کا ذکر کنا یتًا موجودہے ۔ زیرنظر تعبیر روزمرہ میں بھی استحکام اور مضبوطی کے معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے، فلاں شخص کے کلے مضبوط ہیں کیونکہ خیموں وغیرہ کی مضبوطی کے لیے مختلف طرح کے کلوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   "اوليك الأحزاب" مبتداءاورخبرہے"اولئك" ان چھ قوموں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکران دو آیتوں میں مذکور ہے۔ "احزاب" انھی دوقبل کی آیتوں میں مذکوراحزاب کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے مشرکین مکہ کو چھوٹا گروہ شمارکیاگیاہے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 بعض نے اسے فرعون کی عظیم افواج کی طرف اشارہ سمجھا ہے کیونکہ فوج عام طور پرخیموں سے کام لیتی ہے اورخیموں کی مضبوطی کے لیے کلوں اور میخوں وغیرہ سے استفادہ کرتی ہے۔ 
 بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ فرعونی لوگ اپنے مخالفوں کے خلاف بہت وحشتناک ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں انھیں چارمیخوں سے قتل کرتے تھے۔ تخت دار یا دیوار پران کے ساتھ پاؤں میں میخیں ٹھونک دیتے تھے اوراسی عالم میں انہیں چھوڑ دیتے تھے یہاں تک کہ ان کی جان نکل جائے۔ 
 بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "اوتاد" سے مراد "اہرام" مصر ہی ہیں کہ جومیخ کی طرح زمین میں گڑے ہوئے ہیں اورچونکہ اہرام  فرعونوں کی خصوصیات میں سے ہیں اس لیے یہ صفت قرآن میں صرف انھی کے لیے آئی ہے۔ 
 البتہ یہ تمام احتمالات ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس لفظ کے مفہوم میں سب معنی جمع ہوں۔ 
 اصحاب الایکہ میں "ایکہ" کا معنی ہے درخت اور "اصحاب الایکا" سے مرادحضرت شعیب کی قوم ہے۔ ان کا علاقہ حجاز وشام کے درمیان تھا اور اسی میں پانی اور درختوں کی فراوانی تھی ۔ اس ضمن میں ہم سورہ حجر کی آیت 8 کی تفسیرمیں حسب ضرورت تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں (اس سلسلے میں قارئین جلد 11 کی طرف رجوع کریں)۔ 
 جی ہاں! ان میں سے ہر گروہ نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ کا عذاب ان کے لیے رُوبہ عمل آگیا۔ (ان كل الأكذب الرسل فحق عقاب)۔ ؎1 
 تاریخ نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح ان میں سے ہرگروہ گرفتار بلا ہوا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے شہرویرانوں اورکھنڈروں میں تبدیل ہوگئے اور ان شہر کے باسی بے روح جسم ہو گئے۔ 
 مشرکین کے مکہ انجام دیتے ہیں ان کے ہوتے ہوئے کیا ان کا ان لوگوں سے بہتر انجام ہوسکتا ہے جبکہ ان کے اعمال بھی ویسے ہی ہیں اوراللہ کی سنت بھی وہی ہے۔ 
 اس کے بعد والی آیت میں قرآن کی قاطع اور تہدید آمیز انداز میں کہتا ہے : یہ لوگ ان اعمال کے ہوتے ہوئے اس کے سوا کوئی توقع نہیں رکھ سکتے کہ ایک آسمانی صیحہ میں آپہنچے، ایسا ہے کہ لوٹنے کی گنجائش نہ رہے (وماينظر هؤلاء الا صيحة واحدة مالها من فواق). 
 ممکن ہے یہ وسی ہی ہو جیسی گزشتہ اقوام نازل ہوتی رہی یعنی وشت ناک جماعت یا زبردست آواز کے ساتھ زمین پرآنیوالازلزلہ ہو کہ جسں کے ذریعے ان کی زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ۔ 
 نیز ممکن ہے یہ اس دنیا کے اختتام پر عظیم صیحہ ہوگی اس کی طرف اشارہ ہو کہ جس کے لیے پہلا صور پھونکے جانے کی تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
  ؎1    "فحق عقاب" "دراصل معمول کے مطابق "فحق عقابی" تھا۔ یاد حذف ہوگئی اوراس پر دلالت کرنے والی زیر باقی رہ گئی۔ "حق" فعل ہے اور "عقاب" اس کا فائل ہے ۔ یعنی میرا عقاب ان کے بارے میں ثابت ہوگیا ہے"۔ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 بعض مسفرین نے پہلی تفسیرپرتنقید کی ہے اور اسے سوره انفال کی آیت 33 کے مخالف قرار دیا ہے کہ جس میں فرمایا گیا ہے۔  
 وما كان الله ليعذبھمو انت فيهم 
 جب تک کہ تو ان کے درمیان ہے اللہ ان پر عذاب نہیں کرے گا۔
 لیکن اس امر کی طرف توجہ کی جائے تو یہ تفسیر درست معلوم ہوتی ہے مشرکین پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارےمیں یہ اعتقاد نہ تھا اور ان کے اعمال بھی انھی قوموں کے سے تھے کہ جو صیحہ آسمانی کا شکار ہوئے لہذا ہوسکتا ہے کہ وہ ہر لمحہ اسی قسم  کے انجام 
کے انتظار میں رہیں کیونکہ آیت میں انتظار کے بارے میں گفتگوبے (غور کیجیے گا) 
 بعض نے دوسری تفسیر پر بھی اعتراض کیا ہے کہ مشرکین عرب اس جہان کے اختتام کے وقت زندہ نہیں ہوں گے کہ وہ عظیم صیحہ ان کے دامن گیر ہو۔ 
 لیکن یہ اعتراض بھی درست نہیں، اسی دلیل کے مطابق کہ جو بیان ہوئی ہے کیونہ کوئی بھی نہیں جانتاکہ دنیا کب ختم ہوجائے گی اور قیامت کب آئے گی ؟ لہذا ہوسکتا ہے کہ مشرکین مہر لحظہ اس عظیم صیحہ کے انتظار میں ہوں کہ جس کے لوٹ جانے کا امکان نہیں۔ ؎1 
 بہرحال یہ جاہل لوگ آیات الٰہی کی تکذیب و انکار کے باعث ، رسول اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر نارواتہمتیں لگانے کی وجہ سے اور بت پرستی پراپنی ہٹ دھری اور اصرار کے سبب اور ظلم و فساد کی وجہ سے گویا عذاب الہی کے انتظار میں ہیں۔ ایسا عذاب کہ جو ان کے خرمن حیات کو جلا کر رکھ دے گا یا ایسے صیحہ کے انتظار میں ہیں کہ جو اس دنیاہی کو ختم کر د ے گی اور انہیں ایسے راستے پر لے جائے گی کہ جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ 
 "فواق" (بروزن"رواق") بہت سے اہل لغت اوراہل تفسیر کے نزدیک پستان سے دو مرتبہ دودھ  دوہنے کے درمیانی فاصلے کو کہتے ہیں کیونکہ ایک مرتبہ اگر دودھ دوہ لیا جائے تو پھر دودھ دوہنے کے لیے کچھ صبر کرنا ہوگا تاکہ پھرسے دورھ پستان میں جمع ہوجائے۔ 
 بعض اسے دودھ دوہتے وقت انگلیاں کھولتے اور بند کرتے ہوئے ان میں جو فاصلہ پیدا ہوتا ہے اس کے معنی میں لیتے ہیں ۔ 
 نیز چونکہ یہ فاصلہ پستان میں دودھ  پھر سے آجانے کا باعث بنتا ہے، لہذا کو یہ بازگشت، واپسی اور رجوع کے معنی میں بھی 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    رہی یہ بات کو مفسرین نے اس احتمال کا اظہار کیا ہے کہ اس سے مراد صیحہ ثانی کہ جو مردوں کے زندہ ہونے اور عدالت الہی میں ان کے پیش ہونے کے لیے ہوگی، معلوم ہوتی ہے ،تو یہ بہت بعید معلوم ہوتی ہے، کیونکہ یہ بات نہ تو بعد والی آیت سے ہم آہنگ ہے اورنہ قبل کی آیات سے (غور کیجیے گا)۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
استعمال ہوتا ہے۔ اسی بنا پر بیمار کی صحت اور ٹھیک ہو جانے کو "افاقہ" کہتے ہیں ۔ کیونکہ سلامتی اور تندرستی اس کی طرف لوٹ آتی ہے- نیز بے ہوش کے ہوش میں آجانے اور دیوانے کے عاقل ہوجانے کو بھی "اناقہ" کہتے ہیں ۔ کیونکہ ہوش اورعقل ان کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ؎1 
 بہرحال اس وحشت نامی صیحہ میں کسی قسم کی بازگشت، راحت و آرام اور سکون نہیں ہے اور جب وہ روبہ عمل آئی تو پھرانسان کے لیے سب دروازے بند ہو جائیں گے۔ پھرنہ پیشمانی فائدہ دے گی، نہ تلافی کا کوئی امکان ہوگا اور نہ ہی داد وفریاد کی کہیں
رسائی ہوگی۔ 
 آخری زیربحث آیت میں کافروں اورمنکروں کی کچھ اور باتوں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جودہ تمسخر کے طور پر کرتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: انھوں نے کہا پروردگارا : روزحساب سے پہلے اپنے عذاب میں سے ہماراحصہ جتنی جلدی ہو سکے ہمیں دے دے (وقالوا ربنا عجل لنا قطنا قبل يوم الحساب)۔
 یہ دل کے اندھے مغرور اسی طرح بادۂ غرور میں بدمست تھے حتیٰ کہ عذاب الٰہی اوراس کی عدالت کا مذاق اڑاتے تھے اورکہتے تھے کہ عذاب کے ہمارے حصے میں کیوں تاخیر ہوگئی ہے؟ کیوں خدا ہمارے حصے میں جلدی نہیں کرتا؟ 
      ـــــــــــــــــــــــــــ
 گزشتہ قوموں میں بھی ایسے ہلکے ذہن والے اور خود غرض کم نہ تھے لیکن جب وہ عذاب الٰہی میں پھنستے تو جانوروں کی طرح چلاتے اور بلبلاتے مگر پھر کوئی ان کی فریاد کو پہنچتا۔
  "قط" (بروزن "جن") دراصل ایسی چیز کے معنی میں ہے جو عرض میں کاٹی جائے جبکہ قد (اسی وزن پر) اس چیز کے معنی میں ہے جوطول میں کاٹی جائے ۔ چونکہ ہرشخص کا معین حصہ گویا قطع شده اور کاٹی ہوئی چیز ہے لٰہذا یہ لفظ حصے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔  کبھی یہ لفظ اسی کاغذ کے معنی میں بھی آتا ہے جس پر کچھ لکھتے ہیں یا اس میں لوگوں کے نام اوران کے انعامات لکھتے ہیں۔ 
 اسی لیے زیر بحث آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے کہا ہے: کہ مراد یہ ہے : 
 "خدا وندا ! ہمارا نامہ اعمال روز جزاء سے پہلے ہمارے ہاتھ میں دے دے" 
 یہ بات انھوں نے اس وقت کی جب آیات قرآنی نے خبردی کہ قیامت کے دن ایک گروہ کا نامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ  میں ہو گا اور دوسرے گروہ کا اعمال نامہ ان کے بائیں باتھ میں ہو گا۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   بعض اہل لغت "فواق" اور " فواق" میں فرق کیا ہے۔ جب کہ بعض دونوں کا ایک ہی معنی سمجتے ہیں ۔ مزید تفصیل کے لیے مفردات راغب ، تفسيرروح المعاني تفسیر فخرالدین رازی، تفسیر ابوالفتوح، اور تفسیر قرطبی اور دیگر منابع لغت کی طرف رجوع کریں۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
انھوں نے گویا تمسخر کے طور پر کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اسی وقت ہمارا نامۂ اعمال ہمیں دے دیاجانا تاکہ ہم پڑھ کر دیکھتےکہ ہم کسی کھاتے میں ہیں؟ 
 بہرحال جہالت اور غرور دونوں ہی نہایت میں اور مذموم صفات ہیں کہ جو عام طور پر ایک دوسرے سے جدا انہیں ہوتیں ۔ جاہل مغرور بوتے ہیں اور مغرور جاہل ہوتے ہیں اور ان دونوں صفات کے آثار زمانہ جاہلیت کے مشرکین میں بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔