یہ چھوٹاساشکست خوردہ لشکر
أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْ ذِكْرِي ۖ بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ ۸أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ ۹أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ ۱۰جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ ۱۱
کیا ہم سب کے درمیان تنہا ا ن ہی پر کتاب نازل ہوگئی ہے حقیقت یہ ہے کہ انہیں ہماری کتاب میں شک ہے بلکہ اصل یہ ہے کہ ابھی انہوں نے عذاب کا مزہ ہی نہیں چکھا ہے. کیا ان کے پاس آپ کے صاحبِ عزت و عطا پروردگار کی رحمت کا کوئی خزانہ ہے. یا ان کے پاس زمین و آسمان اور اس کے مابین کا اختیار ہے تو یہ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں. تمام گروہوں میں سے ایک گروہ یہاں بھی شکست کھانے والا ہے.
تفسیر
یہ چھوٹاساشکست خوردہ لشکر
گزشتہ آیات میں راہ توحید اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی مخالفت میں مخالفین کی منفی تنقید اور چینی کے بارے میں گفتگوتھی۔ زیر بحث آیات میں بھی اسی گفتگو کو جاری رکھا گیا ہے۔
مشرکین مکہ نے جب اپنے ناجائز مفادات خطرے میں دیکھے اور کینہ و حسد کی آگ ان کے دل میں بھڑکنے لگی توپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی مخالفت کے سلسلے میں خود کو قانع کرنے اور لوگوں کو غافل رکھنے کے لیے طرح طرح کی کمزور دلیلوں کا سہارا لینے گئے منجملہ ان کے تعجب اور انکار کے طور پر کہتے ، کیا تم سب میں سے صرف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہواہے ؟ (ءانزل عليه الذكر من بيننا)۔
کیا تمام بڑے بوڑھوں اور سن رسیدہ لوگوں اور ان تمام مالدار، ثروت مند سرداروں میں سے کوئی نہ مل سکا کہ خدا اپنا قرآن اس پر نازل کرتا، سواۓ تہی دست محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ؟!
یہ منطق اس زمانے کے سات ہی منحصرنہ تھی بلکہ ہر زمانے میں جب کوئی اہم ذمہ داری کسی کو سپرد کی جاتی ہے ، توحسد کی آگ بھڑک اٹھی ہے ،آنکھیں خیرہ اور کان تیز ہوجاتے ہیں ۔ بڑ بڑاہٹ اورعذرتراشیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ کیا کوئی اور آدمی نہیں مل سکتاتھا کہ یہ کام فلاں شخص کو جو گمنام اور فقیر خاندان سے ہے سپرد کر دیا گیا ہے؟
ہاں! ایک طرف تو دنیا پرستی اور دوسری طرف سے حسد اس بات کا سبب ہوا کہ اہل کتاب (یہود و نصاری ) جو مشرکین کے ساتھ ایک قدر مشترک کے باعث اسلام اور قرآن سے دور ہو گئے اور بت پرستوں کے پاس چلے گئے اور یہ کہنے لگے کہ تمھاری راه ان کی راہ سے بہتر ہے۔
الم ترالي الذي أوتوا نصيبًا من الكتاب يؤمنون بالجبت والطاغوت و
يقولون للذین کفرواهؤلاء اهدي من الذين أمنوا سبيلاً
کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا کہ جنھیں کتاب خدا سے کچھ حصہ ملا تھا۔ جبت و طاغوت
(بت اور بت پرستوں) پر ایمان لاتے ہیں اور مشرکین سے کہتے ہیں کہ وہ محمدؐ پرایمان لانے والوں
زیاده ہدایت یا فتہ ہیں . (نسا ـــــــ 51)
یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ سب تعجب اور انکارمیں حسد اور حب دنیا کے علاوہ ایک اور سرچشمہ یعنی قدروقیمت کی پہچان کا غلط معیار بھی شامل تھاجو فیصلہ کیلیے ہر گز منطقی معیار نہیں بن سکتا۔ کیا انسان کی شخصیت نام ونمود، شہرت، مال و دولت ثروت مقام اور سن و سال میں ہے؟ کیاخدا کی رحمت ان معیاروں تقسیم ہوتی ہے؟
اسی لیے اس آیت کے آخری میں فرمایاگیا ہے کہ ان کا مسئلہ کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ: وہ حقیقت میں میری اصل وحی اور میرے ذکر میں شک رکھتے ہیں۔(بل هم في شك من ذکری)۔
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر اعتراض کرنا تو بہانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور ان کا یہ شک کسی مسئلے میں اسی بنا پر نہیں ہے قرآن مجید
میں کوئی ابہام ہے بلکہ اس کا سر چشمه ہواوہوس ، حب دنیا اور حسد و کینہ ہے۔
اور آخر میں انھیں اس جملہ کے ساتھ تہدید کی گئی ہے : انھوں نے ابھی تک عذاب الہی کو نہیں چکھا جو اس طرح سے دلیری کے ساتھ خدا کے بھیجے ہوئے کے سامنے اکڑے ہوئے ہیں اور ان فضول باتوں کے ساتھ وحی الٰہی کے مقابلے میں جنگ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ( بل لما يذوقواعذاب)۔
ہاں! ہیمشہ ایسا گروہ موجود رہا ہے کہ جن کے کان منطلقی اور درست بات سنے کے لیے تیارنہیں ہوتے اور انھیں عذاب کے تازیانوں کے سوا کوئی چیز غرور کے گھوڑے سے نیچے نہیں اتارتی، ان پر عذاب ہونا چاہے چونکہ ان کا علاج عذاب الہی ہی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعدان کے جواب میں مزید فرمایا گیا ہے: واقعًا ! کیا تیرے قادر اور بخشنے والے پروردگار کی رحمت کے خزانے انھی کے پاس ہیں کہ جس کسی کو وہ چاہیں نبوت کا پروانہ دے دیں اور جس کو چاہیں محروم کر دیں (ام عندهم خزائن رحمة ربك العزيز الوهاب)۔
خدا اس بنا پر کہ وہ "رب" ہے (اور عالم ہستی اور جہان انسانیت کا مالک و مربی اور پروردگار ہے) اپنی رسالت کے لیے ایسے شخص کو منتخب کرتا ہے جو لوگوں کو ارتقاء و تکامل کی راہ اور پرورش و تربیت میں رہبری کرسکے اور اس کے "عزیز" ہونے کا تقاضایہ ہے کہ وہ کسی کی خواہش کا مغلوب نہیں ہے کہ وہ مقام رسالت کو کسی نالائق آدمی کے سپرد کر دے اور اصولی طور پر مقام نبوت اتنا عظیم مقام ہے کرصرف خداہی اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وہ اس کو دے اور اس کے" وهاب " ہونے تقاضا یہ ہے کہ وہ جوکچھ چاہے اور جس کو چا ہے بخش د ے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ "وهاب" مبالغے کا صیغہ ہے اور بہت بخشنے والے کے معنی میں ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبوت ایک اکیلی نعمت نہیں ہے بلکہ متعدد نمتوں کا مجموعہ ہے جو ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے اکٹھی ہوئی ہیں،پھر کہیں وہ اس منصب کا عہده دار ہو سکتا ہے، یہ نعمتیں علم ، تقوی، عصمت، شجاعت اور شہامت ہیں۔
اس گفتگو کی نظیر سوره زخرف کی آیہ 32 میں بھی ہے:۔
اهم يقسمون رحمة ربك
وہ تجھ پر قرآن نازل ہونے کی وجہ سے اعتراض کر رہے ہیں تو کیا میرے پروردگار کی رحمت ان کے ہاتھوں سے تقسیم ہوتی ہے؟
ضنمنا رحمت کی تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ نبوت جہان انسانیت پر خدا کی رحمت اور لطف ہے اور واقعًا ایسا ہی ہے کیونکہ اگرانبیاء نہ ہوتے تو انسان آخرت اور روحانیت کی راہ میں کم کر بیٹھتے اور دنیاکی راہ بھی، جیسا کہ مکتب انبیاءسے دورلوگ دونوں راستے گم کیے ہوتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــ
پھر بعد والی آیت میں اسی مطلب کو ایک دوسرے طریقے سے بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کی مالکیت و حاکمیت ان کے لیے ہے ؟ اگرایساہے تو آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وحی الٰہی کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک قلب پر نازل ہونے سے روک دیں ( ام لهم ملك السماوات والأرض وما بينهما فليرتقوا في الاسباب). ــــــــــــــــــــــــــ
یہ گفتگو حقیقت میں گزشتہ بحث کی تکمیل کرتی ہے۔ وہاں پر کہا گیا ہے کہ "پروردگار کی رحمت کے خزانے تمھارے ہاتھ میں نہیں ہیں کہ تمھاری ہوس آلود خواہشات جس شخص کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اسے بخش دو"۔ اب فرمایا گیا ہے کہ اب جب کہ یہ خزانے تمھارے ہاتھ میں نہیں ہیں اور صرف خداکے ہاتھ ہیں تو صرف ایک ہی راہ ہے جو تمھارے لیےکھلی ہے اور وہ یہ ہے کہ تم آسمانوں پر چڑھ جاؤ اور وحی کو نازل ہونے سے روک دو ۔ اورتم خود جانتے ہو کہ تم اس کام سے بھی بالکل عاجز ہو۔
اس بنا پرنھ تو"جس بات کا اقتضاء ہو" وہ تمھارے اختیارمیں ہے اورنہ ہی تم کسی کام کو روکنے کی قدرت رکھتے ہو۔ ان حالات میں تم سے کیا ہوسکتا ہے؟ حسد سے مر جاؤ اور جو کام تم کر سکتے ہو کر لو۔
اس ترتیب سے یہ دونوں آیتیں ایک ہی مطلب کاتکرار نہیں کرتیں ۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے ۔ بلکہ ان میں سے ہرایک مسئلے کی ایک جہت کو بیان کر رہی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــ
آخری زیربحث آیت میں ان کم عقل مغروروں سے تحقیر کے طور پر ارشاد ہوتا ہے : یہ شکست خوردہ احزاب کا ایک چھوٹا سالشکر ہیں (جندما هنالك مهزوم من الأحزاب)۔ ؎1
" هنالك" کا معنی ہے "اس جگہ" اور یہ بعید کے لیے اسِم اشارہ ہے۔ اس بنا پرکچھ لوگ اسے جنگ بدر مشرکین کی شکت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جومکہ سے کافی دور واقع ہوئی تھی ۔
"احزاب" کی تدبیرظاہرًا ان تمام گروہوں کی طرف اشارہ ہے جو پیغمبروں کی مخالفت کیا کرتے تھے اور خدا نے انھیں تباہ وبرباد کردیا مشرکین کی یہ چھوٹی سی جمعیت ان ہی گروہوں میں سے ایک چھوٹا سا گروہ ہے جو انھیں کے سے انجام میں گرفتار ہوگا (اس بات کی گواه آینده والی آیات ہیں جواس مسئلے کی تصریح کرتی ہیں ۔
ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ سورہ مکی سورتوں میں سے ہے اور قرآن گفتگو اس وقت کررہا ہے جب مسلمان شدید اقلیت میں تھے:-
تخافون ان يتخطفكم الناس
اس طرح سے کہ ممکن تھامشرکین انھیں ایک لقمہ کی طرح اچک لیں (انفال ـــــ 26)
اس وقت مسلمانوں کی کامیابی کی کوئی نشانی نظر نہیں آتی تھی ، اس وقت بدر ، احزاب اورحنین کی کامیابیاں سامنے نہیں آئی تھیں" لیکن قرآن قاطعیت اور دوٹوک فیصلے کے طور پر کہہ رہا ہے کہ" یہ سخت دشمن ایک چھوٹا سا ایسالشکرہیں جو شکست سے دوچار ہوکر رہے گا۔
آج بھی قرآن دنیا کے مسلمانوں کو جو ہر طرف سے متجاوز اور ظالم طاقتوں کے محاصرے میں ہیں ، یہی بشارت دے رہا ہے کہ اگر وہ بھی پہلے مسلمانوں کی طرح خدا کے عمد وپیماں پر ڈٹ جائیں تو خدا بھی جنود احزاب کی شکست کے بارے میں اپنے وعدے کو پورا کرے گا۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "ما" اوپر والے جملہ میں زائدہ ہے جو تقلیل کے لیے آیا ہے اور "جند" محذوف کی خبرہے اور "مھزوم" خبر کے بعد خبر ہے اور اصل میں "هم جند ما مهزوم من الأحزاب تھا۔ بعض کا نظریہ ہے کہ اس جملے میں کوئی چیز محذوف نہیں ہے اور "جند" مبتداء اور "مھروم" خبر ہے ۔ لیکن پہلا نظریہ زیادہ مناسب ہے۔