Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره ص / آیه 8 - 11

										
																									
								

Ayat No : 8-11

: ص

أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْ ذِكْرِي ۖ بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ ۸أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ ۹أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ ۱۰جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ ۱۱

Translation

کیا ہم سب کے درمیان تنہا ا ن ہی پر کتاب نازل ہوگئی ہے حقیقت یہ ہے کہ انہیں ہماری کتاب میں شک ہے بلکہ اصل یہ ہے کہ ابھی انہوں نے عذاب کا مزہ ہی نہیں چکھا ہے. کیا ان کے پاس آپ کے صاحبِ عزت و عطا پروردگار کی رحمت کا کوئی خزانہ ہے. یا ان کے پاس زمین و آسمان اور اس کے مابین کا اختیار ہے تو یہ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں. تمام گروہوں میں سے ایک گروہ یہاں بھی شکست کھانے والا ہے.

Tafseer

									 (8) اَؤُنْزِلَ عَلَيْهِ الـذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُـمْ فِىْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِىْ ۖ بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ
 (9) اَمْ عِنْدَهُـمْ خَزَآئِنُ رَحْـمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيْزِ الْوَهَّابِ
 (10) اَمْ لَـهُـمْ مُّلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَا ۖ فَلْيَـرْتَقُوْا فِى الْاَسْبَابِ
 (11) جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ

  ترجمہ

 (8) کیا ہم سب میں سے صرف اس  (محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل ہوا ہے ؟ وہ درحقیقت میری اصل وحی کے بارے میں ہی شک کررہےہیں،بلکہ
  انھوں نے ابھی تک عذاب الٰہی نہیں چکھا (تبھی اس طرح کی گستاخانہ باتیں کر رہے ہیں)۔
 (9)  کیا تیرے قادر اور عطا کرنے والے پروردگار کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں (کہ جسے ان کا دل چاہے اسے دی)؟ 
 (10) یایہ بات ہے کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ، کی مالکیت ان ہی کے لیے ہے (اگر ایسا ہے) تو آسمان پر چڑھ جائیں 
 (اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک دل پردحی کے نزول کو روک دیں) ۔
 (11) ہاں! یہ شکست خوردہ احزاب کا ایک چھوٹاسالشکر ہیں۔