بہت سے خداؤں کے بجائے ایک خدا
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ ۴أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ۵وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ ۶مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ۷
اور انہیں تعجب ہے کہ ان ہی میں سے کوئی ڈرانے والا کیسے آگیا اور کافروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے. کیا اس نے سارے خداؤں کو جوڑ کر ایک خدا بنادیا ہے یہ تو انتہائی تعجب خیز بات ہے. اور ان میں سے ایک گروہ یہ کہہ کر چل دیا چلو اپنے خداؤں پر قائم رہو کہ اس میں ان کی کوئی غرض پائی جاتی ہے. ہم نے تو اگلے دور کی امتوّں میں یہ باتیں نہیں سنی ہیں اور یہ کوئی خود ساختہ بات معلوم ہوتی ہے.
تفسیر
بہت سے خداؤں کے بجائے ایک خدا
مغرورو سرکش لوگ نہ تو کوئی اثر قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے مؤقف سے ہٹتے ہیں ۔ ہر چیز کو انھوں نے پن محدود اور ناقص افکار کے ذریعے اپنا لیا ہے، اس کے سوا کسی چیز کو صحیح نہیں سمجھتے، اور تمام قدروں کے ناپ تول کامعیاراسی کو قرار دیتے ہیں ۔
لہذاجب پیمغبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں توحید کا پرچم بلند کیا اور چھوٹے بڑے سارے بتوں کے خلاف کی جن کی تعداد 360 تھی، قیام کیا تو کبھی تو "وہ اس بات پر تعجب کرتے کہ انھین کے درمیان سے ایک انزارکرنے والا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیوں مبعوث کیا گیا ؟ "( وعجبوا أن جاءهم منذر منهم)۔
ان کا تعجب اس بات پر تھاکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انھی میں سے ایک فرد ہیں۔
کوئی فرشتہ آسمان سے کیوں نازل نہیں ہوا؟ وہ اس عظیم نقطہ قوت کو، نقطۂ ضعف خیال کرتے تھے۔ جو شخص عوام الناس و میں سے مبعوث کیا گیا ہے وہ ان کی حاجات، ضروریات اور دکھ درد سے واقف تھا اور ان کی مشکلات اور مسائل سے آشنا تھا۔ وہ تمام باتوں میں نمونہ اور مثال بن سکتا تھا۔ وہ اس عظیم امتیاز کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت میں ایک تاریک نقطہ خیال کرتے تھے اوراس محبت کرتے تھے۔
کبھی اس مرحلے سے بھی آگے بڑھ جاتے ، یہاں تک کہ کافروں نے کہا: یہ تو ایک جھوٹا جادوگر ہے (وقال الكافرون هذا ساحر کذاب).
ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جادو کی نسبت دینا اس وجہ سے تھا کیونکہ وہ آپ کے ناقابل انکار معجزات اور افکار میں غیرمعمولی نفوذ کا مشاہدہ کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ کی نسبت اس بنا پر دیتے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ماحول مسلمہ شمار ہونے والی بے ہودہ رسوم اورپست افکار کے خلاف قیام کیاتھا اوراس کے خلاف بات کرتے تھے۔ سے رسالت کا دعوی رکھتے تھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی توحید کی دعوت کو آشکار کیا تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہتے تھے : آؤ ! ان سنی باتیں سنو : " کیا اس نے ان سب خداؤں کے بجائے ایک ہی خدا قرار دے لیاہے؟ واقعًا یہ تو ایک عجیب بات ہے (اجعل الألهة الا واحدا ان هذالشئ عجاب)۔ ؎1
ہاں! بعض اوقات غرور ، خودخواہی، مطلق العنانی اور ماحول کی خرابی انسان کی عقل اور قوت فیصلہ کو اتنابدل دیتی ہے کہ وہ واضح روش حقیقتوں پرتعجب کرنے لگتا ہے، جبکہ وہ خرافات اور بے ہودہ خیالات کی سختی کے ساتھ پابندی کرتا ہے۔
لفظ "عجاب" "طوال" (بروزن "تراب") کی طرح مبالغہ کا معنی دیتا ہے اور بہت زیادہ عجیب باتوں کے لیے بولا جاتا ہے۔
یہ کم عقل خیال کرتے تھے کہ ان کے معبودوں کی تعدد جتنی زیادہ ہوگی ، ان کے نفوزکی قدرت و اعتبار بھی زیادہ ہوگی۔ اسی کی بنا پر ایک اکیلا خدا ان کی نگاہ میں حقیر دکھائی دیتا تھا ۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کافلسفی نقطہ نظر سے متعدد چیزیں محدود ہوتی ہیں اورغیرمحدود وجود ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ اسی بنا پر خداشناسی کے سلسلے میں تمام تحقیقات راه توحید پرآکر تمام ہوتی ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
ان کے سردار جب حضرت ابوطالب کی طرف رجوع کرنے اور ان کی وساطت سے مایوس ہوگئے توان کے پاس سے آگئے اور کہا : جاؤ اور اپنے خداؤں کے ساتھ مضبوطی سے جم جاؤ، اور استقامت اور پائیداری سے کام لو کیونکر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد ہے کہ ہمارے اس معاشرے کو تباہی اور بربادی کی طرف کھینچ لے جائے اور بتوں کی طرف پشت کرنے کی وجہ سے خدا کی نعمتوں کو ہم سے منقطع کرا دے اور وہ خود ہم پرحکومت کرے (وانطلق الملامنهم ان امشوا واصبروا على الهتكم ان هذالشيء یراد) ۔
"انطلق" "انطلاق" کے مادہ سے ، تیزی سے باہر نکلنے اور اپنے کام کو چھوڑ دینے کے معنی میں ہے ۔ یہاں غصہ کی حالت میں ابوطالب کی مجلس کو چھوڑ کر چلے جانے کے معنی میں ہے۔
"ملا" ترین کے اشراف اور سرداروں کی طرف اشارہ ہے، جو ابو طالب کے پاس آئے تھے اوران کی مجلس سے باہرآنے کے بعد ایک دوسرے سے یا اپنے پیروکاروں سے کہتے تھے کہ اپنے بتوں سے دست بردار نہ ہونا اور اپنے معبودوں کے ساتھ مضبوطی سے چمٹے رہنا ۔
"لشئ يراد " کا مفہوم یہ ہے کہ"یہ مسئلہ ایک ایسی چیز ہے جوچاہی گئی ہے" اور چونکہ یہ جملہ سربستہ ہے لہذا مفسرین نے اس کی بہت سی تفسیریں بیان کی ہیں۔
منجملہ ان کے یہ ہیں :
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 یہاں "جعل" سے مراد تکوینی اور یہ قرار دینا نہیں ، بلکہ اعتقاد کے مطابق قرار دینا ہے ۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
بعض نے کہا ہے کہ یہ پیمغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ ہے اور اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ یہ دعوت ایک سازش ہے جس کا ہدف و مقصد ہم ہیں ۔ اس کاظاہرتواللہ کی طرف دعوت دینا ہے لیکن اس کا باطن ہم پر حکومت کرنا اور عربوں کی سیادت و ریاست ہے ۔ اور سب اسی مطلب کے حصول کے لیے بہانے ہیں۔ تم لوگ جاؤ اور اپنے دین پر مضبوطی سے ڈٹ جاؤ اور اس سازش کا کھوج لگانا ہم سرداران قوم پر چھوڑ دو۔
یہ وہ چیز ہے جسے سرداران باطل ہمیشہ راہ حق کے راہرو افراد کی آواز خاموش کرنے کے لیے پیش کیا کرتے تھے۔ اسے سازش کا نام دیتے تھے ، اسی سازش جس کا ان کے نزدیک سیاست دان افراد کو ہی بڑے غور کے ساتھ پتہ لگانا ہوتا ہے اور اس سے مبارزہ کے لئے پروگرام بنانا ہوتا ہے اور عام لوگوں کو بے اعتنائی کے ساتھ اس کے قریب سے گزر جانا چا ہیے اور جوکچھ ان کے پاس ہے اس سے سختی کے ساتھ چمٹے رہنا چاہیے۔
اس گفتگو کی نظیر حضرت نوح کی داستان میں بھی آئی ہے۔ جس میں اشراف اور بڑے لوگوں نے عوام النٓاس سے کہا تھا۔
ما هذا الالبشر مثلكم يريد أن يتفضل علیکم
یہ شخص صرف تمہاری مانند ہی ایک انسان ہے ۔ یہ تم بربرتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔
(مؤمنون ــــــــــ 24)۔
بعض دوسروں نے اس جملہ کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم بت پرست اپنے خداؤں کے بارے میں مضبوطی کے ساتھ ڈٹے رہوہ یہی وہ چیز ہے جو تم سے چاہی گئی ہے۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ محمد کا ہدف و مقصد ہم ہیں ۔ وہ چاہتا ہے کہ ہمارے معاشرے کو خرابی کی طرف کھینچ لے جائے ۔ اور ہم اپنے خداؤں کی طرف پشت کرلیں ۔ جس کے نتیجے میں ہم سے نعمتیں منتقلع ہوجائیں اور ہم پر عذاب نآزل ہو۔
بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کام سے دست بردار ہونے والا نہیں ہے۔ اس نے مصمم ارادہ کر لیا ہے اوراس کا ارادہ تخلف ٓناپذیر ہے لہذا اس سے مذاکرات کرنا فضول سی بات ہے، اس لیے جاؤ اور اپنے عقائد کی مضبوطی سے حفاظت کرو۔
نیز یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان کی مرادیہ تھی کہ یہ ایک مصیبت ہے ہمیں پیش آئی ہے لہذااسی حالت کے ساتھ گزارا کریں اور دکھ جھیلیں اور اپنے دین کی محکم طریقہ سے حفاظت کریں ۔
البتہ اس جملہ کے مفہوم کے کلی ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے ممکن ہے ان میں سے اکثر تفسیریں اس میں جمع ہوں، اگرچہ پہلا معنی مناسب تر نظرآتاہے۔
بہرحال بت پرستوں کے سردار یہ چاہتے تھے کہ اس گفتگو کے ذریعے اپنے پیروکاروں کے متزلزل ایمان اور جذبے کو تقویت پہنچائیں
اور زیادہ سے زیادہ ان کے اعتقادات کو بدلنے سے روکیں ، لیکن یہ کتنی فضول کوشش تھی؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد لوگوں کو نافل رکھے یا اپنے آپ کو قانع کرنے کے لیے انھوں نے کہا :" ہم نے تو ایسی چیز اپنے آباؤ اجداد و میں کبھی نہیں سنی۔ یہ تو نرا جھوٹ ہی جھوٹ ہے"۔ (ما سمعنا بھذا في الملة الأخرۃ ان هذا الا اختلاق)۔
اگر توحید اور بتوں کی نفی کا دعوی کوئی حقیقت رکھتا ہوتا ہمارے آباو اجداد کو اپنی عظمت کی وجہ سے اسے درک کرلینا چاہیے تھا ۔ اور ہمیں بھی ان سے سنے ہوئے ہونا چاہیے تھا لیکن یہ ایک جھوٹی بات ہے جس کا سابق میں کوئی نشان نہیں ملتا۔
”الملة الأخرة“ کی تعبیرممکن ہے ان کے آباو اجداد کی جمعیت کی طرف اشارہ ہوجوان کی نسبت آخری ملت تھے،جیسا کہ ہم سطور بالا میں بیان کرائے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اہل کتب خصوصًا انصارٰی کی طرف اشارہ ہو جو پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہورسے پہلے آخری دین وملت شمار ہوتے تھے یعنی انصاری کی کتابوں میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں کا کوئی نام و نشان نہیں کیونکہ وہ "تثیث" (تین خداؤں) کے قائل ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توحید توایک نئی ظاہر ہونے والی بات ہے۔
لیکن جیسا کہ قرآن کا لب و لہجہ دوسری مختلف آیات میں نشان دہی کرتا ہے، زمانہ جاہلیت کے عرب یہود و نصارٰی کی کتب و پراعتماد نہیں کرتے تھے ، بلکہ ان کا سب کچھ ان کے بڑوں اور آباؤ اجداد کا طریقہ اور دین تھا اور پہلی تفسیر کے لیے یہ ایک اچھا شاہد ہے۔
"اختلاق" "خلق" کے مادہ سے اصل میں کسی چیز کو سابقہ کے بغیر ابداء و اظہار کرتا ہے۔ بعدازاں یہ لفظ ” جھوٹ" کے معنی میں بھی بولا گیا ہے، کیونکہ جھوٹ بولنے والا بہت سے مواقع پر بے سابقہ مطالب بیان کرتا ہے ۔ اس بنا پر زیربحث آیت میں" اختلاق" سے مراد یہ ہے کہ توحید کا دعوٰی ایک نئی چیز اور بے سابقہ دعوٰی ہے جومحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش کیا ہے اور یہ ہمارے اور تم سے پہلے لوگوں کے درمیان ناشناختہ ہے اور خوداس کے بطلان کی دلیل ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئین نوسے ڈرنا : تاریخ میں گمراہ اقوام کے اپنے انحرافات پر اصرار کرنے اور خدا کے بپیغمبروں کی دعوت کے سامنے سرنہ جھکانے کے علل و اسباب میں سے ایک تازہ اور نئے ظاہر ہونے والے مسائل کا خوف ہی رہا ہے ۔وہ ہرنئی چیز سے وحشت رکھتے تھے اوراسی بناپر انبیاء کے دین کو بہت بری نظر سے دیکھتے تھے، اب بھی بہت سی قوموں میں ایسی جاہلانہ سوچ کے اثرات پائے جاتے ہیں حالانکہ نہ تو پیغمبروں کی توحید کی طرز کوئی نئی چیز تھی اور نہ اس کا نئی چیز ہونا اس کے باطل ہونے کی دلیل ہوتا، منطق اوردلیل کی پیروی کرنی چاہیے اور حق بات کو تسلیم کرنا چا ہیے دہ جہاں کہیں بھی ہو اور جس کی طرف سے بھی ہو ۔
تاسف و تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات نئی بات اور نئی تحقیق سے بعض علماء بھی وحشت کرنے لگتے ہیں اور نئےعلمی نظریات کے مقابلےمیں مخالفت کا علم بلند کر دیتے ہیں اور "ان هذا اد اختلاق" کہنے لگتے ہیں۔
خصوصًا ارباب کلیسا ( عیسائی پادریوں) کی تاریخ میں یہ بہت زیادہ نظرآتا ہے کہ وہ علماء علوم طبیعی کے سائنسی انکشافات کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے تھے اور گلیلیو جیسے (علماء طبیعیات) کو زمین کے سورج کے گرد چکر لگانے اور خود اپنے گرد گردش کرنے * کے انکشاف کرنے کی وجہ سے سخت ترین حملوں کا نشانہ بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بائیں بدعت میں ہے سا لیتے ہیں اور جھوٹ ہیں۔
تعجب کی بات ہے کہ بعض بڑے علما بھی جب نئی علمی تحقیقات پر دسترس حاصل کرتے ہیں تو اس خوف سے کہ کہیں ان لوگوں کے حملوں کا نشان نہ بن جائیں جوان کے ہم عصر ہیں اور وہ اس نئی تحقیق پر تنقید کرنےلگیں ،وہ ہاتھ پاؤں مارتے ہیں کہ قداءاور گزشتہ لوگوں میں سے چند افراد کو اپنے نئے نظریات سے ہم آہنگ ظاہر کریں اور اس طریقے سے اپنے نظریے کو ایک پرانا اورقدیمي عقیده بیان کریں تاکہ امن و امان میں رہ سکیں اور یہ بات بہت ہی الم ناک ہے۔
اس بات کا ایک نمونہ معروف "حرکت جویری" کے نظریے کے بارے میں صدرامتالھین شیرازی کے اسفارمیں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
بہرحال نئے مسائل اور جدید تحقیقات کے ساتھ یہ طرز سلوک، انسانی معاشروں اور جہان علم و دانش کے لیے پہلے بھی نقصان دہ تھا اور آج بھی ہے اور ہمدردی اور خلوص رکھنے والوں کو اس کی اصلاح کے لیے کوشش کرنا چاہیے اور زمانہ جاہلیت کی ان رسومات کو افکار انسانی سے دور کر دینا چاہیے۔
لیکن گفتگو اس معنی میں بھی نہیں ہے کہ ہر نئے مطلب کو اس کے تازہ اور نیا ہونے کی وجہ سے قبول کر لیں ۔ چاہے وہ بالکل بےبنیاد اور ہے اساس کیوں نہ ہو ، کیونکہ تازہ پسندی بھی قدامت پرستی کی طرح ہی خود ایک بہت بڑی مصیبت ہے۔
اعتدال اسلامی کا تقاضا یہ ہے کہ نہ اس معاملہ میں یہ افراط ہو اورنہ ہی تفریط -
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ