Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول

										
																									
								

Ayat No : 4-7

: ص

وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ ۴أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ۵وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ ۶مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ۷

Translation

اور انہیں تعجب ہے کہ ان ہی میں سے کوئی ڈرانے والا کیسے آگیا اور کافروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے. کیا اس نے سارے خداؤں کو جوڑ کر ایک خدا بنادیا ہے یہ تو انتہائی تعجب خیز بات ہے. اور ان میں سے ایک گروہ یہ کہہ کر چل دیا چلو اپنے خداؤں پر قائم رہو کہ اس میں ان کی کوئی غرض پائی جاتی ہے. ہم نے تو اگلے دور کی امتوّں میں یہ باتیں نہیں سنی ہیں اور یہ کوئی خود ساختہ بات معلوم ہوتی ہے.

Tafseer

									      شان نزول 
 ان آیات کے بارے میں بھی، گزشتہ آیات کے لیے بیان کردہ شان نزول سے ملتی جلتی ایک شان نزول بیان کی گئی ہے۔ یہ بھی بعید نہیں ہے کہ ان ساری آیات کے لیے مجموعی طور پر ایک شان نزول ہو۔ 
 لیکن چونکہ اس شان نزول میں کچھ نئے مطالب بیان ہوئے ہیں لہذا ہم اسے تفسیر علی بن ابراہیم سے یہاں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ : 
 جس وقت رسول خدا نے اپنی دعوت کو آشکار فرمایا تو قریش کے سردار حضرت ابو طالب کے پاس آئے اور کہا: اے ابوطالب آپ کا بھتیجا ہمیں بے عقل کہتا ہے اور سارے خداوں کو برا کہتا ہے ۔ اس نے ہمارے جوانوں کو خراب کر دیا ہے اور ہماری اجتماعیت میں تفرقہ ڈال دیا ہے اگر یہ کام مال کی کمی کی وجہ سے کررہا ہے تو اس کے لیے اس قدرمال اکٹھا کردیتے ہیں کہ وہ قریش میں سب زیادہ مالدار بن جائے۔یہاں تک کہ ہم اسے اپنا سردار حاکم بنانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ 
 ابوطالب نے یہ پیغام پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا ۔ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 
  لو وضعواالشمس في يميني والقمر في يساری ما اردته، ولكن
  كلمة يعطوني يملكون بها العرب و تدين بها العجم ويكونون
  ملوا في الجنة " 
  "اگر وہ میرے دائیں باتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں، تو بھی میں اس کی طرف
  مائل نہیں ہوں گا۔(لیکن ان تمام وعدوں کے بجائے)ایک جملہ میں میری موافقت کریں تو وہ اسکے 
  سایےمیں عرب پربھی حکومت کریں گےاورغیرعرب بھی ان کےدین میں داخل ہوجائیں گےاوروہ 
  جنت کے بادشاہ بن جائیں گئے۔
  ابوطالب نے یہ پیغام انھیں پہنچایا تو انھوں نے کہا : 
  "اس کے لیے تو ہم ایک جملے کی بجائے دس جملے قبول کرنے کو تیار ہیں ۔ (تم کون سا جملہ کہلوانا چاہتے ہو"؟
   پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : 
  تشهدون ان لا اله الا الله واني رسول الله 
  تم یہ گواہی دوکہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں خدا کا رسول ہوں ۔ 
 (وه اس گفتگو سے بہت وحشت زدہ ہوگئے اور) انھوں نے کہا : 
  (کیا ہم 360 خداؤں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کو مان لیں، یہ کتنی عجیب بات ہے؟ (وہ بھی ایساخدا جو دکھائی نہیں دیتا)"۔ 
 اس موقع پر ذیل کی آیات نازل ہومي: 
  وعجبوا أن جاءهم منذرمنهم وقال الكافرون لهذا ساحركذاب.. 
  ..... ان هذا الاختلاق۔ ؎1 
 یہی معنی مجمع البیان میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ نقل ہوا ہے اور اس کے آخر میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روتے ہوئے فرمایا : 
  اے چچا! اگر یہ سورج میرے دائیں ہاتھ اور چاند بائیں ہاتھ پر رکھ دیں تاک میں اپنی اس بات سے 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   تفسیرعلی بن ابراہیم، نورالثقلین جلد 4 ص 442 (حدیث 7 ) کے مطابق
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
دست بردار ہوجاؤں ، تو بھی میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ میں اس بات کو معاشرے میں نافذ و رائج کرکے رہوں گا یا اس کی راہ میں قتل ہو جاؤں گا۔ 
 جس وقت حضرت ابوطالب نے یہ بات سنی تو فرمایا : 
  "آپ اپنے پروگرام کو جاری رکھیں ، خدا کی قسم میں ہرگز آپ کی نصرت سے دستبردار نہیں ہوں گا"۔ ؎1 
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      مجمع البیان ، جلد 8 ص 65۔