تھماری نجات کا وقت گزر چکاہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ ۱بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ۲كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ ۳
ص ۤ نصیحت والے قرآن کی قسم. حقیقت یہ ہے کہ یہ کفاّر غرور اور اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں. ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلوں کو تباہ کردیا ہے پھر انہوں نے فریاد کی لیکن کوئی چھٹکارا ممکن نہیں تھا.
تفسیر
تھماری نجات کا وقت گزر چکاہے
اس سورہ کی پہلی آیت میں پھر ایک مرتبہ حروف مقطعات میں سے ایک حرف "ص" سے ہمارا سامنا ہے اور یہاں بھی وہی گزشتہ باتیں پیش آئیں گی کہ کیایہ قران مجید کی عظمت کی طرف اشارہ ہے جو "الف" و "با" جیسے سادہ حروف سے تشکیل پایا ہے مگر اس کے مضامین و مطالب ایسے ہیں جو عالم انسانیت کو منقلب کر دیتے ہیں اور یہ خدا کی عجیب وغریب قدرت نمائی ہے کہ اس نے اس سادہ سے مواد سے ایسی عجیب و غریب ترکیب کو وجود بخشا۔
یایہ ان کے اسرار و رموز کی طرف اشارہ ہے جو خدا اور اس کے پیغمبرگرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان تھے اور ایک آشنا اور دوست دوسرے
آشنا کی طرف کوئی پیغام ہے۔
یاپھر دوسری تفاسیر۔
مفسیرين کی ایک جماعت نے یہاں خصوصیت کے ساتھ "ص" کو "اسماءالٰہی" یا دوسری باتوں کے لیے ایک اختصاری علامت قرار دیا ہے ۔ کیونکہ بہت سے اسماءالٰہی "ص" سے شروع ہوتے ہیں۔ مثلاً صادق ، صمد، صانع یا یہ "صدق اللہ" کے جملہ کی طرف اشارہ ہے جسے ایک ہی حرف میں بطور خلاصہ پیش کیاگیا ہے۔
حروف مقطعات کی تفسیر کے سلسلے میں مزیدتشریح سوره بقره، آل عمران اوراعراف کی ابتدا میں (پہلی ، دوسری اور چھٹی جلدیں ملاحظہ فرمائیں۔
اس کے بعد فرمایاگیا ہے: قسم ہے اس قرآن کی جو ذکرحامل ہے کہتو حق پر ہے اور یہ کتاب خدائی معجزہ ہے۔ (والقران ذی الذکره)۔ ؎1
قرآن خود بھی ذکرہے اور ذکر کا حامل بھی ہے۔"ذکر" کامعنی ہے یاد آوری اور صفحہ دل سے غفلت کے زنگ کو دور کرنا خدا کی یاد، اس کی نعتوں کی یاد ، قیامت کی عظیم عدالت کی یاد، اور خلقت انسان کے مقصد کی یاد۔
ہاں ! انسانوں کی بدبختی کا اہم سبب غفلت ہے اور قرآن مجید اسے زائل کرتا ہے۔
قرآن منافقین کے بارے میں کہتا ہے:
نسوا النفسيهم
انھوں نے خدا کو بھلادیا تو خدا نے بھی انھیں فراموش کردیا ۔ (اور اپنی رحمت ان سے منقطع کرلی)
(توبہ ــــــــــ 67)
اسی سوره (ص) کی آیہ 26 میں گمراہوں کے بارے میں بیان ہوا ہے۔
ان الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شدید بمانسوا يوم الحساب
جو لوگ خدا کی راہ سے گمراہ ہوجاتے ہیں چونکہ انہوں نے حساب کے دن کو جلا دیا ہے لہذا وہ
عذاب شدی میں مبتلا ہوں گے۔
ہاں ! گمراہوں اور گنہ گاروں کے لیے سب سے بڑی مصیبت فراموشی ہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود کو اوراپنی ہستی کی قدروقیمت کو بھی بھول جاتے ہیں- جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
ولاتكونوا كالذين نسواالله فأنساهم انفسهما اولیك هم الفاسقون
تم ان لوگوں کے مانند نہ ہو جانا جنھوں نے خدا کو بھلا دیا ہے، خدا نے انھیں خود اپنے آپ کوہی بھلوا دیا ہے۔ وہ فاسق ہیں۔ (حشرـــــــــ 19)۔
اور قرآن انھی نسیان کے پردوں کو چاک کرنے کا وسیلہ اور غفلت کے اندھیروں کو دور کرنے کے نور اور روشنی ہے۔ اس کی آیات انسان کو خدا اور قیامت کی یاد دلاتی ہیں ۔ اور اس کے جملے انسان کو اپنے وجود کی قدرومنزلت آشنا کرتے ہیں ۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "والقران ذی الذکر" کا جملہ، جملہ قسمیہ ہے جس کا جواب محزوف ہے اور اس کی تقدیرانھوں نے اس طرح ذکر کی ہے۔
والقران ذي الذكر انك صادق و أن هذا الكلام معجز توسچا ہے اور یہ کلام معجزہ ہے۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: اگر تویہ دیکھتا ہے کہ وہ ان ضیاء بخش آیات اور بیدار کرنے والے قرآن کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے تواس کی وجہ نہیں کہ اس کلام حق پر کوئی پردہ پڑا ہوا ہے بلکہ یہ کفار تکبر و غرور میں گرفتار ہیں ۔ جسں نے انہیں حق کو قبول کرنے سے باز رکھا ہوا ہے اور عداوت و عصیاں انھیں تیری دعوت قبول کرنے سے روکے ہوئے بیں (بل الذين كفروا في عزة وشقاق)۔
"عزة"، "مفردات میں "راغب" کے قول کے مطایق ایک حالت ہے جو انسان کو مغلوب ہونے سے روکتی ہے، (شکست ناپذیری کی حالت) اور اصل میں یہ لفظ " عزاز" سے لیا گیا ہے جوسخت محکم اور نفوذ ناپزیر سرزمین کے معنی میں ہے اور یہ دوقسم کی ہوتی ہے کبھی "عزت ممدوح"اور پسندیدہ ہوتی ہے، جیسا کہ ہم ذات پاک الہی کی "عزیز" کے ساتھ توصیف کہتے ہیں اور کبھی "عزت مذموم" ہوتی ہے ، اور وہ حق کے مقابلے میں نفوذ ناپزیری اورحقیقتوں کو قبول کرنے سے تکبر کرنا ہوتاہے اور یہ عزت درحقیقت ذلت ہے۔
"شقاق" "دراصل شق" کے مادہ سے "شگاف" کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں اختلاف کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا کیونکہ اختلاف اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ ہرگزوه ایک"شق" میں قرار پائے۔
قرآن نے یہاں نفوذ پذیری ، کبروغرور ، جدائی اور اختلاف و تفرقه و کفار کی بدبختی کا عامل شمار کیا ہے۔ ہاں یہ قبیح صفات کی ہی ہیں جو انسان کی آنکھ اور کان پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور حس تشخیص انسان سے چھین لیتی ہیں اور کتنی دردناک بات ہے کہ انسان کی آنکھیں بھی کھلی ہوں اور کان کبھی کھلے ہوں لیکن پھر بھی وہ اندھا اور بہرہ ہو۔
سورة بقرہ کی آیت 206 میں ہے:-
واذا قيل له اتق الله اخذته العزة بالاثرفحسبه جهنم وليئس المهاد
جس وقت اس (منافق) کو کہا جاتا ہے کہ خدا سے ڈرو تو ہٹ دھرمی، تعصب اور غروراس کو
پکڑ لیتے ہیں اور گناہ کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔ جہنم کی آگ اس کے لیے کافی ہے کتنی
بری جگہ ہے وہ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد قرآن ان غافل مغروروں کو بیدار کرنے کے لیے ان کا ہاتھ پکڑ کر بشرکی گزشتہ تاریخ کی طرف لے جاتا ہے اور مغرور و متکبر اور ہٹ دھرم اقوام کاانجام انھیں دکھاتا ہے کہ شاید وہ عبرت حاصل کرلیں۔ کہتا ہے: ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ایسی تھیں جنھیں ہم نے (پیغمبروں کو جھٹلانے ، آیات الٰہی کا انکار کرنے اورظلم وگناہ کی بنا پر) ہلاک کردیا (کم اهلكنا من قبلهم من قرن)۔
اور نزول عذاب کے وقت ان کی فریاد بلند ہوئی لیکن کیا فائدہ ؟ کیونکہ اب دیر ہوچکی تھی اور نجات کا وقت گزر چکاتھا۔ (فنادوا ولات حين مناص).
وہ دن جس کے لیے خدا کے پیغمبروں اور اولیاء حق نے انھیں روحانیت وعظ و نصیحت کی تھی اور ان کے اعمال کے بڑے انجام سے انھیں ڈرایا تھا،نہ صرف یہ وہ سننے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے تھے بلکہ مومنین کا مذاق اڑاتے، انہیں آذارپہنچاتے، یہاںتک کہ انھیں قتل کر دیتے تھے۔ مہلت ہاتھ سے نکل گئی اور واپسی کے راستے تباہ ہو گئے اور عذاب استیصال ان کی نابودی کے لیے نازل ہوگیا۔ کیونکہ توبہ و بازگشت کے تمام دروازے بند ہو چکے تھے لہذا ان کی فریادیں کسی جگہ تک پہنچیں۔
لفظ "لات" نفی کے لیے ہے اور اصل میں "لا" نافیہ تھا اور "تاءتانيث" - بڑھایا گیا ہے۔ ؎1
"مناص" "نوص“ کے مادہ سے پناہ گاہ اور فریادرس کے معنی میں ہے۔ کہتے ہیں کہ جب کبھی عربوں کو کوئی سخت وحشت ناک حادثہ پیش آجاتاتھا،خصوصًا جنگوں میں تو وہ بار بار یہ کلمہ دہراتے تھے "مناص ، مناص" یعنی پناہ گاہ کہاں ہے ، پناہ گاہ کہاں ہے؟ اور چونکہ یہ مفهوم فرار کے ہم معنی سے ہے لہذا کبھی جائے فرار کے معنی میں آتا ہے۔ ؎2
بہرحال ان مغرور غافلوں کے پاس جب تک مہلت تھی کہ لطف خدا کی محبت بھری آغوش میں پناہ لیں ، اس وقت تک انھوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔ لیکن جب ساری مہلتیں ہاتھ سے نکل گئیں اور عذاب استیصال نازل ہوگیا توپھریہ فریادیں اور راہ فرار اور پناہ گاہ ڈھونڈھنے کی کوشش کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
گزشتہ تمام اقوام کے لیے پروردگار کی یہی سنت رہی ہے اور آیندہ بھی یہی سنت جاری رہے گی کیونکہ اس کی سنت کے لیے کوئی تغیر نہیں ہے۔
افسوس کہ بہت سے لوگ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے وہ تلخ تجربوں کو پھر آزمانا چاہتے ہیں۔ وہ تجربات جو انسان کی تمام عمر میں صرف ایک جیسے پیش آتے ہیں اور دوسری مرتبہ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، یعنی جن کا اول و آخر ایک ہی ہوتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎2 بعض نے "تاء" کو "زائدہ" ، اور مبالغہ کے لیے بھی جانا ہے (مثلاً علامہ طباطبائی) جیسا کہ بعض نے یہاں "لا" کو "نفی جنس" کے لیے سمجھا ہے اور بعض نے "مشبه به ليس" بہرحال "تاء" کے اس کے ساتھ اضافہ کی وجہ سے مخصوص احکام پیدا کرلیتا ہے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ حتمی طور زمانے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ ہمیشہ اس کا اسم یا خبر محذوف ہوتی ہے اور ان میں سے صرف ایک کا کلام کو ذکر ہوتا ہے۔ اس بنا پر "والات حين مناص" کا جملہ تقدیرمیں "ولات الحين حين مناص" تھا ۔
؎2 مفردات راغب، تفسيرفخررازی ، روح المعانی اورکتاب مجمع البحرین مادہ" نوص"۔