شان نزول
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ ۱بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ۲كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ ۳
ص ۤ نصیحت والے قرآن کی قسم. حقیقت یہ ہے کہ یہ کفاّر غرور اور اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں. ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلوں کو تباہ کردیا ہے پھر انہوں نے فریاد کی لیکن کوئی چھٹکارا ممکن نہیں تھا.
شان نزول
تفسیروحدیث کی کتابوں میں اس سورہ کی ابتدائی آیات کے بارے میں کئی ایک ملتی جلتی شان نزول بیان ہوئی ہیں ۔ ہم ان میں سے ایک جوزیادہ مشرح اور جامع ہے، یہاں پر پیشں کرتے ہیں اور یہ وہ حدیث ہے جو مرحوم کلینی نے امام باقرؑ سے نقل کی ہے۔
ابوجہل اور قریش کی ایک جماعت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابوطالب کے پاس آئی اور کہا : تمھارے بھتیجے نے ہمیں بہت تکلیف پہنچائی ہے اور ہمارے خداؤں کو بھی ناراض کیا ہے۔ اسے بلاؤ اور حکم دو کہ وہ ہمارے خداؤں کو کچھ نہ کہا کرے تاکہ ہم بھی اس کے خدا کو برا نہ کہیں۔
جناب ابوطالب نے کسی کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ جب پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر داخل ہوئے اور کمرے کے اطراف میں نگاہ کی تو دیکھا کہ مشرکین کے علاده ابوطالب کے پاس اور کوئی نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "السلام على من اتبع الهدٰی" (سلام ان پر جو ہدایت کے پیرو ہیں)۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے تو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت ابوطالب نے ان کی باتیں بیان کیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا :-
وهل لهم في كلمة خير لهم يسو دون بها العرب ويطاون اعناقهم
کیایہ اس بات کے لیے تیار ہیں کہ ایک جملے میں مجھ سے موافقت کریں اوراس کے سایے تمام عرب پر سبقت حاصل کرلیں اوران پرحکومت کریں۔
ابوجہل (اس بات سے وجد میں آگیا ، اس نے سوچاکہ عربوں پر حکومت کرنے کی چابی پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ لے لے)۔ کہنے لگا، ہاں ہم موافق ہیں ، آپ کی مراد کون سا جملہ ہے؟
جناب پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
تقولون لا اله الا الله
تم ہی کہو کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے (اور ان بتوں کو جو تمھاری بدبختی، ننگ و عار اور پسماندگی کا سبب نہیں دور پھینک دو)۔
جس وقت حاضرین نے یہ سنا تو اتنے وحشت زدہ ہوئے کہ انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں، اور تیزی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔وہ کہتے جاتے تھے، ایسی بات تو ہم نے اب تک نہیں سنی تھی ، یہ توایک جھوٹ ہے۔
اس موقع پر سوره "ص" کے آغاز کی آیات نازل ہوئیں۔ ؎1
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اصولِ کافی ، (نورالثقلین جلد 4 ص 441 کی نقل کے مطابق)