۵۔ اسلام میں قرعہ انداز کی مشر و عیت
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ۱۳۹إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ۱۴۰فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ ۱۴۱فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ۱۴۲فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ ۱۴۳لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۱۴۴فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ ۱۴۵وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ ۱۴۶وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ ۱۴۷فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ۱۴۸
اور بیشک یونس علیھ السّلام بھی مرسلین میں سے تھے. جب وہ بھاگ کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف گئے. اور اہل کشتی نے قرعہ نکالا تو انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا. پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا جب کہ وہ خود اپنے نفس کی ملامت کررہے تھے. پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے. تو روزِ قیامت تک اسی کے شکم میں رہ جاتے. پھر ہم نے ان کو ایک میدان میں ڈال دیا جب کہ وہ مریض بھی ہوگئے تھے. اور ان پر ایک کدو کا درخت اُگادیا. اور انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ کی قوم کی طرف نمائندہ بناکر بھیجا. تو وہ لوگ ایمان لے آئے اور ہم نے بھی ایک مدّت تک انہیں آرام بھی دیا.
قرعہ سے بڑھ کرعادلا نہ فیصلہ اورکون ساہو سکتاہے ( کہ جب معاملہ مشکل ہوجائے ) تو موضوع کو خدا کے سُپرد کردیا جاء ، کیا خدا ( قرآن مجیدمیں یونس علیہ السلام کے بار ے میں ) نہیں کہتاہے ” فَساہَمَ فَکانَ مِنَ الْمُدْحَضین“ (یونس نے کشتی میںبیٹھنے والوں کے ساتھ قرعہ اندازی کی اور قرعہ یونس کے نام نکلا اور وہ مغلوب ہوگئے ( 1 ) ۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب معاملہ مشکل ہوجائے اوراس کے حل کی اور کوئی دوسری راہ موجود نہ ہو اورکام کو خدا کے سپرد کردیاجائے تو واقعاً قرعہ راہ کشا ہوتاہے . جیساکہ حضرت یونس علیہ السلام کی داستان میں حقیقت پرٹھیک منطبق ہوا ۔
یہی مطلب ایک دوسر ی حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے زیادہ صراحت کے ساتھ بیان ہواہے . آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرماتے ہیں :
لیس من قوم تنا زعوا ( تقارعوا ) ثم فوضوا امرھم الی اللہ الاّ خرج سھم المحق
کسی قوم نے ( جب مسئلہ کے حل کی تمام راہیں مسدود ہوگئی ہوں ) قرعہ پراقدام نہیں کیا جبکہ انہوں نے اپنے کام کو خدا کے سپرد کردیا ہو . مگر یہ کہ قرعہ حقیقت کے مطابق نکلا اورحق آشکار وواضح ہوگیا ( 2) ۔
اس مسئلے کی مزید تشریح و تفصیل ہم نے کتاب ” القواعد الفقھیہ “ میں بیان کی ہے۔
1۔ تفسیر برہان جلد ۴ ص ۳۷ (حدیث ۶)
2۔وسائل ، کتاب القضاء جلد ۱۸ باب الحکم بالقرعة فی القضایا المشکتہ از ابواب کیفیتہ الحکم واحکام الد عویٰ (باب ۱۳ ) حدیث ۵۔