Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۴۔ ایک سوال کا جواب

										
																									
								

Ayat No : 139-148

: الصافات

وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ۱۳۹إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ۱۴۰فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ ۱۴۱فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ۱۴۲فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ ۱۴۳لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۱۴۴فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ ۱۴۵وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ ۱۴۶وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ ۱۴۷فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ۱۴۸

Translation

اور بیشک یونس علیھ السّلام بھی مرسلین میں سے تھے. جب وہ بھاگ کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف گئے. اور اہل کشتی نے قرعہ نکالا تو انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا. پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا جب کہ وہ خود اپنے نفس کی ملامت کررہے تھے. پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے. تو روزِ قیامت تک اسی کے شکم میں رہ جاتے. پھر ہم نے ان کو ایک میدان میں ڈال دیا جب کہ وہ مریض بھی ہوگئے تھے. اور ان پر ایک کدو کا درخت اُگادیا. اور انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ کی قوم کی طرف نمائندہ بناکر بھیجا. تو وہ لوگ ایمان لے آئے اور ہم نے بھی ایک مدّت تک انہیں آرام بھی دیا.

Tafseer

									یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے اور وہ یہ ہے کہ دوسری اقوام کی سر گزشتوں کے بیان میں آ یات قرآنی میں آ یاہے کہ نزول ِ عذاب کے وقت (عذاب استیصال جو سرکش اقوام کی نابودی کے لیے نازل ہوتاہے ) تو بہ وانابت بے اثر ہوتی ہے توپھر قومِ یونس کے لیے اس مسئلے میں استثناء کیسے ہوا ۔
پہلاجواب تو یہ ہے کہ عذاب ابھی نازل نہیں ہواتھا ابھی کچھ علامات ہی ،جوتنبیہ اورخبردار کر نے کے لیے تھیں ،نظر آ ئی تھیں کہ انہوں نے ان تنبیوں سے برمحل استفادہ کیااور نز ول ِ عذاب سے پہلے ہی تو بہ کرلی اورایمان لے آ ئے ۔
دوسراجواب یہ ہے کہ یہ عذاب ” عذاب استیصال “ نہیں تھا بلکہ گوشمالی کے طورپر تھا . ایسی گو شمالی قوموں پرعذاب نازل کرنے سے پہلے کی جاتی تھی ،تاکہ وہ موقع ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے بیدار ہوجائیں اور تقویٰ کاراستہ اختیار کرلیں . جیساکہ غرق ہونے سے پہلے فر عون کی قوم پرمختلف عذاب بھیجے گئے تھے ۔