۳۔ چھوٹی سی داستان میں بہت سے سبق
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ۱۳۹إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ۱۴۰فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ ۱۴۱فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ۱۴۲فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ ۱۴۳لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۱۴۴فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ ۱۴۵وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ ۱۴۶وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ ۱۴۷فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ۱۴۸
اور بیشک یونس علیھ السّلام بھی مرسلین میں سے تھے. جب وہ بھاگ کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف گئے. اور اہل کشتی نے قرعہ نکالا تو انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا. پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا جب کہ وہ خود اپنے نفس کی ملامت کررہے تھے. پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے. تو روزِ قیامت تک اسی کے شکم میں رہ جاتے. پھر ہم نے ان کو ایک میدان میں ڈال دیا جب کہ وہ مریض بھی ہوگئے تھے. اور ان پر ایک کدو کا درخت اُگادیا. اور انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ کی قوم کی طرف نمائندہ بناکر بھیجا. تو وہ لوگ ایمان لے آئے اور ہم نے بھی ایک مدّت تک انہیں آرام بھی دیا.
ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں ان قصّوں کابیان تربیتی مقاصد کے لیے ہے کیونکہ قرآن کوئی قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ انسان اور تر بیّت کی کتاب ہے۔
اس عجیب داستان میں سے بہت سے پند ونصائح حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔
الف :تخلّف ،چاہے ایک بزرگ پیغمبر سے ، ایک ” تر ک اولیٰ “ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو خدا کی بارگاہ میں بہت اہم ہے او ر موجبِ سزا ہے۔
البتہ چونکہ پیغمبر وں کامقام بہت اونچا ہوتاہے لہذاان کی ایک چھوٹی سی غفلت بھی کبھی دوسروں کے گناہ کبیرہ کے برابر سمجھی جاتی ہے . اسی بنا پر ہم نے دیکھ لیاہے کہ اس داستان میںخدانے انہیں بھاگ جانے والاغلام کہا ہے . روایات میں بیان کیاگیاہے کہ کشتی میں بیٹھنے والوں نے کہا تھاکو ئی گنہ گا رآدمی ہمارے درمیان ہے اور انجام کارخدا نے انہیں ایک وحشت ناک زنداں میں گرفتار کی. اور توبہ اورخدا کی طرف گشت کے بعد اس زنداں سے خستہ حال اوربیمار بدن کے ساتھ آزاد ہوئے تھے ۔
تاکہ سب لوگ جان لیں کہ تخلّف اور گناہ کسی شخص سے بھی قابلِ قبول نہیں ہے .انبیاء و اولیاء ِ خدا کے مقا م کی عظمت بھی اسی میں ہے کہ وہ اس کے فرمان کے مطیع ہوتے ہیں .ورنہ کوئی بھی خداکے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں رکھتا . البتہ یہ اس عظیم پیغمبر کی عظمت کی نشانی ہے کہ خدااس کے بار ے میں اس قسم کی سخت گیری کر رہاہے۔
ب : اسی داستان ( کے اس حصّے میں جوسورہ ٴ انبیاء کی آ یت ۸۷ میں آ یاہے ) میں موٴ منین کے غم و اند وہ اور مشکلات سے نجات کابھی وہی راستہ بتا یا گیاہے جو خود حضرت یونس علیہ السلام نے طے کیاتھا اور وہ ہے حق تعالیٰ کی بار گاہ میں خطا اور غلطی کااعتراف ،تسبیح و تنزیہ اور اس کی بار گا ہ میں توبہ وانابت وبا ز گشت ۔
ج :یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ایک گنہ گا ر اور مستحقِ عذاب قو م ، کس طرح سے آ خری لمحات میں اپنی تاریخ کا راستہ بدل سکتی ہے اور خدا کی رحمت ومحبت بھری آغوش کی طرف پلٹ کرنجات پاسکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ موقع ہاتھ سے نکلنے سے پہلے متوجہ ّ ہو جائے اور اگر ہوسکے توکسی الم کواپنی رہبری کے لیے منتخب کرے ۔
د:یہ ماجر ااس بات کی بھی نشاندہی کرتاہے کہ خدا پر ایمان اور گناہ سے توبہ آثار و بر کات کے علاوہ ،دنیا کی ظاہری نعمتوں کارُخ بھی انسان کی طرف موڑ دیتی ہے ، آبادی بڑھاتے ہے نیزطو ل ِ عمر اور زندگی کی نعمتوں سے فائد ہ اٹھانے کاسبب بنتی ہے ، اور مطلب کی نظیر حضر ت نوح علیہ السلام کی داستان میں بھی آ ئی ہے . اس کی تفصیل و تشریح انشاء اللہ سورہٴ نوح کی تفسیر میں بیان کی جائے گی ۔
ھ :خداکی قدرت اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اس کے سامنے کوئی بھی چیز مشکل نہیں ہے . یہاں تک کہ وہ ایک انسان کو ایک عظیم اوروحشت ناک جا نور کے کے منہ اور پیٹ میں سالم ومحفوظ رکھ سکتاہے اور سالم ہی باہر نکل سکتاہے یہ امور اس بات کی نشادہی کرتے ہیں کہ اس عالم کے تمام اسباب اس کے اراد ے کے تحت اوراس کے فر مان کے سامنے سرنگوں ہیں ۔