Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۴۔شیطا نی وسوسے ابراہیم (ع) کی عظیم روح پر اثرنہ کرسکے

										
																									
								

Ayat No : 101-110

: الصافات

فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ۱۰۱فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ۱۰۲فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ۱۰۳قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۰۵إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ۱۰۶وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ۱۰۷وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ۱۰۸سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ۱۰۹كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۱۰

Translation

پھر ہم نے انہیں ایک نیک دل فرزند کی بشارت دی. پھر جب وہ فرزند ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے فرزند نے جواب دیا کہ بابا جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں انشائ اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے. پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹادیا. تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم اسی طرح حسن عمل والوں کو جزا دیتے ہیں. بیشک یہ بڑا کھلا ہوا امتحان ہے. اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے. اور اس کا تذکرہ آخری دور تک باقی رکھا ہے. سلام ہو ابراہیم علیھ السّلامپر. ہم اسی طرح حَسن عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں.

Tafseer

									ابراہیم علیہ السلام کا امتحان پوری تاریخ میں ایک عظیم امتحان تھا . ایسا امتحان جس کامقصد یہ تھا کہ ان کے دل کو غیر خداکی مہر ومحبت اورعشق سے پاکرکھنا اورعشق ِ الہٰی کوان کے سار ے کے سارے دل پرسایہ فگن کرنا تھا . بعض روایات کے مطابق شیطان نے بہت ہاتھ پاؤں مار ے کہ کوئی ایساکا م کرے کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام اس میدان سے کامیاب ہو کر نہ نہ نکلیں ،کبھی وہ ( اسمٰعیل کی ) ماں ہاجرہ کے پاس آ یااوران سے کہاتمہیں معلوم ہے کہ ابراہیم نے کیا ارادہ کیا ہے ؟وہ چاہتا ہے آ ج اپنے بیٹے کوذبح کردے ۔
ہاجرہ نے کہا:دورہو جا ،محال اورنہ ہونے والی بات نہ کر، کیونکہ وہ تو بہت مہربان ہے اپنے بیٹے کو کیسے ذبح کرسکتاہے ؟اصو لاً کیادنیامیں کوئی ایسا انسان پیدا ہو سکتا ہے جواپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کردے ؟
شیطان نے اپنے وسوسہ کو جاریرکھتے ہوئے کہا:اس کادعویٰ ہے کہ خدا نے اسے حکم دیا ہے۔ 
ہاجرہ نے کہا : اگر خدانے اسے حکم دیاہے تو پھر اسے اطاعت کرنا چاہیے،اور سوائے رضاو تسلیم کے کوئی دوسری راہ نہیں ہے۔
پھر شیطان ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے پاس آ یا ، اورانہیں ور غلانے لگ. ان سے بھی کچھ حاصل نہ ہو سکا ، کیونکہ اس نے اسما عیل علیہ السلام کوتسلیم ورضا کاپیکر پایا ۔ 
آ خرمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ یااوران سے کہا :ابراہیم ! جوخواب تم نے دیکھا ہے وہ شیطانی خواب ہے ، تم شیطان کی اطاعت نہ کرو ۔
ابراہیم علیہ السلام نے نور ایمان اور نبوّ ت کے پرتو میں اسے پہچان لیا: چِلاّ کر کہا : ” دو ر ہوجاا ے دشمنِ خدا“ ( 1) ۔
ایک اورحدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے مشعر الحرام میں آ ئے تاکی بیٹے کی قربانی دیں،توشیطان ان کے پیچھے دوڑا .وہ جمر ہ اولیٰ کے پاس آ ئے.شیطان و ہاں بھی ان کے پیچھے لگ گیا .ابراہیم علیہ السلام نے سات پتھر اٹھا کر اسے مارے . جس وقت دوسرے جمرہ کے پاس پہنچے توپھر شیطان کو دیکھا ،دوبارہ پتھر اسے مارے یہاں تک کہ ” جمرہ عقبہ “ میں آ ئے توسات ا ور پتھر اسے مارے. ( اوراُسے ہمیشہ کے لیے اپنے سے مایوس کردیا ( 2) ۔

یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شیطانی وسوسے امتحان کے عظیم میدانوں میں ایک طرف سے ہی نہیں بلکہ مختلف سمتوں سے ظاہر ہوتے ہیں ۔
ہرزمانے میں ایک نئے رنگ میں اورایک نئے طریقہ سے . مردانِ خد ا کو چاہیے کہ وہ ابراہیم السلام کی طرح شیاطین کوتمام چہروں میںپہچانیں اوروہ جس طریقے سے بھی وارد ہوں ، ان کے راستے بندکردیں اورانہیں سنگسار کریں او ر کہاہی عظیم درس ہے۔
1۔تفسیر ابوا لفتواح رازی جلد ۹ ص ۳۲۶ ، زیر بحث آ یات کے ذیل میں ۔
2۔ایضا ً۔