Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۵۔ ” منٰی “ میں تکبیرات کا فلسفہ

										
																									
								

Ayat No : 101-110

: الصافات

فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ۱۰۱فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ۱۰۲فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ۱۰۳قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۰۵إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ۱۰۶وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ۱۰۷وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ۱۰۸سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ۱۰۹كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۱۰

Translation

پھر ہم نے انہیں ایک نیک دل فرزند کی بشارت دی. پھر جب وہ فرزند ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے فرزند نے جواب دیا کہ بابا جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں انشائ اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے. پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹادیا. تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم اسی طرح حسن عمل والوں کو جزا دیتے ہیں. بیشک یہ بڑا کھلا ہوا امتحان ہے. اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے. اور اس کا تذکرہ آخری دور تک باقی رکھا ہے. سلام ہو ابراہیم علیھ السّلامپر. ہم اسی طرح حَسن عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں.

Tafseer

									ہم جانتے ہیں کہ السلامی روایات میں عیدالاضحٰی کے بار ے میں جواحکام آ ئے ہیں . ان میں کچھ مخصوص تکبریں ہیں . جوتمام مسلمان پڑھتے ہیں چاہے وہ مراسم حج میں شریک ہوں اور منٰی میں موجود ہوں اورچاہے دوسرے مقامات پر ہوں . فرق اتنا ہے کہ جومنٰی میں ہیں ۱۵ نمازوں کے بعدپڑھتے ہیں جن میں سے پہلے عید کے دن کی نماز ِظہر ہے اوجومنٰی نہیں ہوتے وہ . انمازوں کے بعدتکرار کرتے ہیں او ر ان تکبیرات کی صورت اس طرح ہے :
س اللہ اکبر ،اللہ اکبر،لاالہٰ اللہ ،واللہ اکبر،اللہ اکبر، وللہ الحمد اللہ اکبرعلیٰ ماھد انا 
جس وقت ہم اس حکم کااس حدیث کے ساتھ موازنہ کرکے دیکھتے ہیں. جسے ہم پہلے نقل کرچکے ہیں . تو معلوم ہوتاہے کہ یہ تکبیریں حقیقت میں جبرائیل اوراسماعیل علیہ السلام اوران کے باپ ابراہیم علیہ السلام کی تکبیر وں کا مجموعہ ہیں اورکچھ اس پر اضافہ ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہ الفاظ حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اس عظیم آ زمائش میں کامیا بی کی یاد لوگوں کی نظروں میں زندہ کرتے ہیں، اورتمام مسلمانوں کوایک پیغامِ الہٰی دیتے ہیں.چاہے وہ منٰی میں ہوں یامنٰی کے علاوہ دوسرے مقامات پر ۔
ضمنی طورپر روایات سے معلوم ہوتاہے کہ ” منٰی “ کانام اس بناپر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اس زمین پرپہنچے اپنے امتحان سے گز رچکے توجبرائیل علیہ السلام نے ان سے کہا : جو کچھ آپ چاہتے ہیں ، اپنے پروردگار سے کہیں انہوں نے خداسے تمنا کی کہ خدا یہ حکم دے کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کے فدیہ کے طورپر دنبہ ذبح کریں اوران کی یہ تمنا پوری ہوگئی ( 1) ۔
 1۔تفسیر نو رالثقلین جلد ۴ ص ۴۲۰ (حدیث ۶۸) ۔