۳۔حضرت ابراہیم (ع) کاخواب کس طرح حُجّت ہو سکتا ہے ؟
فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ۱۰۱فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ۱۰۲فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ۱۰۳قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۰۵إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ۱۰۶وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ۱۰۷وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ۱۰۸سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ۱۰۹كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۱۰
پھر ہم نے انہیں ایک نیک دل فرزند کی بشارت دی. پھر جب وہ فرزند ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے فرزند نے جواب دیا کہ بابا جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں انشائ اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے. پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹادیا. تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم اسی طرح حسن عمل والوں کو جزا دیتے ہیں. بیشک یہ بڑا کھلا ہوا امتحان ہے. اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے. اور اس کا تذکرہ آخری دور تک باقی رکھا ہے. سلام ہو ابراہیم علیھ السّلامپر. ہم اسی طرح حَسن عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں.
خواب اورخواب دیکھنے کے بار ے میں بہت سی باتیں ہیں،جس کی ایک مبسوط تفصیل ہم سُورہ ٴ یوسف کی آ یہ ۴ کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں ( 1) ۔
یہاں پر جو بات ضروری ہے کہ جس کی طرف توجہّ کی جائے یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب کوکس طرح حجت سمجھا اوراسے کیوں اپنے عمل کامعیارقرار یا؟اس سوال کے جواب میں کبھی تو یہ کہا جاتاہے کہ انبیاء کے خواب ہرگز شیطانی خواب نہیں ہوتے اور نہ ہی ہ قوتِ واہمہ کی فعالیت کی پیدا وا ر ہوتے ہیں،بککہ وہ ان کی نبوّت اوروحی کاایک گوشہ ہوتے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں انبیاء کامصد رو حی کے ساتھ ارتباط کبھی تو دل میں القاء کی شکل میں ہوتاہے اور کبھی فرشتہ لوحی کو دیکھنے کی صورت میں ہوتا اور کبھی صوتی امواج کی راہ سے جو خدا کے فرمان سے پیدا ہوتی ہیں اور کبھی خواب کے طریقے سے.لہذ اان کے خوابوں میں کسی قسم کی خطا یاغلطی پیدانہیں ہوتی،اورجو چیز وہ خواب میں دیکھتے ہیں دہی کچھ ہوتا ہے جووہ بیداری میں دیکھتے ہیں ۔
کبھی یہ کہا جاتاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیدار ی کی حالت میںوحی کے ذ ریعے آ گاہی حاصل کی تھی کہ وہ ” ذبح “ کے بار ے میں جو خواب دیکھیں اس پر عمل کریں ۔
نیز کبھی یہ کہا جاتا ہے کہاس خواب میں مختلف قرائن تھے . ایک یہ کہ تین شب پے در پے بعینہ اس کا تکرار ہو اکر جس نے اُنکے لیے یہ علم و یقین پیدا کردیا کہ یہ ایک خدائی مامو ریت ہے کوئی اور چیز نہیں ہے۔
بہرحال ممکن ہے کہ یہ تمام ہی تفاسیر صحیح ہوں اور آپس میں کوئی تضاد بھی نہیں رکھتیں اورظو اہر آ یات کے خلاف بھی نہیں ہیں ۔
1۔جلد ۹ میں ملاحظہ کیجیے ۔