۲۔کیا ابراہیم (ع) فرزند کوذبح کرنے پرمامورتھے ؟
فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ۱۰۱فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ۱۰۲فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ۱۰۳قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۰۵إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ۱۰۶وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ۱۰۷وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ۱۰۸سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ۱۰۹كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۱۰
پھر ہم نے انہیں ایک نیک دل فرزند کی بشارت دی. پھر جب وہ فرزند ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے فرزند نے جواب دیا کہ بابا جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں انشائ اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے. پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹادیا. تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم اسی طرح حسن عمل والوں کو جزا دیتے ہیں. بیشک یہ بڑا کھلا ہوا امتحان ہے. اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے. اور اس کا تذکرہ آخری دور تک باقی رکھا ہے. سلام ہو ابراہیم علیھ السّلامپر. ہم اسی طرح حَسن عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں.
ایک اورسوال جویہاں مفسّرین کو درپیش ہے یہ ہے کہ کیاابراہیم علیہ السلام واقعاً بیٹے کوذبح کرنے پر مامور تھے یاانہیں اس کے مقد مات کاحکم تھا ؟اگروہ ذبح پرمامور تھے توپھر یہ حکم ِ الہٰی انجام پانے سے پہلے ہی کس طرح منسوخ ہوگیا؟جب کہ عمل سے پہلے منسوخ ہونا جائز نہیں ہے اور یہ معنی علمِ اصولِ فقہ میں ثابت ہوچکاہے۔
اگروہ ذبح کے لیے اقدامات کرنے پر مامور تھے تویہ افتخار کو ئی اہمیّت نہیں رکھتا ۔
بعض نے کہاہے کہ اس مسئلہ کی اہمیّت اس امر سے پیدا ہو ئی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کاخیال تھا کہ مقد مات فراہم کرنے اور ابتدائی اور انجام دینے کے بعدشاید ذبح کااصل حکم دیاجائے اور یہی ان کاعظیم امتحاق تھا . ہمار ے نزدیک اس نظر یئے میں کوئی خاص جاذبِ نظر یا ت نہیں ہے ہماری رائے میں یہ سب باتیں اس لیے پیدا ہوئی ہیں کہ امتحا نی اورغیر امتحانی اوامر میں فرق نہیں رکھاگیا . ابراہیم علیہ السلام کوجوا مر ہو اتھا وہ ایک امتحانی امر تھا اور ہم یہ جانتے ہیں کہ امتحانی اوامرمیں حتمی ارادہ اور چیزہے اوراصل عمل کچھ اورشے .ایسے اوامر میں مقصد یہ ہوتاہے کہ یہ واضح ہوجائے کہ موردِ آ زمائش شخص کہاں تک فرمان کی اطاعت پر آما دگی رکھتا ہے اور یہ اس صورت میں ہوتاہے ، جبکہ مو رد آ زمائش شخص پشت پردہاسرار سے آ گاہ نہیں ہوتا ۔
لہذ ا یہاں نسخ واقع نہیں ہو ا کہ عمل سے پہلے اس کی صحت کے بار ے میں بحث و گفتگو ہو ۔
اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ اس واقعے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہتاہے :
قد صدّ قت الرء یا
اے ابرا ہیم ! تم نے جوخواب دیکھاتھا ،سچ کردکھایا ۔
تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فرزند ولبندکوذبح کے سلسلہ میں جو کچھ ان کے بس میں تھاانہوں نے انجام دیا اوراس سلسلے میں اپنی روحانی اور دلی آمادگی ہرجہت سے پہنچا دی اور آزمائش کی اس ذمہ داری کوخوب اچھی طرح سے پورا کر دکھایا ۔