۲۔ ابراہیم (ع) کی ہجرت
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ ۹۵وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ۹۶قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ ۹۷فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ ۹۸وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ ۹۹رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ۱۰۰
تو ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ کیا تم لوگ اپے ہاتھوں کے تراشیدہ بتوں کی پرستش کرتے ہو. جب کہ خدا نے تمہیں اور ان کو سبھی کو پیدا کیا ہے. ان لوگوں نے کہا کہ ایک عمارت بناکر کر آگ جلا کر انہیں آگ میں ڈال دو. ان لوگوں نے ایک چال چلنا چاہی لیکن ہم نے انہیں پست اور ذلیل کردیا. اور ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جارہا ہوں کہ وہ میری ہدایت کردے گا. پروردگار مجھے ایک صالح فرزند عطا فرما.
بہت سے پیغمبروں نے اپنی زندگی می اپنے فریضہ ٴ رسالت کی ادا ئیگی کے لیے ہجرت کی ہے ان میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام ہیں . ان کی ہجرت کے بار ے میں قرآن کی مختلف آ یات میںذکر کیاگیاہے۔
سورہ ٴ عنکبوت کی آیہ ۲۶ میں بیان ہے :
وَ قالَ إِنِّی مُہاجِرٌ إِلی رَبِّی إِنَّہُ ہُوَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ
اس نے کہا :میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرتاہوں بیشک وہ عزیز و حکیم ہے۔
اس مقام پر قرآن نے یہ بات ابراہم کے آگ میں ڈالے جا نے کے مسئلے کے بعد بیان کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدائی رہبر جب اپنافریضہ ٴ رسالت ایک جگہ مکمل کرلیتے تھے یاماحول کو اپنی دعوت کے پھیلنے کے لیے ساز گار نہیںپاتے تھے تو اس غرض سے کہ کہیں ان کی ذمہ اور پیام میں رکاوٹ نہ پڑ جائے ہجرت کرجاتے تھے . ادیان کی تاریخ میں یہ ہجرت تیں بہت زیادہ برکتوں کاسرچشمہ بنیںیہاں تک تاریخ اسلام ظاہری و معنوی لحاظ سے پیغمبر اکرم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ہجرت کے محو ر کے گرد ہی گھومتی ہے اور اگر ہجرت نہ ہو تی تو اسلام مکہ کہ بُت پرستوں کی چالبا زیوں کے سامنے ہمیشہ کے لی دب جاتا . یہ ہجرت ہی تھی جس نے اسلام اور مسلمانوں کو نئی روح عطاکی اور ہرچیزکوان کے فائدے میں بدل کررکھ دیا اورانسا نیت کو ایک نئی راہ پر ڈا ل دیا ۔
بلکہ ایک لحاظ سے ہجرت ہرفردِ موٴ من کے لیے ایک عمومی حکمت ِ عملی ہے کہ وہ جب بھی اپنی زندگی کے دوران میں ماحول کوا پنے مقدس مقاصد کے لیے غیرمناسب دیکھے اوراسے ایسی متعفن صُورت میں پائے جس میں ہر خراب ہو جاتی ہے تو اس لیے ضروری ہے کہ ہجرت کر جائے . اسے چاہیے کہ سامانِ سفر باندھ کر زیادہ مناسب سرزمین کی طرف کرچ کرجائے کیونکہ خدا کا مالک محدود نہیں ہے . لیکن اس سے پہلے کہ ذات سے باہر کی طرف ہجرت کرے ، اپنی ذات کے اندر ہجر ت کااہتمامکرے . پہلے داخلی ہجر ت کی ضرورت ہے . آ لودگیوں سے پاکیز گی کی طرف ہجرت ، شرک سے ایمان کی طرف ہجر ت ،گناہ سے پر وردگاربزرگ کی اطاعت کی طرف ہجرت ۔
یہ اندرونی ہجرت فرد اورمعا شرہ کے لیے تبدیلی انقلاب کی ابتد اء ہو گی اور بیر ونی ہجرت کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید بنے گی . ہم تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد سورہ ُ نساء کی آ یہ ۱۰۰ کے ذیل میں ” اسلا م ومہاجرت “ کے عنوان کے تحت اس ضمن میں مفصل بحث کرچکے ہیں ۔