۔ ہرچیز کاخالق وہی ہے
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ ۹۵وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ۹۶قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ ۹۷فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ ۹۸وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ ۹۹رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ۱۰۰
تو ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ کیا تم لوگ اپے ہاتھوں کے تراشیدہ بتوں کی پرستش کرتے ہو. جب کہ خدا نے تمہیں اور ان کو سبھی کو پیدا کیا ہے. ان لوگوں نے کہا کہ ایک عمارت بناکر کر آگ جلا کر انہیں آگ میں ڈال دو. ان لوگوں نے ایک چال چلنا چاہی لیکن ہم نے انہیں پست اور ذلیل کردیا. اور ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جارہا ہوں کہ وہ میری ہدایت کردے گا. پروردگار مجھے ایک صالح فرزند عطا فرما.
زیر بحث آ یات میں بیان ہوا ہے ”وَ اللَّہُ خَلَقَکُمْ وَ ما تَعْمَلُونَ “ ابراہیم علیہ السلام بُت پرستوں سے کہتے ہیں : ” تم بھی خدا کی مخلوق ہو اور تمہارے بنائے ہوئے بُت بھی ۔
بعض نے اس آیت کو اپنے فاسد مذہب ِ جبر کے لیے توجیہ خیال کیا ہے (اس طرح سے کہ ” ماتعملون “ میں ” ما “ کو انہوں نے ” ماصد ریہ “ لیاہے اورکہا ہے کہ جملے کامفہوم یہ ہوگا کہ خدا نے تمہیں اورتمہارے اعمال کوخلق کیا ہے او رجب ہمارے اعمال مخلوق ِ خدا ہیں توپھر اپنی طرف سے ہمیں کچھ اختیار نہیں ۔
یہ بات کئی جہات سے بے بنیاد ہے۔
اوّ لاً :جیساکہ ہم بیان کرچکے ہین کہ ” ماتعملون “ سے مراد یہاںبُت ہیں ، جنہیں انہوں نے اپنے ہاتھ سے بنا یاتھا نہ کہ اعمالِ انسانی،اوراس میں شک نہیں کہ وہ ان کے مادے کو عالم ِ خلقت سے لے کر ایک شکل دیتے تھے ( اس بنا پر ماء موصولہ ہے ) ۔
ثانیا ً :اگرآ یت کا مفہوم وہ ہو جوانہوں نے خیال کیاہے تو یہ تو بُت پرستوں کے فائدے میں ایک دلیل ہے نہ کہ ان کے برخلاف. کیونکہ وہ کہ سکتے تھے کہ ہماری بُت سازی اور بُت پرستی کا عمل چونکہ خدانے خلق کیاہے لہذاہم تو اس معاملے میں بالکل بے قصور ہیں ۔
ثالثا ً : اگر یہ بھی فر ض کر لیاجائے کہ آیت کامفہوم اور معنی اسی طرح ( جس طرح وہ کہتے ہیں ) تو پھر یہ جبرکی دلیل نہیں ہے کیونکہ ارادہ و اختیار کی آ ز ادی کی صور ت میں ایک معنی کے لحاظ سے خد اہی ہمارے اعمال کاخالق ہے ،کیونکہ خدا کے سوا ارادے کے یہ آ زادی اور ارادہ کی طاقت اور جسمانی ، فکری ، مادّی اور روحانی قو تیں ہمیں کسی نے دی ہیں ؟پس خالق وہی ہے باو جود یکہ فعل ہمارا اختیار ی ہے۔