2۔ آ یات کس شخص کے بار ے میں نازل ہو ئیں ؟
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ۵۰قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ ۵۱يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ ۵۲أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ ۵۳قَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ ۵۴فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ ۵۵قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ ۵۶وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ ۵۷أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ ۵۸إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ۵۹إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۶۰لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ ۶۱
پھر ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال کریں گے. تو ان میں کا ایک کہے گا کہ دار دنیا میں ہمارا ایک ساتھی بھی تھا. وہ کہا کرتا تھا کہ کیاتم بھی قیامت کی تصدیق کرنے والوں میں ہو. کیا جب مرکر مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا. کیا تم لوگ بھی اسے دیکھو گے. یہ کہہ کہ نگاہ ڈالی تو اسے بیچ جہّنم میں دیکھا. کہا کہ خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے بھی ہلاک کردیتا. اور میرے پروردگار کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی یہیں حاضر کردیا جاتا. کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم اب مرنے والے نہیں ہیں. سوائے پہلی موت کے اور ہم پر عذاب ہونے والا بھی نہیں ہے. یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہے. اسی دن کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے.
بعض مفسّرین نے ان آیات کے بار ے میں کئی شان نزول نقل کیے ہیں ان کے مطابق یہ آ یات ان دو افراد کی طرف اشارہ کررہی ہیں جن کا ذکر سورہ ٴ کہف میں ایک مثال کے طور پر کیاگیا ہے جہاں قرآن فر ماتاہے :
وَ اضْرِبْ لَہُمْ مَثَلاً رَجُلَیْنِ جَعَلْنا لِاٴَحَدِہِما جَنَّتَیْنِ مِنْ اٴَعْنابٍ وَ حَفَفْناہُما بِنَخْلٍ وَ جَعَلْنا بَیْنَہُما زَرْعاً ...
ان کے لیے مثال بیان کی : ان دومَردوں کی داستان،جن میں سے ایک کے لیے ہم نے انواع واقسام کے انگور وں کاباغ قرار دیاتھا جس کے گر د اگرد کھجور کے درخت تھے اور دونوں کے درمیان پُر برکت زراعت ہوتی تھی ... ( کہف ۳۲ تا ۴۳) ۔
ان آیات میں یہ بیان ہواہے کہ ان دونوں آدمیوں میں سے ایک شخص بہت ہی خود خواہ ،مغرور،کم ظرف اور منکر معاد تھا ۔
دوسرا مومن اور قیامت کامعتقدتھا . بالا آخر وہ بے ایمان مغرور شخص اس جہان میں بھی خدا ئی عذاب میں گرفتار ہو ااوراس کاسارامال و سرمایہ تباء و برباد ہوگیا ( 1) ۔
لیکن زیربحث آیات کالب و لہجہ سور ہٴ کہف کی آ یات کے ساتھ ہرگز ہم آہنگ نہیں ہے اور یہ آیات کوئی علیحدہ داستان بیان کررہی ہے۔
بعض دوسرے مفسرین اسے دوشریک کار یا دوستوں سے متعلق جانتے ہیں . وہ دونوں ہی دولت مند تھے . ایک نے راہ ِ خدا میں بہت زیادہ خرچ کیااوردوسر ے نے بُخل کی. وہ ان باتون کامعتقد نہیں تھا . کچھ مدّت کے بعد خرچ کرنے والا آدمی محتاج ہوگیا تو اس کے دوست نے اسے سرزنش کی اور بُر ابھلا کہا اور مذاق کے طور پر کہا :
ء انک لمن الصداقین
کیاتو راہِ خُدا میں انفاق کرتاہے ( 2) ۔
لیکن یہ شان ِ نزول اس با ت پر موقوف ہے کہ ہم زیر بحث آیات میں ”مصد قین “ کے ” صاد “ کوتشدید کے ساتھ پڑ ھیں تاکہ اس کاتعلّق انفاق اورصدقہ دینے سے ہوجائے ۔
جبکہ ” مصدقین “ کی مشہور قراء ت ” صاد “ کی تشدید کے بغیر ہے . اس بنا پر مذ کورہ شان ِ نزول مشہور قراء ت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔
1۔تفسیر فخرازی،جلد ۲۶ ،ص ۱۳۹۔
2۔روح المعانی جلد ۲۳ ،ص ۸۳۔